Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

نکاح و طلاق اور موجودہ معاشرہ (قسط: اول)|سید عبدالمسجود حبیبی

نکاح و طلاق اور موجودہ معاشرہ (قسط: اول)
عنوان: نکاح و طلاق اور موجودہ معاشرہ (قسط: اول)
تحریر: سید عبدالمسجود حبیبی
پیش کش: نوری کرن
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جو ہماری زندگی کی ہر منزل میں رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام کا ہر قانون عقل کے موافق ہے۔ اگر کسی کو اسلام کا کوئی قانون عقل کے خلاف لگتا ہے تو یہی کہا جائے گا کہ اسلامی قانون تو صحیح اور معقول ہے لیکن اس قانون کی گہرائی تک اس کی پہنچ نہیں ہو سکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں تیزی سے اسلام پھیل رہا ہے۔ اسلام کو سمجھنا ہے تو اسلامی کتابوں کو پڑھ کر سمجھو۔ بے عمل مسلمانوں کے کردار کو دیکھ کر یہ نہ سمجھو کہ یہی اسلام ہے۔

یہاں آپ کی معلومات کے لیے ایک بات پیش کرنے جا رہا ہوں۔ 17 اپریل 1935ء کی بات ہے، جنوبی افریقہ کے شہر ممباسا میں اسلام اور عیسائیت کے موضوع پر مشہور فلاسفر جارج برنارڈ شا سے مبلغِ اسلام مولانا عبدالعلیم صدیقی میرٹھی کا مکالمہ ہوا۔ اسلام کی خوبیوں کو سمجھنے کے بعد جارج برنارڈ شا نے کہا:

“I love Islam, but I hate current Muslims because they do not follow Islam properly.”

جارج برنارڈ شا کہنا چاہتے ہیں کہ جب ہم اسلام کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارا دل اسلام کی طرف مائل ہو جاتا ہے لیکن جب وہ مسلمانوں کے کردار کو دیکھتے ہیں تو ان کی طبیعت اسلام سے برگشتہ ہو جاتی ہے۔

یہ تو تقریباً سو سال پہلے کی بات ہے۔ آج کے مسلمانوں کے کردار و عمل اتنے خراب ہو گئے ہیں جنہیں دیکھ کر شرم آتی ہے۔ ان کے ظاہر و باطن میں نمایاں فرق نظر آتا ہے، گفتار کے غازی تو خوب نظر آتے ہیں لیکن کردار کے غازی خال خال۔ اسلام کی اچھی باتیں کتابوں میں رہ گئی ہیں۔ آج ان باتوں پر عمل کم ہو رہا ہے۔ اسی وجہ سے آج مسلمان مختلف محاذ میں ناکام نظر آ رہا ہے۔ علم سے دور ہے، اچھی سوچ و فکر سے ذہن خالی ہے، مختلف جھگڑوں اور فتنوں میں ملوث نظر آتا ہے اور تنگ نظری کا شکار ہے۔ کچھ نام نہاد پیشوا ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بناتے ہوئے نظر آتے ہیں، ان سے تعمیری کام کم اور تخریبی کام زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں اور انہیں اصلاحِ معاشرہ کی فکر نہیں۔

“نکاح و طلاق” کا مسئلہ بھی اصلاحِ معاشرہ سے تعلق رکھتا ہے۔ نکاح ایک مقدس رشتہ ہے۔ یہ صرف دو دلوں کو نہیں جوڑتا بلکہ زوجین کے رشتہ داروں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتا ہے۔ سبھی میں الفت و محبت کا ایک نیا رنگ نمودار ہوتا ہے۔

نکاح کی اہمیت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جملے سے پتا لگتا ہے: “جس نے نکاح کر لیا، اس کا آدھا دین محفوظ ہو گیا۔ باقی آدھے کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے”۔ آج ہمارے ملک میں تین طلاق موضوعِ بحث ہے۔ کچھ سمجھدار لوگ تین طلاق کو ایک طلاق کہہ رہے ہیں۔ ایسا کہنا گویا دن کے اجالے میں سورج کا انکار کرنا ہے۔ یہ بات کس قدر غیر معقول ہے، ہر ذی علم بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ شوہر اگر ایک مجلس میں تین طلاق دیتا ہے تو اسے ایک طلاق مان کر حقیقت کا مذاق اڑانا ہے۔

اب چلیں، طلاق پر ذرا گفتگو کریں۔ اسلام میں طلاق سب سے بری چیز سمجھی جاتی ہے کیونکہ نکاح رشتوں کو جوڑتا ہے اور بھائی چارے میں اضافہ کرتا ہے۔ اس سے محبت کے پھول کھلتے ہیں، تعلقات کی نئی دنیا آباد ہوتی ہے، محبت میں چہل پہل دکھائی پڑتی ہے اور طلاق تمام رشتوں کو منقطع کر کے ایک نفرت کی دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔

اسلام طلاق کی اجازت اس وقت دیتا ہے، جب اس کی ضرورت پڑے۔ جب شوہر بیوی دونوں ایک دوسرے سے بیزار ہوں اور ازدواجی زندگی اجیرن بننے لگے۔ دونوں میں خوشگوار تعلقات نہ رہنے کی وجہ سے گھر کا سکون جاتا رہے۔ ایسی حالت میں ایک طلاق دی جا سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے ایک طلاق کے بعد دونوں کو ہوش آنے لگے، اس حرکت پر پچھتاوا آئے پھر دونوں شیر و شکر ہو کر زندگی گزارنے کا ارادہ کریں تو عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے۔

یہاں نکاح پڑھانے کی ضرورت نہیں۔ اسلام نے یہ بھی راستہ کھول رکھا ہے۔ طرفین کے رشتہ دار بہو کو سمجھانے کی راہ تلاش کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ میل ملاپ کی راہ ہموار ہو جائے اور خوشگوار زندگی لوٹ آئے۔

ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ شوہر تو بیوی کو رکھنا چاہتا ہے لیکن کسی بنیاد پر بیوی کو شوہر پسند نہیں۔ بیوی شوہر سے چھٹکارا پانا چاہتی ہے۔ ایسی حالت میں شوہر کو طلاق دے دینا چاہیے اور طلاق نہ دے کر بیوی کو پریشان کرنا، اس کی زندگی کے ساتھ کھیلنا غلط ہے۔ ایسے ہی موقع پر طلاق دینا حسن ہے۔

یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ بیوی شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے لیکن شوہر اس کی حرکتوں اور اخلاق سے بیزار ہے۔ آئے دن جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔ بیوی کی کارکردگی سے شوہر مطمئن نہیں۔ وہ اس کے حکم کی تعمیل کرتی نہیں ہے۔ گھر کی جو ذمہ داری ہے اسے نبھانا چاہیے، اس کی طرف توجہ دیتی نہیں ہے۔ آئے دن تو تو میں میں ہوتی رہتی ہے۔ اس اختلاف سے نئے نئے فتنے جنم لیتے ہیں۔ ان حالات کے پیشِ نظر جہاں گھر امن اور شانتی، سکھ اور چین کا گہوارہ ہونا چاہیے تھا، وہاں جہنم بن جاتا ہے۔ شوہر لاکھ کوشش کرتا ہے کہ وہ راہِ راست پر آ جائے، راتوں رات اسے سمجھاتا ہے لیکن ساری کوششیں بے سود ثابت ہوتی ہیں۔ شوہر پریشانیوں اور الجھنوں کی چکی میں پستا رہتا ہے۔ ان حالات کے تناظر میں طلاق کو ترجیح دیتا ہے لیکن تین طلاق نہیں، ایک ہی طلاق دے سکتا ہے۔

یہاں بھی اس کو سدھرنے کا انتظار کرنا چاہیے۔ یہ امید رکھی جائے کہ ایک طلاق سے اس کے دل میں خوف طاری ہو، اس کا مستقبل تاریک نظر آنے لگے اور وہ خود کو سدھار لے۔ دیکھا جاتا ہے کہ بعض خواتین ایسی ضدی ہوتی ہیں کہ ان کو لاکھ سمجھایا جائے، نصیحت کا دفتر کھول دیا جائے وہ اپنی رائے بدلنے کو تیار نہیں ہوتیں بلکہ اپنی رائے کو دوسروں پر مسلط کرنا چاہتی ہیں۔

اس کے بعد پھر دوسری طلاق دی جا سکتی ہے۔ دوسری طلاق دینے کے بعد وقت کا انتظار کرنا چاہیے۔ ممکن ہے کہ حالات نارمل ہو جائیں اور خاتون کو طلاق کے نقصان کا احساس ہونے لگے۔ رشتہ داروں کے توسط سے سمجھانے کی کوشش جاری رہے اور حالات سے مایوس نہ ہو کر سمجھوتے کی راہ نکالنے کی کوشش جاری رہے۔ اللہ تعالیٰ کے کرم سے کوئی بعید نہیں کہ دل میں نرمی فرما دے پھر زوجین شیر و شکر ہو کر رہنے لگیں۔

دو طلاق کے بعد اگر حالات بدلتے نہیں اور خاتون اپنی ضد پر قائم ہے، بزرگوں کی نصیحتیں کارگر نہیں ہو رہی ہیں اور خاتون ایسی اکھڑ اور ضدی ہے کہ وہ کسی کی بات سننے کو تیار نہیں تو شوہر کو چاہیے کہ وہ خاموش رہے۔ تیسری طلاق دینے کی ضرورت نہیں۔ عدت گزارنے کے بعد طلاق بائن ہو جائے گی۔ خاتون مکمل شوہر کے نکاح سے نکل جائے گی۔ اس کے بعد خاتون اگر چاہے تو اور کسی فرد کا دامن پکڑ سکتی ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ پھر شوہرِ اول سے نکاح کرے اور شوہر بھی اس سلسلہ میں آزاد ہے کہ وہ سابق بیوی سے نکاح کرے۔ یہ خاتون کے چاہنے پر منحصر ہے یا کسی اور خاتون سے نکاح کر کے اپنی نئی ازدواجی زندگی کا آغاز کرے۔

ایک نشست میں تین طلاق دینا گناہ ہے۔ یہ طلاق کا غلط استعمال ہے۔ چھری سبزی کاٹنے کے لیے بنائی گئی ہے، اس سے کسی آدمی کو گھائل کرنے کے لیے نہیں؛ اگر چھری سے کسی آدمی کو گھائل کر دیا جائے تو اس کا غلط استعمال ہے۔ ایک طلاق سے کام ہو سکتا ہے تو تین طلاق دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے لیکن تین کو ایک ماننا، خلافِ حقیقت و خلافِ عقل ہے۔ چھری سے اگر کسی پر حملہ کیا گیا تو حملہ کرنے والا مجرم گردانا جائے گا اور جس پر حملہ کیا گیا وہ یقیناً زخمی ہو گا۔ چھری سے حملہ کرنے والا قصداً کرے یا سہواً بہرحال وہ مجرم ہے، جس پر حملہ ہوا یقیناً وہ مجروح ہے لیکن چھری بنانے والے کی کوئی غلطی نہیں کیونکہ چھری کو اس کام کے لیے بنایا نہیں گیا تھا۔

سابق زوجین پھر اگر نکاح کے بندھن میں بندھنا چاہیں تو بغیر حلالہ دونوں کے درمیان نکاح منعقد نہیں ہو سکتا۔ حلالہ کی صورت یہ ہے کہ مطلقہ خاتون کی عدت گزرنے کے بعد کوئی دوسرا شخص اس سے نکاح کرے، ہم بستری کرے پھر طلاق دے، عدت گزرے تب کہیں شوہرِ اول سے نکاح کر سکتی ہے۔

کچھ لوگوں کے ذہن میں یہ بات پیدا ہوتی ہے کہ اسلام میں تین طلاق کے بعد حلالہ کیوں رکھا گیا ہے؟ یہ سچ ہے کہ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کا قانون بتا کر عورتوں پر ہونے والے ظلم سے بچا لیا۔ پہلے یہ بات سمجھ لیں کہ اگر کسی نے ایک طلاق یا دو طلاق دی تو وہ عدت کے اندر بیوی کو واپس لے سکتا ہے۔ اس واپسی میں نہ نکاح کی ضرورت ہے نہ حلالہ کی ۔

ایامِ جاہلیت میں عورتوں پر ظلم ہوتا تھا کہ شوہر نے طلاق دی پھر عدت کے اندر واپس کر لیا، کچھ دنوں کے بعد پھر طلاق دی پھر عدت کے اندر واپس کر لیا。 اس طرح طلاق اور واپسی کا سلسلہ چلتا رہتا تھا۔ اس سے عورت کسی اور سے نکاح نہیں کر سکتی تھی اور اس پر ظلم بڑھتا جاتا تھا۔ طلاق دینے اور لوٹانے کا سلسلہ جاری رہنے کی وجہ سے عورت کسی اور سے نکاح نہیں کر سکتی تھی اور عورت ظلم کا شکار ہوتی رہتی تھی۔

عورتوں کو مظلومیت کے دلدل سے نکالنے کے لیے رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین طلاق دینے کے بعد اب اسے واپس نہیں لیا جا سکتا۔ اب وہ مکمل آزاد ہے اور کسی بھی مرد سے نکاح کر سکتی ہے۔ اگر شوہرِ اول اس سے نکاح کرنا چاہے اور وہ بھی راضی ہو تو حلالہ کے بغیر نکاح نہیں ہو سکتا۔ کچھ ناسمجھ لوگ کہتے ہیں کہ حلالہ عورت پر ظلم ہے کہ وہ کسی اور سے نکاح کرے، وہ اس سے جماع کرے، پھر طلاق دے، عدت گزرنے کے بعد کہیں شوہرِ اول سے نکاح کر سکتی ہے۔ [اسلام کا نظام طلاق، ص: 294 تا 298]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!