| عنوان: | مراقبہ کی اہمیت و فضیلت (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد پرویز عالم ثقفی سعدی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
ہر عمل کے متعلق تین سوال
روایت میں آتا ہے کہ بندے کا عمل کتنا ہی چھوٹا ہو اس کے بارے میں تین سوالات کیے جائیں گے:
-
یہ عمل کیوں کیا؟
-
کیسے کیا؟
-
کس لیے کیا؟
مطلب یہ ہے کہ تو نے یہ کام کیوں کیا؟ اپنے رب تعالیٰ کا حکم سمجھ کر کیا یا خواہشِ نفس کی وجہ سے؟ اگر بندہ اس مرحلے میں کامیاب ہو گیا کہ اس کام کو رب تعالیٰ کا حکم سمجھ کر کیا تو دوسرا سوال ہوگا کہ کیسے کیا؟ کیونکہ ہر عمل میں اللہ عزوجل کی جانب سے کچھ شرائط و احکام ہوتے ہیں اور بغیر علم کے اس کی مقدار اور اوقات و اوصاف سے آگاہی ممکن نہیں لہٰذا اس سے سوال ہوگا کہ یہ عمل علمِ یقین کے ساتھ کیا یا جہالت اور گمان کے باعث کیا؟ اگر اس مرحلے میں بھی کامیاب رہا تو تیسرا سوال اخلاص کے بارے میں ہوگا کہ کس کے لیے عمل کیا؟ خالصۃً اللہ عزوجل کی رضا اور “لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ” پر عمل کرتے ہوئے کیا؟ اگر یہ صورت ہو تو بندے کا اجر اللہ عزوجل کے ذمہ کرم پر ہوگا اور اگر لوگوں کو دکھانے کے لیے کیا تو اجر بھی انہی سے طلب کرنے کا فرمایا جائے گا اور اگر دنیاوی نعمتیں حاصل کرنے کے لیے عمل کیا تو فرمایا جائے گا: تجھے اس کا اجر دنیاوی نعمتوں کی صورت میں ہم نے دے دیا۔ اگر غفلت اور بھول کے طور پر عمل کیا تو اجر بھی ضائع عمل بھی ضائع اور کوشش بھی برباد گئی۔ اگر غیرِ خدا کے لیے عمل کیا تو اللہ عزوجل کا عذاب اور ناراضی لازم ہو گئی اور اللہ عزوجل اس سے فرمائے گا: تو میرا بندہ تھا، میرا رزق کھاتا تھا اور میری نعمتوں سے نفع حاصل کرتا تھا پھر بھی تو نے دوسروں کے لیے عمل کیا۔ کیا تو نے میرے یہ فرمان نہ سنے تھے:
إِنَّ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوا عِندَ اللَّهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ [سورۃ العنکبوت: 17]
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک وہ جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہارے روزے کے کچھ مالک نہیں، تو اللہ کے پاس رزق ڈھونڈو اور اس کی بندگی کرو۔
تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو نے میری یہ بات بھی نہ سنی:
أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ [سورۃ الزمر: 3]
ترجمۂ کنز الایمان: ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے۔
جب بندہ اس بات کو سمجھ جاتا ہے کہ اسے اس طرح کے مختلف سوالات اور زبردست باز پرس کا سامنا کرنا پڑے گا تو وہ اپنے نفس کو ان سوالات کے ہونے سے پہلے ہی سوالات اور باز پرس کے لیے تیار کرتا ہے تاکہ درست جواب دے سکے۔ الغرض! ہر کام میں غور و فکر لازمی ہونا چاہیے خواہ وہ کام شروع کیا جائے یا دوبارہ کیا جائے یہاں تک کہ پلک اور انگلی کو بھی سوچ و بچار کے بعد حرکت دے۔
حسنِ اخلاق کے پیکر، محبوبِ ربِ اکبر صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: بے شک آدمی سے آنکھوں کے سرمے، انگلیوں سے مٹی کھرچنے اور اپنے بھائی کے کپڑوں کو چھونے کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔ [احیاء العلوم، ج: 5، ص: 333]
غور و فکر مراقبہ کے سلسلے میں پہلا مرحلہ ہے جس میں انسان پختہ علم، اعمال کے اسرار پر حقیقی معرفت اور نفس و شیطان کے مکر و فریب کی آگاہی سے ہی کامیاب ہو سکتا ہے۔ لہٰذا جب تک انسان اپنی ذات، اپنے رب، اپنے دشمن یعنی شیطان اور نفسانی خواہش کے موافق اشیاء کو جان نہ لے یا اپنی حرکات و سکنات، نیت و ارادے میں رب تعالیٰ کے نزدیک اچھی بری اشیاء کے درمیان فرق کو جان نہ لے اس وقت تک مراقبہ پر استقامت نہیں مل سکتی۔ بہت سے لوگ جہالت والے کاموں کو اچھا سمجھ کر ان میں پڑ جاتے ہیں حالانکہ اللہ عزوجل ان کاموں کو ناپسند فرما رہا ہوتا ہے۔
مراقبہ کی اہمیت
مدتوں سے لوگ مراقبہ کو ایک انتہائی پراسرار اور مشکل موضوع سمجھتے رہے ہیں، ہمیشہ بڑے بوڑھے اور فارغ لوگوں کو اس کا حقدار سمجھا جاتا رہا ہے۔ مراقبہ پر پوری دنیا میں سائنسی طریقہ کار کے تحت تجربات کر کے اخذ کر لیا گیا ہے کہ اس عمل سے انسانی ذہن اور جسم پر انتہائی اعلیٰ مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جس میں تعلیم و عمر کی کوئی قید نہیں، اب کوئی بوڑھا ہو یا جوان سبھی مراقبہ کے کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم و بیش پوری دنیا میں مراقبہ کی تربیتی کلاسز کا اجرا ہو چکا ہے، اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹر اپنے مریضوں کو روزانہ مراقبہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ مراقبہ جو پہلے وقتوں میں صرف مذہب کا حصہ سمجھا جاتا تھا اب دنیاوی پیش قدمی کے علاوہ روزمرہ مسائل کے حل کے لیے بھی مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ آج پوری دنیا میں ذہنی دباؤ کو کم کرنے اور ذہنی سکون حاصل کرنے کے لیے مراقبہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے اور اس کو آج کے وقت میں انتہائی میسر اعلیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔ جب زیادہ لوگ مراقبہ کی بدولت ذاتی شناسائی حاصل کرتے جائیں گے، ان کو کائنات کی سچائی اور اصلیت کا قرب حاصل ہوتا چلا جائے گا۔
ہر آدمی پر لازمی ہے (بالخصوص دورِ حاضر میں کہ لایعنی باتوں اور فضولیات میں بہت سے نوجوان، بوڑھے اور بچے اپنے اوقات گزار دیتے ہیں) کہ جب وہ کسی کام کا ارادہ یا عملاً سعی کرنا چاہے تو اپنے ارادے اور سعی سے پہلے اس میں غور و فکر کرے اور کچھ دیر توقف کرے یہاں تک کہ نورِ علم کے ذریعے واضح ہو جائے کہ یہ کام اللہ عزوجل کے لیے ہے تاکہ اسے کر لیا جائے یا نفسانی خواہش کو پورا کرنے کے لیے ہے تو اس سے بچا جائے اور دل کو اس میں غور و فکر کرنے سے بھی روکا جائے کیونکہ باطل کام میں مبتلا ہونے سے پہلے نفس کا احتساب نہ کیا جائے تو اس میں رغبت بڑھ جاتی ہے اور رغبت ارادے کو جنم دیتی ہے اور ارادہ عمل کا سبب بنتا ہے اور باطل عمل بربادی اور خدا تعالیٰ سے دوری کا سبب ہوتا ہے۔ اسی لیے شر کے مادے یعنی قلبی وسوسوں کو شروع ہی میں جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہیے کیونکہ دیگر امور اسی کی پیروی میں رونما ہوتے ہیں۔
اعمال میں مراقبہ کی صورت
بندہ عام طور پر تین طرح کے عمل: عبادت، گناہ اور مباح میں مصروف رہتا ہے۔ عبادت میں مصروف ہے تو اس کا مراقبہ اخلاص کے ساتھ پوری طرح تمام آداب سمیت اور آفات سے بچتے ہوئے عبادت کو بجالانے سے ہوگا اور اگر گناہ میں مصروف ہے تو مراقبہ کی صورت توبہ کرنا، نادم ہونا، باز آنا، حیا کرنا اور غور و فکر میں مشغول ہونا ہے اور اگر کسی مباح کام میں مصروف ہے تو اس صورت میں آداب کو ملحوظِ خاطر رکھنا اور نعمتوں کے ملنے پر اللہ عزوجل کا شکر ادا کرنا مراقبہ ہے۔ [سہ ماہی قلم، شمارہ: 6، ص: 23 تا 34]
