Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

طلاق کی تفہیم اور ہماری عدالت (قسط دوم)

طلاق کی تفہیم اور ہماری عدالت (قسط دوم)
عنوان: طلاق کی تفہیم اور ہماری عدالت (قسط دوم)
تحریر: عبد الرحیم قریشی
پیش کش: صبرین فاطمہ رضویہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی


ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ان فیصلوں کی روشنی میں کچھ سوالات ابھرتے ہیں جن کے بارے میں علمائے کرام کو غور کر کے بورڈ کے لیگل سیل اور اس کے کنوینرز کی رہنمائی کرنی ہوگی:

(1) کیا طلاق دینے کی وجہ یا سبب کا ظاہر کرنا اور اس سبب کا معقول ہونا ضروری نہیں ہے؟
(اس سوال کا حضراتِ علما جو جواب دیں گے ان کے علاوہ ایک معقول جواب جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ شریعتِ اسلامی مطلقہ عورت کی آئندہ کسی دوسرے مرد کے ساتھ ازدواجی زندگی کا دروازہ بند نہیں کرتی۔ شوہر اور بیوی کے درمیان تعلقات اتنے گہرے اور اتنے قریبی نوعیت کے ہوتے ہیں کہ ان کے کئی پہلوؤں سے کوئی تیسرا شخص واقف نہیں ہو سکتا۔ زن و شوہر کے تعلقات کی کسی ایسی بات کا اظہار عورت کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے اور اس کے دوسرے نکاح کے لیے رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اس لیے طلاق کے سبب کا ظاہر نہ کرنا عورت ہی کے مفاد میں ہے۔)

(2) کیا طلاق شقاق کے بغیر بھی واقع ہوتی ہے؟ یا شقاق کے سلسلے میں قرآن کی سورۂ نساء کی آیت نمبر 35 میں جو حکم ہے اس کی تعمیل ضروری کیوں نہیں ہے؟

(3) شریعتِ اسلامی کا اور کوئی حکم ایسا موجود ہے جس میں قرآنِ کریم کے کسی واضح حکم کو نظر انداز کر دیا گیا ہے؟

(4) کیا طلاق کا اعلان ضروری ہے؟ متعلقہ عورت کو طلاق بغیر اطلاع دی جائے تو کیا طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

(5) اگر عورت کو طلاق دینے کی اطلاع دینا ضروری نہیں ہے تو اس کی شریعتِ اسلامی میں کیا مصلحتیں بتائی گئی ہیں؟ کیونکہ یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ جس سے اس عورت کی حیثیت اور حقوق ختم ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں معقولیت تو اس میں یہ نظر آتی ہے کہ اس سے واقف کرایا جائے اور اس کی اطلاع دی جائے۔

پرسنل لاء کا اطلاق اور عدالت عظمیٰ کا اصول

شریعتِ اسلامی کے ان موضوعات پر احکامات کو بیان کرنے کے سلسلے میں یہ بات بھی سامنے رہے کہ سپریم کورٹ اس اصول کو تسلیم کر چکا ہے کہ کسی مسئلہ پر پرسنل لاء کے اطلاق کے بارے میں کسی جج کو جدید دور کے اپنے تصورات کو داخل نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس پرسنل لاء کے اصل ذرائع و سرچشموں سے جو قانون اخذ ہوتا ہے اس کے مطابق فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ بہت ہی مشہور کیس "کرشنا بنام متھرا آبیر و دیگر" میں دیا ہے۔ اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ:

"فریقین کے پرسنل لاء کے اطلاق میں کوئی جج ماڈرن زمانے کے اپنے تصورات کو داخل نہیں کر سکتا، مگر اس کو اس قانون کا نفاذ کرنا چاہیے جو مسلمہ اور مستند منابع سے اخذ کیا گیا ہو۔ جیسے ہندو لاء میں شروتیوں اور ان کی تفسیریں جن کی تشریح مختلف ہائی کورٹ میں فیصلوں میں کی گئی ہے۔ بجز ان معاملات کے جہاں ایسے قانون کو عمل درآمد یا رواج نے تبدیل کر دیا ہو یا ملکی قانون نے بدل دیا ہو یا منسوخ کر دیا ہو۔"

احکامات کی شرعی بنیادیں اور مصلحتیں

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی روشنی میں شریعت کے احکامات کی ان بنیادوں کو واضح کرنا ضروری ہوگا جو قرآنی آیات اور احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر مبنی ہیں، اس کے علاوہ ان احکامات کی معقولیت اور مصلحتوں کی وضاحت ضروری ہے کیوں کہ جس میں معقولیت نظر نہ آئے، ان کو عدالت کی جانب سے تسلیم کیا جانا دشوار بلکہ ناممکن ہے۔ مثلاً یہ کہ طلاق دے دی گئی اور مطلقہ عورت کو اس کی اطلاع نہیں پہنچائی گئی، یہ بات معقولیت کے خلاف معلوم ہوتی ہے اور اگر اس میں کوئی شرعی مصلحت ہے تو اس مصلحت کی معقولیت کو واضح کرنا ضروری ہوگا۔

عہدِ حاضر کے تقاضے اور علمائے کرام کی ذمہ داری

علمائے کرام ان مسائل پر غور کرتے وقت یہ بات بھی پیشِ نظر رکھیں کہ ہمارے مختلف احکامات اس دور میں مستنبط ہوئے ہیں جب کہ خلافتِ عباسیہ دنیا کے نقشے پر ایک طاقتور ترین حکومت کے طور پر ابھر چکی تھی اور اس مسلم معاشرے میں طلاق عورت کے لیے عیب تصور نہیں کیا جاتا تھا۔ کوئی بالغ عورت بے شوہر نہیں رہتی تھی، مطلقہ ہو کہ بیوہ، عدت کے ختم ہوتے ہی دوسرا شوہر مل جاتا تھا۔ اس طرح کوئی عورت بے سہارا نہیں رہتی تھی۔

آج کی صورتِ حال اس سے بالکل مختلف ہے۔ طلاق کو عیب سمجھا جاتا ہے، ایک مطلقہ عورت کے لیے دوسرا نکاح بہت دشوار ہو جاتا ہے اور اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ غریب اور مفلس خاندانوں کی مطلقہ لڑکیاں واقعی بے سہارا ہو جاتی ہیں۔ ایسی صورت میں وہ احکامات جنہیں ہمارے فقہائے کرام نے زمانے کی رعایت کرتے ہوئے مرتب کیا ہے، ان پر غور کرتے وقت اس پہلو کو پیش نظر رکھا جائے کیوں کہ سپریم کورٹ کے محولہ بالا فیصلے کی روشنی میں ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ شریعت کے احکام کو قرآنی آیات اور احادیث نبوی ﷺ کی بنیادوں پر عدالتوں کے سامنے پیش کریں۔ اس لیے مناسب ہوگا کہ علمائے کرام کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو سوالات کا معقول انداز میں جواب مرتب کرے تاکہ اگر ماہرین قانون شریعت سے متصادم فیصلوں پر مکرر غور کے لیے کسی عدالتی چارہ کار کی شکل نکالتے ہیں تو ان کو ہمارا مقصد پیش کرنے میں مواد اور مدلل رہنمائی مل سکے۔

مطلقہ کا نفقہ اور قانونی لائحہ عمل

دوسرا مسئلہ مطلقہ کے نفقہ کا ہے جس میں سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کے اجلاس نے فیصلہ کیا کہ نادار مطلقہ، عقد ثانی یا تاحیات نفقہ پانے کی مستحق ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ قانونی اعتبار سے بھی درست نہیں معلوم ہوتا کیوں کہ 'مسلم مطلقہ خاتون کے حقوق کا قانون بابت 1984ء' ایک نادار مطلقہ کی کفالت کا انتظام کرتا ہے اور آخری صورت میں عدالت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ ایسی عورت کے گزارہ کا انتظام وقف بورڈ کرے۔

اس فیصلے کو دوبارہ زیر بحث لانے کے لیے اب کیا تدبیر ہو سکتی ہے کہ کسی ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی بنیاد پر اپنا فیصلہ دیا ہو تو اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل داخل کرائی جائے اور اس میں سپریم کورٹ کے "دانیال لطیفی کیس" کے فیصلے کو زیر بحث لانے کی کوشش کی جائے۔ اس کے علاوہ اور طریقہ کار کیا ہو سکتے ہیں اس کے لیے ماہرین قانون سے رائے لینا بہتر ہوگا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!