| عنوان: | شوہر کے حقوق احادیث کی روشنی میں |
|---|---|
| تحریر: | مولانا شاہد القادری رضوی |
| پیش کش: | نوری کرن |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
اسلام ایک پاکیزہ دین ہے، جسے مذہبِ مہذب سے تعبیر کیا جاتا ہے، عالمی سطح پر اسلام ہی ایک ایسا دینِ متین ہے جو اپنے متبعین کے حقوق کی ادائیگی میں مکمل ضابطۂ حیات رکھتا ہے اور حق تلفی پر وعیدیں بھی رکھی ہیں، بارگاہِ الٰہی میں مذہبِ اسلام کی محبوبیت کا یہی راز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بہت ہی خوبصورت انداز میں اعلانِ پسندیدگی فرمایا: “یقیناً اللہ کی بارگاہِ عالی میں مذہب اسلام ہی پسندیدہ مذہب ہے۔” اسی لیے قرآنی تعلیمات اور فرموداتِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکمل ضابطۂ حیات قرار دیا گیا ہے، آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے پُر نور موقع پر ببانگِ دہل یہ اعلان بھی فرمایا تھا کہ “آج میں نے تمہارے لیے دینِ اسلام کو مکمل کیا۔” میدانِ عرفات سے ہمیں یہی پیغامِ نجات دیا گیا کہ مذہبِ اسلام نظامِ زندگی کو بہتر بنانے میں مستقل قانون رکھتا ہے تاکہ متبعینِ اسلام کسی بھی موڑ پر لاقانونیت کا شکار نہ ہو جائیں۔ اسلام کا دستورِ حیات ہمیں منزلِ مقصود کا پتہ دیتا ہے، بارگاہِ الٰہی میں محبوبیت کا مقام دلاتا ہے اور دربارِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے تمغۂ عشق کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے۔
دستورِ اسلام میں حقوق کی پاسداری کا حد درجہ لحاظ رکھا گیا ہے انہی میں سے ایک شق “شوہر کے حقوق” ہے۔ اسلام نے عورتوں اور مردوں کو آپسی محبت، مودت، الفت، انسانیت، انسیت، حسنِ اخلاق کا درس دیا ہے تاکہ ازدواجی زندگی کامیاب زندگی بنے، گھریلو ماحول پراگندہ نہ ہونے پائے، بچوں کی کفالت، پرورش، پرداخت، تعلیم، تربیت اور نشوونما میں کسی بھی قسم کے مسائل مانع نہ ہوں اور ایک خوشگوار زندگی منزلِ مقصود کی طرف رواں دواں رہے اور زوجین ایک کشتی کے دو ملاح بن جائیں۔
شوہر کے حقوق کی ادائیگی کی ترغیب کے لیے احادیثِ طیبہ میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں، چند ملاحظہ کریں:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عورتوں میں بہتر وہ ہے جو پاک دامن اور محبت کرنے والی ہو، اپنے ناموس و عزت کی حفاظت کرنے والی ہو اور شوہر سے غایت درجہ محبت کرنے والی ہو۔ [كَنْزُ الْعُمَّال، ج: ۱۶، ص: ۱۷۰]
حضرت مولائے کائنات علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! خدا سے خوف کرو اور اپنے شوہروں کی خوشیوں کو پیشِ نظر رکھو، اگر عورت جان لے کہ اس کے شوہر کا کیا حق ہے تو صبح و شام کھانا لے کر کھڑی رہے۔ [كَنْزُ الْعُمَّال، ج: ۱۶، ص: ۱۲۵]
ام المؤمنین حضرت سیدہ طیبہ طاہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ میں دربارِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض گزار ہوئی! عورت پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ ارشادِ عالی ہوا: اس کے خاوند کا ہے۔ [اَلْمُسْتَدْرَك لِلْحَاكِم]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سرکارِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس عورت کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرماتا جو اپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہے کہ وہ اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتی۔ [نَسَائِي شَرِيف]
۵۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سرکارِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جن عورتوں سے ملاقات ہو کہہ دو کہ شوہر کی اطاعت اور ان کے احسان کا اعتراف جہاد کے برابر ہے۔ مگر ایسی عورتیں تم میں بہت کم ہیں۔ [مَجْمَعُ الزَّوَائِد، ج: ۴، ص: ۳۰۸]
آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ازواجِ مطہرات کا حسنِ سلوک ملاحظہ کریں:
۱۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ طیبہ طاہرہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے حسنِ اخلاق کا ذکر یوں بیان فرماتے ہیں: خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کا نعم البدل عطا نہیں فرمایا، وہ اس وقت مجھ پر ایمان لائیں جب دوسرے لوگوں نے کفر کیا، انہوں نے اس وقت میری تصدیق کی جب دوسرے لوگ میری تکذیب کر رہے تھے۔ انہوں نے اس وقت اپنے مال سے میری مدد کی جب دوسرے لوگ میری مدد نہیں کرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ نے دیگر عورتوں کے برعکس ان کے بطن سے مجھے اولاد عطا فرمائی۔ [ضِيَاءُ النَّبِي، ج: ۷، ص: ۴۹۳]
۲۔ ام المؤمنین حضرت سیدہ طیبہ طاہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ “میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا تھا (یعنی احرام کی نیت کرنے سے پہلے) اور جب حج کے ارکان سے فارغ ہوئے تو طوافِ الزیارۃ سے پہلے پہلے جو بہتر سے بہتر خوشبو میرے پاس تھی، وہ میں نے لگا دی۔” [مُسْلِم شَرِيف، ج: اول، ج: ۸، ۷۳]
۳۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مشن میں معاونت کے لیے جس قسم کی ذہین و فطین زوجہ کی ضرورت تھی ام المؤمنین سیدہ طیبہ طاہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اس معیار پر پوری اترتی تھیں، اور ایک مرحلہ ایسا آیا جب انتہائی مشکل ترین مرحلہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مشورہ کیا، ان کے مشورے نے نہ صرف مسئلہ حل کر دیا بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو انتہائی کڑی آزمائش سے بچا لیا۔ [ضِيَاءُ النَّبِي، ج: ۷، ص: ۵۰۸]
۴۔ ام المؤمنین حضرت سیدہ طیبہ طاہرہ میمونہ رضی اللہ عنہا آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ہی چہیتی زوجہ محترمہ تھیں، انہیں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی عشق و محبت تھی، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کی تمنا ظاہر کی تھی، بلکہ یہ کہا تھا کہ میں اپنی جان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کرتی ہوں اور مجھے مہر لینے کی بھی خواہش نہیں، چنانچہ قرآنِ مقدس میں ان کے بارے میں ایک آیت بھی نازل ہوئی۔ [جنتی زیور، ص: ۳۴۹]
حضرت خاتونِ جنت، شہزادیِ رسول، نورِ نظرِ رحمۃ للعالمین، سیدہ طیبہ طاہرہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا، جن کی زندگی کے تمام لمحات احکامِ خداوندِ قدوس کی پیروی اور آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری میں گزرے اور اپنے شوہرِ نامدار آقائی مولائی سیدی و سندی حضرت مولیٰ مشکل کشا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے خالص محبت اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک میں گزارے، عظیم والد صلی اللہ علیہ وسلم کی شہزادی کی پاکیزہ نسبت ہونے کے باوجود حقوقِ شوہر کی ادائیگی میں ذرہ برابر کمی نہیں ہونے دی۔ سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا ایک مرتبہ بارگاہِ رسالت میں عرض گزار ہوئیں کہ بابا جان صلی اللہ علیہ وسلم! میں کام کرتے کرتے تھک جایا کرتی ہوں اور عباداتِ الٰہی کے لیے وقت کم ملا کرتا ہے، آپ مجھے خدمت کے لیے ایک کنیز عطا فرما دیں۔ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے گھر کا کام خود ہی کیا کرو اور اپنے شوہر کی خدمت کر کے انہیں خوش رکھا کرو۔ شوہر کی خدمت میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے۔ [كُتُبِ سِيَر]
آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتینِ اسلام کو شوہر کو خوش رکھنے اور اس پر بہت اجر کی بشارت دی ہے، ملاحظہ کریں:
۱۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص گھر سے باہر جاتے ہوئے اپنی بیوی سے کہہ گیا کہ گھر سے باہر نہ نکلنا، اس کے والد گھر کے نیچے حصے میں رہتے تھے، اور وہ گھر کے اوپر رہتی تھی، اس کے والد بیمار ہوئے اس نے دو جہاں کے مختار صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شوہر کی اطاعت کرو۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پاس یہ خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے شوہر کی اطاعت کی وجہ سے تمہارے والد کی مغفرت فرما دی۔ [تُحْفَةُ النِّسَاء]
۲۔ ایک خاتون حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں، سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا جی ہاں! یا رسول اللہ! حضور علیہ السلام نے فرمایا: تیرا اپنے مرد سے کیا سلوک ہے؟ عرض کی جہاں تک مجھ میں طاقت ہے، میں اس کی خدمت کرنے میں کوتاہی نہیں کرتی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا: تیرا خاوند تیرے لیے بہشت بھی ہے اور دوزخ بھی، شوہر راضی ہے تو جنتی ہے، ورنہ تو دوزخی ہے۔ [نَسَائِي]
۳۔ حضورِ پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میاں بیوی جب آپس میں ایک دوسرے پر محبت کی نظر ڈالتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان دونوں پر نظرِ رحمت عنایت فرماتا ہے، اور جب وہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑتے ہیں تو انگلیوں کے بیچ سے گناہ جھڑنے لگتے ہیں۔ [كَنْزُ الْعُمَّال]
۴۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس عورت کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرماتا جو اپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہے کہ وہ اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتی۔ [نَسَائِي]
۵۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں جنتی عورت کے بارے میں نہ بتا دوں؟ ہم نے عرض کیا ضرور! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شوہر پر فریفتہ، زیادہ بچے جننے والی، جب شوہر اس پر غصہ ہو جائے یا اسے کچھ برا بھلا کہے یا اس کا شوہر ناراض ہو جائے تو یہ عورت اس کو کہے میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں ہے، میں اس وقت تک نہ سوؤں گی جب تک کہ آپ خوش نہ ہو جاؤ۔ [اَلتَّرْغِيبُ وَالتَّرْهِيب، ج: ۳، ص: ۳۷]
مذہبِ اسلام نے اپنے متبعین میں عورتوں کو حقوقِ شوہر کی ادائیگی میں جنت کی بشارت، گھروں میں سکینت، عائلی زندگی میں پاکیزگی، بچوں کی کفالت میں عافیت اور خوشگوار ماحول کے حصول کی خوشخبری دی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ جب شوہر اور بیوی میں آپسی محبت و الفت، انسیت و دلجوئی، اپنائیت و پیار، حسنِ اخلاق و حسنِ سلوک جس قدر وافر مقدار میں پائے جائیں گے، اسی قدر خانگی زندگی خوشنما اور اچھی ہوگی۔ جن گھروں میں اس کے برعکس ماحول ہوتا ہے تو مابین اختلاف و انتشار اور بحث و مباحثہ اور لغو باتوں کا بازار گرم رہتا ہے جن سے طرفین کی زندگی اجیرن بن جایا کرتی ہے، اور ان معاملات سے بچوں کی زندگیاں اثر انداز ہوا کرتی ہیں۔ لازمی ہے کہ شوہر اور بیوی آپسی پاکیزہ رشتے کی قدر کریں، ایک دوسرے کے حقوق پامال نہ ہونے پائیں، آپسی حقوق کی ادائیگی میں کسی قسم کی کمی و زیادتی نہ ہونے پائے، اور ان باتوں کا بھی لحاظ رکھا جائے کہ اگر جانبین میں کسی میں تلخ مزاجی پیدا ہو جائے تو دوسری طرف نرم روی کو اپنائیں ورنہ کج روی تباہی کے سامان پیدا کرتی ہے۔
اللہ رب العزت کی بارگاہِ عالی جاہ میں دعا گو ہوں کہ خواتینِ اسلام کو اپنی زندگی کے طرزِ عمل کو ازواجِ مطہرات کے نقوش کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی عاقبت کو سنوارنے کے لیے حضرت خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی پاکیزہ زندگی کو درسِ عبرت بنائیں۔ (آمین) [ماہنامہ سنی آواز ناگپور، مارچ، اپریل 2022، ص: 47 تا 49]
