| عنوان: | کوئی بھی شراب حلال نہیں اور سپریم کورٹ قاضی و مفتی نہیں (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد ظفر الدین برکاتی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
آج انسانیت، قومیت، قومی مفادات اور جمہوری روایات کی دہائی بڑی دی جا رہی ہے لیکن کبھی اس پہلو پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ بی ایس ایف (BSF) جیسے فوجی شعبوں میں ملازم مسلم نوجوانوں پر پے در پے مختلف قسم کے الزامات کیوں لگائے جا رہے ہیں اور برسوں ان کی عدالتی شنوائی نہیں ہو رہی ہے؟ ایسا تو نہیں کہ ان شعبوں کے مسلم نوجوانوں پر اس طرح کے الزامات لگا کر مسلمانوں کی شبیہ خراب کرنا چاہتے ہیں تاکہ بعد میں یہ کہنا مشکل نہ رہے کہ ان شعبوں میں بھروسے کی ضرورت ہے اور مسلم نوجوانوں میں بھروسہ نہیں رہا، اس لئے ان میں اب ان کی بھرتی نہیں ہوگی۔ اگر ایسا ہے جیسا کہ خبریں آنے لگی ہیں تو پھر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بی جے پی نے آر ایس ایس کے ایجنڈے کو کس طرح عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا ہے اور بھارت کے مستقبل کو کس رخ پہ ڈالنا چاہتی ہے۔ صدر جمہوریہ صاحب کو ان حقائق پر اپنی ناصحانہ تقریر کا موضوع بنانا چاہئے اور صاف گوئی کے ساتھ واضح کرنا چاہئے کہ ”یہ بات من میں“ کیوں نہیں آتی؟
ہمارے دیش میں آج رواداری، انسانیت اور قومی یک جہتی پر صدر جمہوریہ، ان کے دباؤ میں وزیر اعظم ہند، مرکزی وزیر داخلہ اور اپوزیشن کے اکثر سیاست دانوں کے بیانات آچکے ہیں اور عدم رواداری کے بڑھتے رجحانات پر مثبت و منفی بحث بھی ہو چکی ہے اور نومنتخب چیف جسٹس آف انڈیا نے عدم رواداری کے خطرات سے دو مرتبہ سیاست دانوں، سیاسی گلیاروں میں بیٹھے نوکر شاہوں اور بی جے پی کے مکھیوں کو آگاہ کیا ہے لیکن اسی دوران ہندو مہا سبھا کے ایک بد زبان لیڈر کملیش تیواری نے محسن انسانیت ﷺ کی شان میں گستاخانہ جملے استعمال کر کے جس طرح رواداری کا خون کیا ہے، اس سے آج پورا دیش غم اور غصے کی آگ میں جل رہا ہے اور تکلیف کی کیفیت یہ ہے کہ بار بار ہندو مہا سبھا کا نام آنے کے بعد اس کے قومی صدر سوامی چکرپانی نے کملیش کو سخت سزا دیے جانے کی وکالت کی ہے اور کہا ہے کہ ہندوستان سبھی کا ملک ہے اور کسی کو بھی کسی کے مذہبی رہنما کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کی اجازت نہیں۔
اس وقت جناب اعظم خان کی ہدایت کے لئے بھی اجتماعی دعا کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ صاحب پچھلے چند مہینوں سے آگ لگا کر کنارے ہٹ جاتے ہیں اور مسلمان صفائی دیتے ہیں بلکہ دفاعی اور جوابی پوزیشن میں آجاتے ہیں۔ کملیش نے بھی ہمارے پیغمبر ﷺ کی شان میں اعظم خان کے جواب میں ہی گستاخی کی جرات و جسارت کی ہے اور آپ سب دیکھ رہے ہیں کہ پورے دیش میں مسلمان احتجاج کر رہے ہیں اور اس کی سزا و گرفتاری کے مطالبے کر رہے ہیں لیکن آر ایس ایس کے خلاف بیان بازی کے نتیجے میں کملیش نے جس دن گستاخی کی جسارت کی ہے، اسی دن سے منظر نامے سے غائب ہیں۔ بہر حال اب ہماری ذمہ داری ہے کہ سب کو سبق سکھانے کا طریقہ اپنائیں، گستاخ کملیش تیواری کو قرار واقعی سزا دلوانے کی سیاسی، سماجی کوشش اور قانونی چارہ جوئی کریں۔
ہم دعویدار ہیں کہ ہم عاشقان رسول ہیں اور ”خواجہ کا دامن نہیں چھوڑیں گے“ کا نعرہ بھی لگاتے ہیں اور ہندوستان میں ناموسِ رسالت کی حفاظت اور تحفظ کا مسئلہ خواجہ غریب نواز کا مشن اور توہینِ رسالت کے خلاف سراپا احتجاج بن جانا خواجہ غریب نواز کی موروثی روایت ہے، اس لئے یہ ہمارے دیش کے ہر مسلمان کا ذاتی اور اجتماعی مسئلہ ہونے کے ساتھ ”سلطان الہند کا مشن“ ہونے کی وجہ سے قومی مسئلہ بھی ہو گیا۔ اب جس سے رواداری کا خون ہونے لگے، اس کا آپریشن بھی قومی مسئلہ بن جاتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم سب اس پیغام اور حقیقت کو صدر جمہوریہ، اربابِ اقتدار، قومی و صوبائی انتظامیہ اور ملتِ اسلامیہ تک ضرور پہنچائیں گے اور اپنی سچی محبت کا حق ادا کریں گے۔
دہشت گردی صرف حملہ کرنے اور ہلہ بولنے کا نام نہیں بلکہ کسی بھی طرح دوسروں کو پریشان کرنا دہشت گردی ہے اور ہم ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف ہیں، یہ بات مودی جی نے کئی بار کہی ہے اور ایک مرتبہ اپنے ”من کی بات“ میں ہندوستانی عوام کو ٹولرینس، تحمل، رواداری اور مخلوقِ خدا کی ہمدردی کرنے کی نصیحت بھی کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم پہلے ہندوستانی ہیں، اس کے بعد ہم ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی ہیں۔ دہشت گردی صرف جسمانی نہیں بلکہ کسی طرح بھی دوسرے کو خوف و دہشت میں مبتلا کرنا دہشت گردی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دہشت گردی ایک وبا ہے جس کو مذہب سے جوڑ کر دیکھنا غلط ہے۔ یہ سب باتیں انہوں نے کئی جلسوں اور تقریروں میں کہی ہیں لیکن آج ملک کے حالات دیکھ کر اندازہ ہو رہا ہے کہ یہ سب مسلمانوں اور سیکولر مزاج ہندوستانی عوام کی زبان بند کرنے اور اُن کی حمایت و ہمدردی حاصل کرنے کے لئے کہی ہیں تاکہ ان کی سرپرستی میں انتہا پسند ہندوتو شر و فساد کا جو ماحول تیار کیے جا رہے ہیں، لوگوں کا ذہن ان کی طرف سے ہٹ جائے اور یہ احساس نہ ہو کہ ان کی انھیں حمایت حاصل ہے مگر بات کب تک چھپے گی اور کب تک ان کی منافقت پردے میں رہے گی۔
انھوں نے ”من کی بات“ میں اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ جو شخص اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو، وہ کبھی دہشت گرد نہیں ہو سکتا لیکن آج جہاں بھی ان کے ساتھ امت شاہ جی کا دورہ ہونے والا ہوتا ہے، وہاں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری شروع ہو جاتی ہے، یہ کیا ہے؟ مودی جی کے پاس ایسی کوئی مثال ہے کہ کوئی مسلمان ہندوستانی فوج میں ہو، پھر ریٹائرمنٹ کے بعد خطرناک ہتھیار چلانے اور بندوق و بم چلانے کی تربیت دے رہا ہو؟ جب کہ ان کی معلومات میں ہی کرنل پروہت جیسے ہندو ہیں جو باضابطہ ہندو سماج کے بچوں اور نوجوانوں کی فوجی تربیت کرتے ہیں۔ ہندوستانی فوج کے مقابل ایک دوسری فوج کی تربیت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ بہت پہلے سے مسئلہ بنا ہوا ہے اور سوال کھڑا ہے جس کا جواب نہیں ملا لیکن دیش دروہی کے جرم میں گرفتار جن سنگھی آپ کے آشیرواد سے آپ کے سماج کی خدمت کر رہے ہیں تو انھیں آپ دیش بھکت کہتے اور سرکاری تحفظ فراہم کرتے ہیں لیکن جو مسلمان آئینِ ہند میں دیے گئے اپنے حق کی بات کرتا ہے، آرٹی آئی کے ذریعہ ضروری معلومات حاصل کرتا ہے، اسے گرفتار کرا لیتے ہیں۔ یہ کون سا قانون ہے اور یہ کیسی قانون کی رکھوالی ہے؟ اس سے نہیں لگتا کہ آپ صرف اپنے سماج کے پردھان منتری ہیں؟
