| عنوان: | قرآن کریم کی دعوت و فکر و تدبر (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | راشد علی مدنی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
قرآن کریم ایک عظیم کتاب ہدایت ہے جو ہر طرح کے شک و شبہ، اعتراض، کجی، نقص سے پاک ہے۔ اس کے دعوے، اس کے چیلنجز، اس کی خبریں، اس کی اثر انگیزی اس کے نزول کے اول دن سے آج تک قائم ہیں۔
قرآن کریم کے تربیت و تعلیم کے اسالیب میں سے ایک بہت اہم اسلوب تفکر و تدبر کی دعوت ہے۔
یہ دعوت کہیں ﴿لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ﴾ کے الفاظ سے ہے تو کہیں ﴿لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ﴾ کے الفاظ سے ہے، کہیں ﴿لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ﴾ کے ذریعے دعوتِ تفکر دی گئی ہے تو کہیں ﴿لِيَدَّبَّرُوْا﴾ فرمایا ہے۔ یونہی کئی مقامات پر نزولِ قرآن کا مقصد ہی “غور و فکر اور تدبر” ارشاد فرمایا ہے۔
قرآن کریم نے قدرتِ باری تعالیٰ، زمین و آسمان کی تخلیق، کائنات کے مختلف مظاہر، بارش، کھیتی، تخلیق انسان، تخلیق جبال، قرآنِ پاک، آیاتِ الٰہیہ اور دیگر کئی چیزوں میں غور و فکر کی دعوت دی ہے۔ آئیے! ذیل میں تفکر و تدبر کی اس دعوت کے چند پہلو ملاحظہ کرتے ہیں:
قرآن کریم عربی میں نازل فرمانے کی حکمت
قرآن کریم عرب خطے میں نازل ہوا، یوں اس کے اولین مخاطب اہل عرب اور بالعموم ساری دنیا اس کی مخاطب ہے۔ اولین مخاطبین کے لحاظ سے قرآن کریم کے عربی میں نازل ہونے کی ایک حکمت یہ ارشاد فرمائی گئی کہ تم اسے سمجھو اور عقل سے کام لو چنانچہ
پارہ ۱۲ میں فرمایا:
إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو۔ [۱]
تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کو عربی زبان میں نازل فرمایا کیونکہ عربی زبان سب زبانوں سے زیادہ فصیح ہے اور جنت میں جنتیوں کی زبان بھی عربی ہو گی اور اسے عربی میں نازل کرنے کی ایک حکمت یہ ہے کہ تم اس کے معنی سمجھ کر ان میں غور و فکر کرو اور یہ بھی جان لو کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ [۲]
اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کا مسلمانوں پر ایک حق یہ بھی ہے کہ وہ اسے سمجھیں اور اس میں غور و فکر کریں اور اسے سمجھنے کے لیے عربی زبان پر عبور ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ کلام عربی زبان میں نازل ہوا ہے اس لیے جو لوگ عربی زبان سے ناواقف ہیں یا جنہیں عربی زبان پر عبور حاصل نہیں تو انہیں چاہیے کہ اہلِ حق کے مُسْتَنَد علما کے تراجم اور ان کی تفاسیر کا مطالعہ فرمائیں تاکہ وہ قرآنِ مجید کو سمجھ سکیں۔ افسوس! فی زمانہ مسلمانوں کی کثیر تعداد قرآنِ مجید کو سمجھنے اور اس میں غور و فکر کرنے سے بہت دور ہو چکی ہے، اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت عطا فرمائے۔ عربی کا سیکھنا بحیثیت مجموعی اُمتِ مسلمہ کے لیے فرضِ کفایہ ہے۔
اسی طرح دیگر کئی آیات میں قرآن کریم کے عربی میں نزول کی حکمت “اسے سمجھنا اور غور و فکر کرنا” فرمایا گیا چنانچہ
پارہ ۱۶ میں فرمایا:
وَكَذَلِكَ أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا وَصَرَّفْنَا فِيهِ مِنَ الْوَعِيدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ أَوْ يُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا
ترجمۂ کنز الایمان: اور یونہی ہم نے اسے عربی قرآن اتارا اور اس میں طرح طرح سے عذاب کے وعدے دیے کہ کہیں انہیں ڈر ہو یا ان کے دل میں کچھ سوچ پیدا کرے۔ [۳]
صراط الجنان میں ہے کہ اس آیت میں قرآن مجید کی دو صفات بیان کی گئیں:
-
قرآن کریم کو عربی زبان میں نازل کیا گیا، تاکہ اہلِ عرب اسے سمجھ سکیں اور وہ اس بات سے واقف ہو جائیں کہ قرآن پاک کی نظم عاجز کر دینے والی ہے اور یہ کسی انسان کا کلام نہیں۔
-
قرآن مجید میں مختلف انداز سے فرائض چھوڑنے اور ممنوعات کا اِرتکاب کرنے پر عذاب کی وَعیدیں بیان کی گئیں تاکہ لوگ ڈریں اور قرآن عظیم ان کے دل میں کچھ نصیحت اور غور و فکر پیدا کرے جس سے انہیں نیکیوں کی رغبت اور بدیوں سے نفرت ہو اور وہ عبرت و نصیحت حاصل کریں۔ [۴]
پارہ ۲۳ میں فرمایا:
قُرْآنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
ترجمۂ کنز الایمان: عربی زبان کا قرآن جس میں اصلاً کجی نہیں کہ کہیں وہ ڈریں۔ [۵]
یعنی قرآنِ کریم کو ایسا فصیح اتارا کہ جس نے فصحاء و بلغاء کو عاجز کر دیا اور یہ تناقص و اختلاف سے پاک ہے پس یہ لوگ اس میں غور کریں اور کفر و تکذیب سے باز آئیں۔ [۶]
پارہ ۲۴ میں فرمایا:
كِتَابٌ فُصِّلَتْ آيَاتُهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
ترجمۂ کنز الایمان: ایک کتاب ہے جس کی آیتیں مفصل فرمائی گئیں عربی قرآن عقل والوں کے لیے۔ [۷]
اس آیت میں قرآن کریم کے پانچ اَوصاف بیان کیے گئے ہیں جو سب کے سب غور و فکر سے تعلق رکھتے ہیں چنانچہ
-
یہ کلام ایک کتاب ہے۔ کتاب اسے کہتے ہیں جو کئی مضامین کی جامع ہو اور قرآن کریم چونکہ اَوَّلین و آخرین کے علوم کا جامع ہے اس لیے اسے کتاب فرمایا گیا۔
-
اس کلام کی آیتیں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔ یعنی قرآنِ پاک کی آیتیں مختلف اقسام کی ہیں جن میں احکام، مثالوں، وعظ و نصیحت، وعدہ اور وعید وغیرہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
-
یہ کلام قرآن ہے۔ یہ ایسا کلام ہے جسے دنیا میں سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے اور اس کی آیتیں باہم مربوط اور ملی ہوئی ہیں، نیز یہ بندوں کو خدا سے ملا دیتا ہے۔
-
اس کلام کی زبان عربی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عربی زبان بہت فضیلت اور اہمیت کی حامل ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن مجید کا ترجمہ قرآن نہیں لہٰذا نماز میں ترجمہ پڑھ لینے سے نماز نہ ہو گی۔
-
قرآن مجید کا عربی میں ہونا ان لوگوں کے لیے ہے جن کی زبان عربی ہے تاکہ وہ اس کے معانی کو سمجھ سکیں۔ ایک تفسیر کے اعتبار سے اس آیت میں قرآن مجید کی پانچویں صفت یہ ہے کہ اس کی آیتیں عرب والوں کے لیے تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔ اہلِ عرب کا بطورِ خاص اس لیے ذکر کیا گیا کہ وہ ہم زبان ہونے کی وجہ سے اس کے معانی کو کسی واسطے کے بغیر سمجھ سکتے ہیں جبکہ دیگر زبانوں سے تعلق رکھنے والوں کو قرآن کریم کے معانی سمجھنے کے لیے واسطے کی حاجت ہے۔ [۸]
اسی طرح پارہ ۲۵ میں فرمایا:
إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو۔ [۹]
اور پارہ ۲۶ میں فرمایا:
وَهَذَا كِتَابٌ مُصَدِّقٌ لِسَانًا عَرَبِيًّا لِيُنْذِرَ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَبُشْرَى لِلْمُحْسِنِينَ
ترجمۂ کنز الایمان: اور یہ کتاب ہے تصدیق فرماتی عربی زبان میں کہ ظالموں کو ڈر سنائے اور نیکیوں کو بشارت۔ [۱۰]
