Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

نکاح و طلاق اور موجودہ معاشرہ (قسط: دوم)|سید عبدالمسجود حبیبی

نکاح و طلاق اور موجودہ معاشرہ (قسط: دوم)
عنوان: نکاح و طلاق اور موجودہ معاشرہ (قسط: دوم)
تحریر: سید عبدالمسجود حبیبی
پیش کش: نوری کرن
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

یہاں ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ اگر کسی شخص نے جائز نکاح کرنے کے بعد اپنی بیوی سے ہم بستری کی تو اس میں کون سی زیادتی اور ظلم کی بات ہے۔ ہاں، اگر بغیر نکاح کے کوئی مرد کسی خاتون سے ملتا ہے، خواہ وہ اس کی رضامندی سے ہو یا جبراً، یہ ضرور زنا اور ظلم ہے کیونکہ اس نے قانون کے بندھن کو توڑا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر شوہر نے تین طلاقیں دے دی ہیں تو پھر وہ اسے دوبارہ واپس کیوں لینا چاہتا ہے؟ اگر وہ اسی مطلقہ خاتون سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہے تو اس خاتون کو حلالہ کے مرحلے سے گزرنا پڑے گا، بشرطیکہ وہ خاتون خود بھی پہلے والے شوہر سے نکاح کرنا چاہتی ہو، ورنہ نہیں۔ یہاں مطلقہ خاتون کو بھی مکمل آزادی دی گئی ہے کہ وہ شوہرِ اول سے نکاح نہ کر کے کسی اور سے بھی شادی کر سکتی ہے۔ اگر شوہرِ اول اسے واپس لینا چاہتا ہے اور مطلقہ خاتون بھی اس سے دوبارہ نکاح کرنے پر راضی ہے، تو اسے حلالہ کے مرحلے سے گزرنا پڑے گا جو کہ ایک جائز طریقہ ہے۔

یہاں یہ ساری باتیں طرفین کی رضامندی پر موقوف ہیں۔ اسلام نے نہ تو اس خاتون پر شوہرِ اول سے دوبارہ نکاح کرنے کے لیے کوئی جبر کیا ہے اور نہ ہی اس کے گھر رہنے پر مجبور کیا ہے۔ ہاں، اگر دونوں پھر سے ازدواجی زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں اور دونوں خوش دلی سے راضی ہیں، تو وہاں حلالہ کی شرط ہے۔ حلالہ کی صورت میں نہ شوہرِ اول کی عزت و مقام میں کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ ہی خاتون کی؛ کیونکہ یہ سارے کام جائز طریقے سے ہو رہے ہیں اور ازسرِ نو گھر بسانے کی خاطر دونوں نے اسے بخوشی قبول کیا ہے۔ ورنہ حلالہ کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی، تین طلاق کے بعد تو عورت بالکل آزاد ہو گئی تھی اور وہ تنہا زندگی گزار سکتی تھی۔ یہاں اسلام نے دونوں فریقین کو مکمل آزادی دی ہے۔

یہاں ایک بات ذہن میں آتی ہے کہ حلالہ کس سے کرایا جائے؟ حلالہ صرف اس مرد سے کرایا جا سکتا ہے جس سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہو۔ عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ شوہر اپنے کسی قریبی رشتہ دار یا بیوی کے رشتہ دار سے حلالہ کرانے پر تیار ہو جاتا ہے۔ اگرچہ ایسا کرنا جائز تو ہے لیکن مناسب نہیں ہے۔ حلالہ کسی ایسے شخص سے کرانا چاہیے جو اجنبی ہو اور دور دراز کا رہنے والا ہو، تاکہ حلالہ (اور طلاق) کے بعد اس سے دوبارہ ملاقات کا امکان نہ رہے۔ کسی قریبی رشتہ دار سے حلالہ کرانے کی صورت میں یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔

ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے، تو یہ خبر مختلف ذرائع سے لوگوں میں پھیل جاتی ہے۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس حادثے کا مزہ لے کر اسے ہر طرف اچھالنا شروع کر دیتے ہیں کہ فلاں شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ جب طلاق واقع ہونے کے بعد شوہر اور بیوی کا غصہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور وہ اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی پر غور کرتے ہوئے دوبارہ نکاح کر کے خوشگوار ازدواجی زندگی گزارنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، تو اس وقت حلالہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر ایسی صورتِ حال پیدا ہو جائے تو تین طلاق کی خبر کی تشہیر کرنے کے بجائے، خاموشی کے ساتھ حلالہ کا معاملہ مکمل کر لینا چاہیے۔

اب یہاں یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلم معاشرے میں بڑھتی ہوئی طلاقوں کی تعداد پر کس طرح لگام لگائی جائے؟ اس کے لیے درج ذیل تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں:

1۔ بڑھتی ہوئی طلاقوں کو روکنے کے سلسلے میں مسجدوں کے ائمہ انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن آج کل یہ دیکھا جاتا ہے کہ ائمہ کرام زیادہ تر قصے کہانیوں، تاریخی واقعات، کرامات اور معجزات بیان کر کے اپنی تقریر ختم کر دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے حقیقی مسائل کیا ہیں، کس طرح ان کی زندگی اسلام کے سانچے میں ڈھل سکتی ہے، اور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے شب و روز کیسے گزرتے تھے؛ ان موضوعات پر بیانات کم ہونے کی وجہ سے عام مسلمانوں کو دین کی ضروری اور بنیادی باتوں کا علم نہیں ہو پاتا۔ اگر ائمہ مساجد گاہے بگاہے نکاح کی خوبیوں اور طلاق کے نقصانات پر بیانات دیتے رہیں تو یقیناً طلاقوں کی شرح میں کمی آئے گی۔ جب بھی کسی شوہر کے ذہن میں طلاق کا خیال آئے گا، اسے فوراً امامِ مسجد کی تقریر یاد آ جائے گی۔ مسجد کے اماموں کو چاہیے کہ کم از کم مہینے میں ایک بار طلاق کے موضوع پر گفتگو کریں، اس کے خاندانی و سماجی نقصانات گنوائیں اور یہ بتائیں کہ طلاق سے معاشرے میں کس طرح بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور ذہنی سکون غارت ہوتا ہے۔

2۔ مسلم محلوں کے ذمہ داران اور معزز شخصیات کو چاہیے کہ سال میں ایک دو بار محلے کے لوگوں کو جمع کر کے طلاق کے شرعی احکام اور سماجی اثرات کے تعلق سے باتیں سمجھائیں۔ اس سے لوگوں کی سوچ اور فکر میں تبدیلی آئے گی اور کوئی بھی شخص طلاق کا لفظ زبان سے نکالتے وقت سو بار سوچے گا۔ خاص طور پر ایک مجلس میں تین طلاق کا لفظ زبان سے نہ نکلے، اس سلسلے میں محلے کی سطح پر سخت تاکید ہونی چاہیے۔

3۔ آج کل شہروں اور دیہاتوں میں مذہبی جلسوں اور بڑی بڑی کانفرنسوں کی کثرت ہے، جن میں بہترین مقررین کو بلایا جاتا ہے۔ لیکن ان جلسوں میں طلاق کے مذموم پہلو اور اصلاحِ معاشرت پر بہت کم روشنی ڈالی جاتی ہے۔ مسلمانوں کے اخلاقی اور روحانی امراض پر گفتگو نہیں ہوتی، بلکہ وہی روایتی کرامات، معجزات، دل کو چھونے والے اشعار اور لفاظی پر تقریریں ختم ہو جاتی ہیں۔ کاش! ہمارے واعظین اور خطباء طلاق جیسے سنگین مسئلے پر کھل کر گفتگو کرتے تو آج یہ نوبت نہ آتی۔ آج کا مسلمان بے راہ روی کا شکار ہے اور وقت کا ضیاع ایک عام عادت بن چکی ہے۔ تاش، لڈو اور کیرم بورڈ کھیلنا، یا کلبوں میں بیٹھ کر ٹی وی کے فحش پروگرام دیکھنا عام ہو چکا ہے، جس سے ذہن شیطان کا اڈا بن رہے ہیں۔ غلط طلاق کو روکنے کے لیے یہ طریقہ اپنایا جائے کہ جہاں ہزاروں کا مجمع ہو، وہاں مقررین طلاق کے موضوع پر بھی لازمی بولیں۔ اگر کسی بات کو مختلف مواقع پر بار بار دہرایا جائے تو وہ لوگوں کے ذہنوں میں راسخ ہو جاتی ہے۔ کسی دانشمند کا قول ہے کہ اگر پتھر پر بھی روزانہ پانی کا ایک ایک قطرہ گرتا رہے، تو پتھر جیسی سخت چیز پر بھی نشان پڑ جاتا ہے۔

4۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بیوی کی نادانی یا غلطی کی وجہ سے بھی طلاق کی نوبت آتی ہے۔ بہت سی خواتین سسرالی زندگی کے آداب سے واقف نہیں ہوتیں اور شوہر یا سسرال والوں کے مزاج کو سمجھنے میں ان سے کمی رہ جاتی ہے۔ وہ نادانی میں ایسی حرکتیں کر بیٹھتی ہیں جو طلاق کا سبب بن جاتی ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ ہر شہر میں شادی کے بندھن میں بندھنے والی خواتین کے لیے تربیت کا انتظام کیا جائے، جہاں سسرالی زندگی کے نشیب و فراز اور خصوصاً شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے کے آداب سکھائے جائیں، تاکہ وہ کوئی ایسی صورت پیدا نہ ہونے دیں جس سے شوہر کی زبان سے طلاق کا لفظ نکلے۔ بیوی کو چاہیے کہ خلوت میں شوہر کے مزاج کو بھانپ کر گفتگو کرے اور سسرال میں کامیابی کے لیے نیازمند کی کتاب “دلہن کے ہیرے موتی” کا مطالعہ کرے۔ یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب خاتون خود تربیت یافتہ ہو۔

5۔ ہمارے افسانہ نگار، ناول نگار، انشائیہ پرداز اور مقالہ نویس بھی نکاح و طلاق کے موضوعات پر قلم اٹھائیں۔ وہ اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کریں تاکہ پڑھا لکھا طبقہ نکاح کی برکات اور طلاق کے زحمت یا رحمت ہونے کے پہلوؤں کو اچھی طرح جان سکے۔

6۔ کم پڑھے لکھے یا بالکل ان پڑھ لوگ عموماً کسی نہ کسی پیر و مرشد کے دامن سے وابستہ ہوتے ہیں۔ پیر صاحبان سال میں دو تین بار اپنے مریدین کے ہاں تشریف لاتے ہیں اور مریدوں کا ایک بڑا جھرمٹ ان کے گرد ہوتا ہے۔ اس نشست میں جہاں دیگر بہت سے امور پر گفتگو ہوتی ہے، وہاں طلاق کے موضوع پر بھی مریدوں کو خاص طور پر نصیحت کی جانی چاہیے اور انہیں سمجھانا چاہیے کہ طلاق سے حتی الامکان گریز کریں۔

7۔ عام طور پر مسلم بستیوں میں کوئی نہ کوئی فلاحی یا مذہبی تنظیم موجود ہوتی ہے۔ اس تنظیم کو محلہ والوں کے مشورے سے یہ طے کرنا چاہیے کہ جب بھی میاں بیوی کے درمیان ناخوشگوار حالات پیدا ہوں اور معاملہ علیحدگی تک پہنچنے لگے، تو وہ براہِ راست قدم اٹھانے کے بجائے تنظیم کو مطلع کریں۔ تنظیم دونوں فریقین کے حالات پر غور کر کے اصلاح کی کوئی راہ نکالے۔ شوہر جب چاہے اپنی مرضی سے طلاق دے دے، یہ طریقہ بند ہونا چاہیے۔ یہ ہرگز دانشمندی نہیں کہ ہم غلط طلاقوں کی روک تھام کے لیے کوئی عملی کوشش نہ کریں اور صرف طلاق کا رونا روتے رہیں۔ حالات کو سدھارنے کے لیے تدبیروں کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ تدبیر سے ہی تقدیر بدلتی ہے اور زندگی سنورتی ہے۔

8۔ آج کے دور میں تقریباً 99 فیصد لوگ ٹی وی دیکھتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے ٹی وی کے اخلاق سوز اور فحش پروگراموں سے بچنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان پروگراموں کو دیکھنا وقت کی بربادی کے ساتھ ساتھ گناہ کا باعث بھی ہے۔ ہمارے علماء کی ایک بڑی تعداد نے مثبت اور معلوماتی پروگرام دیکھنے کی اجازت دی ہے۔ لہٰذا، غلط پروگرام دیکھنے کے بجائے اگر اسلامی پروگرام دیکھے جائیں تو برائی سے بچا جا سکتا ہے۔ ٹی وی اور میڈیا کے ذریعے بھی نکاح کی برکت اور غلط طلاق کی مذمت پر مبنی پروگرام پیش کیے جانے چاہئیں تاکہ عام لوگوں کا ذہن بنے۔

نیازمند نے اصلاحِ معاشرہ کے لیے یہ چند صورتیں بیان کی ہیں، ان کے علاوہ بھی دیگر بہتر تدابیر ہو سکتی ہیں۔ اگر دانشمند حضرات غور و فکر کریں تو بڑے سے بڑے مسائل حل ہو سکتے ہیں، مشکل راہیں آسان ہو سکتی ہیں اور سماج کا وقار بلند ہو سکتا ہے۔ آئیے ہم سب مل کر اس اہم مسئلے پر غور کریں اور ایک نیک اور پرامن قدم اٹھا کر معاشرے کو بگاڑ سے بچانے کی کوشش کریں۔ [اسلام کا نظام طلاق، ص: 298 تا 302]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!