Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

طلاق ثلاثہ کا اسلامی تصور (قسط: اول)|مفتی محمد نظام الدین رضوی

طلاق ثلاثہ کا اسلامی تصور (قسط: اول)
عنوان: طلاق ثلاثہ کا اسلامی تصور (قسط: اول)
تحریر: مفتی محمد نظام الدین رضوی
پیش کش: صوفیہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ٱلطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ [سورة البقرة: 229]

ترجمہ: طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا۔ [سورۃ البقرہ: 229]

اس کے بعد آیت ۲۳۰ میں فرمایا گیا:

فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ [سورة البقرة: 230]

یعنی پھر اگر شوہر نے اسے (تیسری) طلاق دے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ دوسرے شوہر کے پاس رہے۔ [سورۃ البقرہ: 230]

ان آیات میں تینوں طلاقوں کا حکم بیان کیا گیا ہے: ایک اور دو طلاق تک شوہر کو رجعت کا اختیار ہے، چاہے تو عورت کو واپس کر لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔ تیسری طلاق کے بعد رجعت کا اختیار نہ رہے گا اور عورت بغیر حلالہ کے اس کے لیے حلال نہ ہوگی۔

حکم تینوں طلاق کا بیان کر دیا گیا، لیکن کسی بھی طلاق کے ساتھ یہ شرط نہیں ذکر کی گئی کہ وہ الگ مجلس میں ہو، بلکہ ان احکام کو مطلق، بلا شرط و قید رکھا اور قاعدہ یہ ہے کہ مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوتا ہے۔ لہٰذا قرآن حکیم میں ہر طلاق کا جو حکم بیان کیا گیا ہے وہ بہرحال جاری ہوگا، خواہ شوہر نے ایک ہی مجلس میں دوسری یا تیسری طلاق دی ہو یا الگ الگ مجلس میں۔ ہاں اگر قرآن پاک میں یہ ہوتا: “فَإِنْ طَلَّقَهَا فِي مَجْلِسٍ آخَرَ” (اگر تیسری طلاق الگ مجلس میں دے دی) تو مجلس کی شرط قابل اعتناء ہوتی لیکن قرآن حکیم میں ایسا کہیں بھی نہیں اس لیے یہ شرط قرآن پر زیادتی ہے۔

علاوہ ازیں عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ “فاء” تعقیب مع الفور کے لیے ہے یعنی جس چیز پر فاء داخل ہوتی ہے وہ چیز فاء کے ماقبل کے بعد فوراً ہوتی ہے، جیسے کسی نے کہا “جَاءَنِي زَيْدٌ فَعَمْرٌو” آیا زید پھر عمرو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عمرو زید کے بعد فوراً آیا اور اگر آنے میں کچھ دیر ہو تو عرب فاء کی جگہ “ثُمَّ” لاتے ہیں۔ قرآن حکیم میں تیسری طلاق کا ذکر “ثُمَّ” کے لفظ سے نہیں، بلکہ فاء کے لفظ سے ہے، تو اس کا صریح مطلب یہ ہوا کہ دو طلاق کے بعد اگر اسی مجلس میں فوراً بلا تاخیر تیسری طلاق دے دی تو یہ طلاق بھی نافذ ہو جائے گی کہ فوراً کا لفظ اسی وقت صادق آئے گا جب کہ مجلس ایک ہو، اصول فقہ کی مشہور کتاب “منار” اور “نور الانوار” میں ہے:

وَالْفَاءُ لِلْوَصْلِ وَالتَّعْقِيبِ، أَيْ لِكَوْنِ الْمَعْطُوفِ مَوْصُولًا بِالْمَعْطُوفِ عَلَيْهِ مُتَعَقِّبًا لَهُ بِلَا مُهْلَةٍ فَيَتَرَاخَى الْمَعْطُوفُ عَنِ الْمَعْطُوفِ عَلَيْهِ بِزَمَانٍ، وَإِنْ قَلَّ ذٰلِكَ الزَّمَانُ بِحَيْثُ لَا يُدْرَكُ إِذْ لَوْ لَمْ يَكُنِ الزَّمَانُ فَاصِلًا أَصْلًا كَانَ مُقَارِنًا تُسْتَعْمَلُ فِيهِ كَلِمَةُ مَعَ. [نور الأنوار، ص: 123]

حرف فاء تعقیب مع الوصل کے لیے ہے یعنی یہ بتانے کے لیے ہے کہ معطوف، معطوف علیہ کے بعد ہے اور ساتھ ہی بلا مہلت اس سے متصل بھی ہے، تو معطوف کا زمانہ معطوف علیہ کے بعد ہوگا، اگرچہ وہ زمانہ اتنا کم ہو کہ اس کا احساس نہ ہو سکے، کیوں کہ اگر زمانہ بالکل ہی فاصل نہ ہو تو مقارن ہوگا اور مقارنت بتانے کے لیے “مع” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

غیر مقلدوں کے نزدیک بھی حرف فاء کا یہی مفہوم ہے۔ چنانچہ ان کے امام مجتہد ملا نذیر حسین دہلوی نے اپنی کتاب “معیار الحق” کے آخر میں جمع بین الصلاتین کی بحث میں یہ لکھا ہے: “فاء ترتیب بے مہلت کے لیے ہے۔”

یہ قرآن حکیم کا اعجاز ہے کہ کتاب و سنت کا نام لے کر جو فتنہ قرب قیامت میں اٹھایا جانے والا تھا اس کا سد باب اس نے اپنے نظم بیان کے ذریعہ تنزیل کے وقت ہی فرما دیا۔

صحاح ستہ کی مشہور کتاب “سنن ابن ماجہ شریف” میں ایک باب ہے “بَابُ مَنْ طَلَّقَ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ” ایک مجلس میں تین طلاق کا بیان۔

پھر اس کے تحت یہ حدیث نقل کی ہے: حضرت عامر شعبی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ بنت قیس سے کہا کہ آپ مجھے اپنی طلاق کا واقعہ بتائیں، تو انہوں نے کہا:

طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا، وَهُوَ خَارِجٌ إِلَى الْيَمَنِ، فَأَجَازَ ذٰلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. [سنن ابن ماجه، ص: 147]

ترجمہ: میرے شوہر نے یمن کے لیے (گھر سے) نکلتے وقت مجھے تین طلاق دے دیں، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں طلاق نافذ فرما دیں۔ [سنن ابن ماجہ، ص: 147]

“یمن کو نکلتے وقت تین طلاق دینے” کے لفظ سے عیاں ہو رہا ہے کہ فاطمہ بنت قیس کے شوہر نے ایک ہی مجلس میں تینوں طلاق دی تھی، اس کی تائید اسی حدیث کی دوسری روایت سے ہوتی ہے، جسے حدیث کی مستند کتاب “سنن دار قطنی” میں ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے:

إِنَّ حَفْصَ بْنَ الْمُغِيرَةِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ فِي كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ فَأَبَانَهَا مِنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. [سنن الدارقطني، ج: 2، ص: 230]

ترجمہ: حفص بن مغیرہ نے اپنی بیوی فاطمہ بنت قیس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ہی جملہ میں تین طلاق دے دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔ [سنن دار قطنی، ج: 2، ص: 230]

حدیث پاک کی دونوں روایتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک ہی مجلس میں اور ایک ہی جملہ میں دی گئی تین طلاقوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نافذ کر دیا، یہی وجہ ہے کہ محدث ابن ماجہ نے اس حدیث کو “ایک مجلس میں تین طلاق” کے عنوان کے تحت نقل کیا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!