Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

طلاق کی ضرورت و نوعیت (قسط: دوم)|مولانا غلام رسول سعیدی

طلاق کی ضرورت و نوعیت (قسط: دوم)
عنوان: طلاق کی ضرورت و نوعیت (قسط: دوم)
تحریر: مولانا غلام رسول سعیدی
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

طلاق میں عورت کی رضا مندی کا اعتبار کیوں نہیں ہے؟

یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ اگر نکاح کے عقد میں عورت کی مرضی کا دخل ہے تو طلاق میں کیوں نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی عقد کو قائم کرنے کے لیے فریقین کی رضا مندی ضروری ہوتی ہے، لیکن عقد کو فسخ کرنے کے لیے دونوں کی رضا مندی ضروری نہیں ہوتی، کوئی ایک فریق دوسرے کی مرضی کے خلاف بھی عقد توڑ سکتا ہے۔

اگر کوئی شخص کسی عورت کو اپنے نکاح میں رکھنے پر آمادہ نہ ہو اور اس کے ساتھ عملِ زوجیت پر تیار نہ ہو تو اسے بزور یہ عمل کرایا نہیں جا سکتا۔ چونکہ ازدواجی زندگی کی گاڑی میں اہم رول مرد ادا کرتا ہے (عملِ زوجیت اور نفقہ کی ادائیگی میں مرد فاعل ہوتا ہے)، اس لیے عقدِ نکاح کو قائم رکھنے یا فسخ کرنے کا اختیار مرد کو دیا گیا ہے۔

خلع کا اختیار

طلاق میں مرد کے اختیار کا مطلب یہ نہیں کہ عورت کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اسلام نے عورت کو 'خلع' کا اختیار دیا ہے۔ اگر عورت کو مرد ناپسند ہو تو وہ اپنا مہر یا کچھ مال دے کر شوہر سے طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ سید محمد قطب شہید لکھتے ہیں کہ حضرت ثابت بن قیس کی بیوی نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ وہ ثابت کے دین یا اخلاق سے ناراض نہیں، لیکن شوہر کے حقوق ادا نہ کرنے (ناشکری) کے خوف سے خلع چاہتی ہیں۔ آپ ﷺ نے ثابت سے فرمایا: "باغ لے لو اور اس کو طلاق دے دو۔" [فی ظلال القرآن، ج: 2، ص: 199]

اس حدیث کی روشنی میں جب نفرت اس حد تک بڑھ جائے کہ عورت حقوقِ زوجیت ادا نہ کر سکے، تو وہ قاضی سے رجوع کرے اور قاضی مہر واپس کر کے شوہر سے طلاق دلوا دے گا۔

قاضی اور حکمین کی تفریق

اگر مرد ظلم کرتا ہے، نفقہ نہیں دیتا، پاگل پن یا کسی ناقابلِ علاج بیماری میں مبتلا ہو جائے، جرم کی پاداش میں طویل قید کاٹ رہا ہو، یا لاپتہ ہو جائے تو عورت عدالت سے نکاح فسخ کرا سکتی ہے۔ امام مالک کے نزدیک یہ صورتیں جائز ہیں اور فقہاء احناف نے بھی ضرورت کے وقت اس پر عمل کو درست قرار دیا ہے۔ اگر دونوں فریق حکمین (ثالث) مقرر کریں اور وہ تفریق کا فیصلہ کر دیں، تو بھی تفریق ہو جائے گی۔

تین طلاقوں کی تحدید اور حکمتیں

اسلام نے طلاق کی آخری حد تین رکھی ہے۔ پہلی اور دوسری طلاق کے بعد رجوع کا حق ہے، لیکن تیسری طلاق کے بعد یہ حق ختم ہو جاتا ہے۔ اب دوبارہ نکاح کے لیے شرعی حلالہ کی کٹھن اور ناگوار صورت ہی باقی رہتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے "بیک وقت تین طلاق" دینے سے منع کیا ہے اور اسے گناہ قرار دیا ہے۔ مرد کو تیسری طلاق دینے سے پہلے بہت غور و فکر کرنا چاہیے تاکہ بعد میں پشیمانی اور حیلوں کی ضرورت نہ پڑے۔

سنت کے مطابق طلاق کے فوائد

اسلامی طریقہ یہ ہے کہ زمانۂ طہر میں (بشرطِ عدمِ مجامعت) صرف ایک طلاق دی جائے۔ اس وقفے میں (تقریباً ایک ماہ) مرد کو غور و خوض کا موقع ملتا ہے اور گمانِ غالب ہے کہ اس کی رائے بدل جائے گی۔

میں نے اپنی بائیس سالہ افتاء کی زندگی میں دیکھا ہے کہ جو شخص ایک دن میں تین طلاقیں دے کر بعد میں پشیمان ہوتا ہے، اگر وہ سنت کے مطابق ایک طلاق دیتا تو شاید معاملات بہتر ہو جاتے۔ اس طرح دوسری طلاق کا خطرہ ٹل جاتا اور تیسری نوبت ہی نہ آتی۔ عدت کے دوران رجوع کا موقع رہتا ہے اور اگر رجوع نہ بھی ہو اور عدت گزر جائے، تو باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کی گنجائش رہتی ہے، حلالہ کی ضرورت نہیں پڑتی۔

طلاق کی تدرج میں عورت کی رعایت

تین طلاقوں کی تحدید دراصل عورت کے تحفظ کے لیے ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں مرد بار بار طلاق دے کر اور رجوع کر کے عورت کو تکلیف پہنچاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آیتِ کریمہ "اَلطَّلَاقُ مَرَّتَانِ" نازل فرما کر اس سلسلے کو محدود کر دیا۔

ایک مجلس کی تین طلاقیں

اگر کسی نے بدقسمتی سے معصیت کا ارتکاب کرتے ہوئے ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دیں، تو اب اسے صبر و استقامت سے اس انجام کا سامنا کرنا چاہیے، نہ کہ حلالہ جیسے مکروہ حیلے کرے یا غیر مقلدین کے غلط فتوؤں پر عمل کرے۔ یہ منطق اور قانون دونوں کے خلاف ہے کہ تین کو ایک عدد قرار دیا جائے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!