| عنوان: | مراقبہ کی اہمیت و فضیلت (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد پرویز عالم ثقفی سعدی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
پانچ چیزوں کے سبب جنت کا حصول
حضرت سیدنا ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا گیا کہ بندہ جنت کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ فرمایا: بندہ پانچ چیزوں سے جنت حاصل کر سکتا ہے:
-
ایسی استقامت جس میں ٹیڑھا پن نہ ہو
-
ایسی کوشش جس میں غفلت نہ ہو
-
ظاہر و باطن میں اللہ عزوجل کو اپنے سامنے دیکھنا
-
موت کی تیاری اور موت کا انتظار
-
حساب و کتاب سے قبل اپنے نفس کا احتساب کرنا
کسی شاعر نے کہا ہے:
إِذَا مَا خَلَوْتَ الدَّهْرَ يَوْماً فَلَا تَقُلْ
خَلَوْتُ وَلٰكِنْ قُلْ عَلَيَّ رَقِيبُ
وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ يَغْفُلُ سَاعَةً
وَلَا أَنَّ مَا تُخْفِيهِ عَنْهُ يَغِيبُ
أَلَمْ تَرَ أَنَّ الْيَوْمَ أَسْرَعُ ذَاهِبٍ
وَأَنَّ غَداً لِلنَّاظِرِينَ قَرِيبُ
ترجمہ: جب تو کسی دن تنہا ہو تو یہ نہ کہہ میں تنہا ہوں بلکہ یوں کہہ کہ اللہ عزوجل مجھے دیکھ رہا ہے۔ اللہ عزوجل کو ایک گھڑی بھی غافل نہ سمجھ اور نہ ہی یہ سمجھ کہ جو کچھ تو اس سے چھپائے گا وہ اس سے چھپ جائے گا۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ موجودہ دن کتنی تیزی سے گزر رہا ہے اور کل کا دن دیکھنے والوں کے قریب ہوتا جا رہا ہے۔ [احیاء العلوم، ج: 5، ص: 326]
مراقبہ کی حقیقت اور درجات
مقربین کی معرفتِ خداوندی
مراقبہ کی حقیقت اللہ عزوجل کا لحاظ کرنا اور اس کی طرف پوری طرح متوجہ ہونا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص کسی کے لحاظ کے باعث کوئی کام چھوڑ دے تو کہا جاتا ہے کہ وہ فلاں کا خیال اور لحاظ کرتا ہے۔ یعنی مراقبہ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جو معرفتِ خداوندی کا ثمرہ ہے جس کے سبب اعضاء اور دل میں کچھ اعمال پیدا ہوتے ہیں، ایسی کیفیت میں دل اللہ عزوجل کے احکام کا لحاظ کرتا ہے، اسی کی جانب مشغول رہتا ہے، اسی کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کی ذات کو پیش نظر رکھتا ہے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہے۔
اس کیفیت کا نتیجہ و ثمرہ معرفتِ خداوندی یعنی اس بات کا علم ہے کہ اللہ عزوجل دل کی باتوں پر مطلع ہے، پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے، بندوں کے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور ہر جان کے عمل سے واقف ہے۔ اس پر دل کا راز اس طرح عیاں ہے جیسے مخلوق کے لیے جسم کا ظاہری حصہ عیاں ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ عیاں ہے۔ جب اس طرح کی معرفت حاصل ہو جائے اور شک یقین میں بدل جائے تو یہ معرفت دل پر مکمل غلبہ حاصل کر لیتی ہے البتہ بہت ساری چیزوں کا علم یقینی ہوتا ہے لیکن پھر بھی ان کا دل پر غلبہ نہیں آتا جیسے موت کا علم۔ پھر جب دل پر معرفت کا غلبہ ہوگا تو دل رب تعالیٰ کی رعایت اور لحاظ کرنے کی طرف مائل ہوگا اور اس کی طرف اپنی توجہ رکھے گا۔
اس معرفت کے ذریعے یقین حاصل کرنے والوں کو مقربین کہتے ہیں۔
مقربین کی دو قسمیں ہیں:
-
صدیقین
-
اصحابِ یمین
لہٰذا ان مقربین حضرات کے مراقبہ کے بھی دو درجے قرار پائے۔
پہلا درجہ
اس سے مراد ان مقربین کا مراقبہ ہے جو صدیقین ہیں، یہ بڑی عظمت و بزرگی والا مراقبہ ہے۔ اس مراقبہ میں دل جلالِ الٰہی میں اس قدر مستغرق اور ہیبتِ الٰہی سے ایسا چور ہوتا ہے کہ کسی دوسری چیز کی طرف اس میں بالکل توجہ کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اور اس مراقبے کا تعلق فقط دل سے ہوتا ہے، اعضا سے نہیں۔ اعضا جائز کاموں کی طرف توجہ کرتے ہیں نہ ممنوعہ چیزوں کی طرف بلکہ یہ تو نیکیاں کرنے میں دل کے پابند ہوتے ہیں۔ اسی لیے اعضاء کو صحیح راستے پر قائم رکھنے کے لیے کسی تدبیر وغیرہ کی ضرورت نہیں پڑتی جیسا کہ نگران اگر درست راہ پر گامزن ہو تو ماتحت افراد بھی درست رہتے ہیں، دل بھی نگران ہے اگر یہ درست رہے اور اپنے معبود عزوجل کی طرف متوجہ رہے تو ماتحت یعنی اعضا خود بخود کسی دشواری کے بغیر درستی اور استقامت پر قائم رہتے ہیں۔
اس مرتبے والے شخص کا صرف ایک عزم و ارادہ ہوتا ہے اسی لیے اللہ عزوجل اسے باقی تمام فکروں سے بچائے رکھتا ہے اور اس درجے پر فائز شخص مخلوق سے اتنا بے خبر ہو جاتا ہے کہ آنکھیں کھلی رہنے اور قوتِ سماعت درست ہونے کے باوجود اسے آس پاس کی خبر ہوتی ہے نہ کوئی بات سنائی دیتی۔ کبھی وہ اپنے پاس بیٹھنے والے کے پاس سے گزر جاتا مگر اسے اس کا خیال تک نہیں ہوتا، کسی بزرگ رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ اس طرح کا معاملہ پیش آیا تو انہوں نے توجہ دلانے والے سے فرمایا: جب تم میرے پاس سے گزرو تو مجھے حرکت دے دیا کرو۔
مروی ہے کہ حضرت سیدنا یحییٰ بن زکریا علیہم السلام کسی عورت کے قریب سے گزرے، اپنا بچاؤ کرنا چاہا تو وہ عورت گر گئی۔ آپ علیہم السلام سے لوگوں نے پوچھا: آپ نے یہ کیا کیا؟ فرمایا: میں نے تو اسے دیوار سمجھا تھا۔
دوسرا درجہ
ان مقربین کا مراقبہ جو اصحابِ یمین متقی حضرات ہیں۔ انہیں کامل یقین ہوتا ہے کہ اللہ عزوجل ان کے ظاہر و باطن پر مطلع ہے۔ یہ جلالِ الٰہی کو ملاحظہ کرنے کے باوجود مدہوش نہیں ہوتے بلکہ ان کے دل حدِ اعتدال پر رہتے ہیں اور دیگر اعمال کی طرف توجہ ہونے کے باوجود مراقبہ سے غافل نہیں رہتے۔ اللہ عزوجل کا خوف ان پر غالب ہوتا ہے جس کے باعث یہ کسی بھی کام کو کرنے اور نہ کرنے سے پہلے خوب غور و فکر کرتے ہیں۔ چونکہ انہیں یقینِ کامل ہوتا ہے کہ اللہ عزوجل ہر بات کو جانتا ہے اسی لیے جو چیز بروزِ قیامت ذلت و رسوائی کا سبب بنے یہ پہلے ہی اس سے بچتے ہیں قیامت کے انتظار میں نہیں رہتے۔
مراقبہ کے مذکورہ دونوں مرتبوں کا فرق مشاہدے سے واضح ہوتا ہے مثلاً آپ اگر تنہائی میں کوئی عمل کر رہے ہوں اسی دوران اچانک کوئی بچہ یا عورت آجائے اور آپ کو معلوم ہو جائے کہ وہ آپ کے عمل سے واقف ہو چکے ہیں تو آپ ان سے جھجک محسوس کریں گے اور اچھی طرح سنبھل کر بیٹھیں گے نیز اپنے معاملات پر نظر بھی رکھیں گے لیکن یہ سب کچھ آپ بچے یا عورت کی تعظیم کی وجہ سے نہیں بلکہ جھجک اور حیا کی وجہ سے کر رہے ہوں گے۔ واضح ہوا کہ بچے یا عورت کا آپ کو تنہائی میں دیکھ لینا خوف و دہشت میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ اس سے تو فقط آپ میں حیا اور جھجک پیدا ہوتی ہے۔ کبھی اس کے برعکس معاملہ پیش آتا ہے کہ آپ کے آس پاس کوئی بادشاہ یا بزرگ شخصیت آجاتی ہے، آپ ان کی تعظیم بجالانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے حتیٰ کہ اپنی تمام مصروفیات چھوڑ دیتے ہیں اور یہ سب تعظیم کی وجہ سے ہوتا ہے حیا کی وجہ سے نہیں، اسی طرح بندوں کے مرتبے باری تعالیٰ کے مراقبہ کے سلسلے میں مختلف ہیں۔ بیان کردہ دونوں مرتبے والے حضرات اپنی تمام حرکات و سکنات، لمحات و خیالات اور تمام اختیارات پر غور و فکر کے محتاج رہتے ہیں۔
غور و فکر کے دو مرحلے ہیں:
-
عمل شروع کرنے سے پہلے
-
عمل کرتے وقت
پہلا مرحلہ
عمل سے پہلے غور و فکر کرنے کی صورت یہ ہوتی ہے جو کچھ سامنے ظاہر ہو یا دل میں عمل کے لیے حرکت پیدا ہوئی تو اس پر غور کر لے کہ یہ اللہ عزوجل کی رضا کے لیے ہے یا نفسانی خواہشات کی وجہ سے یا شیطان کی پیروی میں ہے؟ پھر اس سلسلے میں خوب غور و فکر کرے حتیٰ کہ نورِ حق کے ذریعے اس پر کوئی بات واضح ہو جائے۔ پھر اگر وہ کام اللہ عزوجل کے لیے ہو تو کر لے اور اگر نفس و شیطان کی طرف سے ہو تو اللہ عزوجل سے حیا کرتے ہوئے اس کام سے باز رہے اور نفس کو اس گناہ کی طرف رغبت کرنے اور مائل ہونے پر ملامت کرے نیز نفس کو اس فعل کی برائی سے آگاہ کرے اور بتائے کہ یہ رسوائی کی کوشش ہے، اگر اللہ عزوجل محفوظ نہ رکھتا تو یہ عمل خود سے دشمنی کرنے کے مترادف ہوتا۔ کسی عمل کے گناہ یا نیکی کا علم ہونے تک یہ غور و فکر ضروری اور واجب ہے۔ اس سے راہِ فرار کی گنجائش نہیں۔
