| عنوان: | شادی کب ہوگی سادہ؟ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
شادی۔۔۔ جو کبھی سادگی، برکت، محبت اور سکون کا نام تھی، آج رسموں، دکھاوے، فضول خرچی اور جھوٹی شان و شوکت کے زنجیروں میں جکڑی ہوئی کھڑی ہے۔ نکاح جو شریعت میں آسان رکھا گیا، ہم نے اسے مشکل بنا دیا۔ رشتے جو محبت سے جڑتے تھے، اب بینک بیلنس، گاڑی، ہال، جہیز اور نمود و نمائش کی نذر ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ شادی کب ہوگی سادہ؟ اور کب تک یہ بے جا رسم و رواج کی قید میں سسکتی رہے گی؟
آج ایک غریب باپ کی بیٹی جوان ہو جاتی ہے، مگر اس کے ہاتھ پیلے نہیں ہو پاتے، کیونکہ معاشرہ اس کے باپ کی جیب ناپتا ہے، کردار نہیں۔ کسی کے پاس جہیز کم ہے، کسی کے پاس ہال بک کرنے کے پیسے نہیں، کسی کے پاس ہزاروں مہمانوں کو کھلانے کی طاقت نہیں۔ نتیجہ یہ کہ بیٹیاں گھروں میں بیٹھی بیٹھی عمر گزار دیتی ہیں، اور والدین فکر و پریشانی میں گھلتے رہتے ہیں۔
نکاح کو آسان کرنے کے بجائے ہم نے اسے مقابلہ بنا دیا ہے۔ فلاں کی شادی میں پانچ سو مہمان تھے، تو ہماری میں ہزار ہوں گے۔ وہاں دولہا مہنگی گاڑی میں آیا تھا، تو یہاں گاڑیوں کا جلوس نکلے گا۔ وہاں اسٹیج سجا تھا، تو یہاں قلعہ بنے گا۔ وہاں آتش بازی ہوئی تھی، تو یہاں آسمان روشن ہوگا۔ افسوس! یہ سب وقتی تماشہ ہے، مگر اس تماشے کی قیمت کئی خاندان قرض لے کر ادا کرتے ہیں۔
کتنی عجیب بات ہے کہ ایک طرف نوجوان بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں، دوسری طرف نکاح کے دروازے رسموں نے بند کر رکھے ہیں۔ جب حلال کو مشکل کر دیا جائے، تو حرام آسان لگنے لگتا ہے۔ پھر ہم روتے ہیں کہ معاشرہ خراب ہو گیا، نوجوان بگڑ گئے، گھروں سے سکون اٹھ گیا۔ سوال یہ ہے کہ بگاڑ پیدا کس نے کیا؟
یاد رکھیے! شادی برکت سے ہوتی ہے، بینڈ باجے سے نہیں۔ گھر محبت سے آباد ہوتا ہے، مہنگے فرنیچر سے نہیں۔ رشتہ اخلاق سے قائم رہتا ہے، جہیز سے نہیں۔ اگر ہم واقعی اپنی نسلوں کو بچانا چاہتے ہیں تو نکاح کو آسان بنانا ہوگا، رسموں کو توڑنا ہوگا، سادگی کو اپنانا ہوگا۔
آئیے فیصلہ کریں کہ اب شادی کو شادی رہنے دیں، بازار نہ بنائیں۔ نکاح کو سنت بنائیں، تماشا نہ بنائیں۔ جہیز، نمود و نمائش، فضول رسومات اور جھوٹی شان کے بت توڑ دیں۔ تاکہ کسی غریب کی بیٹی کی آنکھیں انتظار میں نہ بجھیں، کسی باپ کا دل فکر میں نہ ٹوٹے، اور کسی نوجوان کی جوانی گناہوں کی نذر نہ ہو۔
وہ دن کب آئے گا جب لوگ پوچھیں گے: شادی میں کیا خرچ ہوا؟ نہیں، بلکہ یہ پوچھیں گے: نکاح کتنی سادگی اور کتنی برکت سے ہوا؟
معاشرے میں پھیلی ہوئی کچھ برائیوں کا جائزہ لیتے ہیں اور انہیں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
رسمِ ہلدی: مسلم معاشرے میں داخل ہونے والی ایک رسمِ بد:
مسلم معاشرہ جس کی بنیاد حیا، سادگی اور شرعی حدود پر رکھی گئی تھی، آج افسوس ناک طور پر ہندووانہ اور غیر اسلامی رسومات کی نقالی میں اپنی شناخت کھوتا جا رہا ہے۔ انہی بگڑی ہوئی رسومات میں ایک نمایاں اور شرمناک اضافہ ”رسمِ ہلدی“ ہے، جو نہ صرف غیر اسلامی ہے بلکہ صریحاً فحاشی، بے پردگی اور اخلاقی زوال کو فروغ دینے والی رسم بن چکی ہے۔
یہ رسم بظاہر خوشی اور نکاح کی تیاری کے نام پر انجام دی جاتی ہے، مگر حقیقت میں اس کا مقصد تماشا، نمائش اور بے حیائی کے سوا کچھ نہیں۔ لڑکا ہو یا لڑکی سب کو پہلے پیلے کپڑوں میں ملبوس کیا جاتا ہے، جسم پر ہلدی ملی جاتی ہے، قہقہے لگتے ہیں، موبائل کیمرے چلتے ہیں اور ویڈیوز سوشل میڈیا کی نذر ہو جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے: یہ کیسی حیا ہے؟ یہ کیسا اسلامی نکاح کا پیش خیمہ ہے؟
سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس رسم میں پردے کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ غیر محرموں کا آزادانہ اختلاط، بے تکلف ہنسی مذاق، اور ایسی حرکات جو کسی باحیا معاشرے میں ناقابلِ تصور تھیں، آج فخر کے ساتھ انجام دی جا رہی ہیں۔ کیا نکاح جیسے مقدس عمل کی تیاری اس طرح کی جاتی ہے کہ شرم و حیا دروازے سے باہر پھینک دی جائے؟ افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج مسلمان ماں باپ خود اس رسمِ بد کے سب سے بڑے سرپرست بن چکے ہیں۔ جن ہاتھوں میں بیٹی کی حیا کی حفاظت ہونی چاہیے تھی، وہی ہاتھ آج اسے پیلے جوڑے میں سجا کر مجمع کے سامنے بٹھاتے ہیں، ہلدی لگواتے ہیں، تصویریں بنواتے ہیں اور فخر سے کہتے ہیں: ”بس ایک چھوٹی سی رسم ہے!“
سوال یہ ہے کہ کیا شریعت میں گناہ بھی ”چھوٹا“ اور ”بڑا“ بنا کر حلال کر لیا جاتا ہے؟
یہ رسم صرف بے پردگی تک محدود نہیں، بلکہ غیر محرم مردوں کی موجودگی میں جسم کو چھونا، ہلدی لگانا، قریب آ کر مذاق کرنا؛ یہ سب وہ افعال ہیں جن سے اسلام نے سختی سے روکا ہے۔ مگر آج نکاح سے پہلے ہی وہ سب کچھ کر لیا جاتا ہے جو نکاح کے بعد بھی حدود کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔
ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ نوجوان نسل اسی کو اسلام سمجھنے لگتی ہے۔ بچے اور بچیاں یہی دیکھ کر بڑے ہو رہے ہیں کہ نکاح کا مطلب موسیقی, رنگ بازی، شو آف اور سوشل میڈیا کا مواد ہے۔ پھر کل یہی نسل سوال کرے گی کہ اگر ہلدی جائز تھی تو ناچ گانا کیوں نہیں؟ اگر بے پردگی یہاں درست تھی تو آگے کیوں نہیں؟ یوں ایک بدعت دوسری بدعت کو جنم دیتی ہے، اور ایمان آہستہ آہستہ رسموں کے نیچے دفن ہو جاتا ہے۔
علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ منبر و محراب سے صرف عبادات ہی نہیں، بلکہ ان معاشرتی بگاڑوں پر بھی کھل کر کلام کریں۔ اور والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ سوسائٹی کے دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اللہ کے سامنے جواب دہی کو یاد رکھیں۔ یاد رکھیے! رشتہ دار ناراض ہو جائیں گے تو ایک دن مان جائیں گے، مگر اللہ ناراض ہو گیا تو؟
یہ کہنا بھی ایک بڑا فریب ہے کہ ”ہم نیت اچھی رکھتے ہیں“۔ نیت اچھی ہو مگر عمل خلافِ شریعت ہو تو وہ نیکی نہیں بنتا، بلکہ گناہ پر اصرار بن جاتا ہے۔ اسلام نیت کے ساتھ ساتھ طریقہ بھی سکھاتا ہے، اور رسمِ ہلدی کا طریقہ سراسر غیر اسلامی ہے۔ یہ رسم نہ قرآن سے ثابت ہے، نہ حدیث سے، نہ صحابہ کے عمل سے، نہ اسلاف کے طریقے سے۔ پھر سوال یہ ہے کہ یہ آئی کہاں سے؟ جواب واضح ہے: یہ غیر مسلم تہذیب کی اندھی نقالی ہے، جسے ہم نے ”ماڈرن ہونے“ اور ”سوسائٹی میں چلنے“ کے نام پر قبول کر لیا ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے صاف الفاظ میں خبردار فرمایا کہ جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا، وہ انہیں میں سے ہوگا۔ پھر ہم کس سمت جا رہے ہیں؟
نکاح کو اسلام نے سادہ، پاکیزہ اور بابرکت عمل بنایا ہے۔ اس میں دعا ہے، تقویٰ ہے، ذمہ داری ہے نہ کہ ناچ گانا، نمائش اور رنگ بازی۔ مگر آج ہم نے نکاح کو بھی فنکشن، شو اور ایونٹ بنا دیا ہے۔ ہلدی کی یہ رسم اسی زوال کا علامتی چہرہ ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ علماء، ائمہ، والدین اور باشعور افراد کھل کر اس رسمِ بد کے خلاف آواز بلند کریں۔ خاموشی بھی جرم ہے۔ اگر آج ہم نے اسے ”چھوٹی سی رسم“ کہہ کر نظر انداز کیا تو کل اس سے بھی زیادہ خطرناک بے حیائی ہمارے گھروں میں داخل ہوگی۔
یاد رکھیے! اسلام ہمیں عزت، وقار اور حیا دیتا ہے، اور رسمِ ہلدی ہمیں تماشا، بے پردگی اور ذلت کی طرف لے جاتی ہے۔
فیصلہ ہمیں کرنا ہے: اسلامی تہذیب یا گمراہ رسوم؟
اب بھی وقت ہے! مسلمان اپنے گھروں کو رسوموں کے اڈے نہ بنائیں۔ نکاح کو فنکشن نہیں بلکہ عبادت سمجھیں، اور یہ اعلان کریں کہ: ہمیں اسلام عزیز ہے، سوسائٹی نہیں۔ اگر آج ہم نے رسمِ ہلدی کو رد کر دیا، تو کل ہم اپنی نسلوں کو حیا، غیرت اور اسلامی شناخت دے سکیں گے۔
ورنہ یاد رکھیے... یہ پیلا رنگ صرف کپڑوں کا نہیں، غیرت کے زرد پڑ جانے کی علامت ہے۔
