Loading...

تجدیدی کارنامے (قسط: اول) | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی

تجدیدی کارنامے (قسط: اول)
عنوان: تجدیدی کارنامے (قسط: اول)
تحریر: محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: رافعہ ریاض
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

امام احمد رضا قدس سرہ کے زمانے میں نت نئے فتنے سر ابھار رہے تھے، جن کے ذریعہ مسلمانوں کو مذہبی، معاشرتی، سیاسی اور معاشی سطح پر کمزور کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے ان فتنوں کی سرکوبی، احیائے دین اور ردِ بدعات و منکرات کی خاطر اپنی ذہنی، قلمی اور عملی توانائیاں صرف کیں، جس کا نہ صرف اعتراف کیا گیا بلکہ آپ کی مجددیت کا اقرار و اعلان بھی کیا گیا۔

مجددیت کا اعلان

1318ھ / 1900ء میں پٹنہ کے عظیم الشان تاریخی اجلاس میں محدث بریلوی علیہ الرحمہ کی احیائے سنت و اماتتِ بدعت و ردِ مذہبِ باطل اور اصلاحی و رفاہی خدمات کو دیکھ کر مولانا عبد المقتدر بدایونی (متوفی 1335ھ / 1916ء) نے ارشاد فرمایا: “جنابِ عالمِ اہلِ سنت، مجددِ حاضر مولانا احمد رضا خاں صاحب”۔ اجتماع میں موجود تمام علمائے کرام نے اس کی تائید کی۔ [امام احمد رضا اور جدید افکار و تحریکات، ص: 182]

اصلاح و تجدید اور احیائے دین کے منظر نامے پر جو کارنامے درخشاں اور تاباں نظر آرہے ہیں یہ مختصر صفحات ان پر تفصیلی گفتگو کے متحمل نہیں، البتہ مختصراً چند اصلاحی اور تجدیدی کارنامے پیش ہیں:

فرقہ نیچریت

آزاد خیالی اور فکری بے راہ روی کے علم بردار سر سید احمد خاں اس فرقے کے بانی ہیں، ان کا عقیدہ ہے کہ کوئی چیز مقتضائے طبیعت کے خلاف کسی طرح، کسی صورت، کسی وجہ سے نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ معجزات وغیرہ کے قائل نہیں کہ یہ خلاف نیچر، خلافِ فطرت ہے۔ جسے دیکھنا ہو سر سید کی کتابوں کا مطالعہ کر سکتا ہے۔ امام احمد رضا قدس سرہ ان پراگندہ خیالات کو “اَلْمُعْتَمَدُ الْمُسْتَنَدُ” میں یوں بیان فرماتے ہیں:

فَإِنَّهُمْ يُنْكِرُوْنَ أَكْثَرَ ضَرُوْرِيَّاتِ الدِّيْنِ، وَيُؤَوِّلُوْنَهَا إِلَى مَا تَهْوَى أَنْفُسُهُمْ، فَيَقُوْلُوْنَ: لَا جَنَّةَ، وَلَا نَارَ، وَلَا حَشْرَ أَجْسَادٍ، وَلَا مَلَكَ، وَلَا جِنَّ، وَلَا سَمَاءَ، وَلَا إِسْرَاءَ، وَلَا مُعْجِزَةَ، وَإِنَّمَا عَصَا مُوْسَى كَانَ فِيْ جَوْفِهَا الزِّئْبَقُ، فَإِذَا ضَرَبَتْهُ الشَّمْسُ اهْتَزَّتْ، وَشَقُّ الْبَحْرِ مَا كَانَ غَيْرَ الْمَدِّ وَالْجَزْرِ، وَالِاسْتِرْقَاقُ مِنْ صَنِيْعِ الْوُحُوْشِ، وَكُلُّ شَرِيْعَةٍ جَاءَتْ بِهِ فَلَيْسَتْ مِنَ اللّٰهِ تَعَالَى، إِلَى غَيْرِ ذٰلِكَ مِنْ كُفْرٍ لَّا يُعَدُّ وَلَا يُحْصَى.

ترجمہ: یہ نیچری اکثر ضروریاتِ دین کے منکر ہیں۔ اسے اپنے من چاہے معنی کی طرف پھیر دیتے ہیں، تو کہتے ہیں نہ جنت ہے، نہ دوزخ، نہ حشرِ اجسام یعنی قیامت میں زندہ اٹھانا، نہ کوئی فرشتے، نہ کوئی جن، نہ آسمان ہے، نہ اسراء اور نہ معجزہ (ان کا گمان ہے) موسیٰ کی لاٹھی میں پارہ تھا، تو جب اس کو دھوپ لگتی وہ لاٹھی ہلتی تھی، اور سمندر کا پھٹنا مد و جزر کے سوا کچھ نہیں تھا۔ اور غلام بنانا وحشیوں کا کام ہے اور ہر وہ شریعت جو اس کا حکم لائے تو وہ حکم اللہ کی طرف سے نہیں۔ اس کے علاوہ بھی بے حد و حساب اور بے شمار کفریات ہیں۔ [المعتمد المستند علی المعتمد المستند، ص: 224]

آپ نے ان کی پرزور تردید فرماتے ہوئے “اَلدَّلَائِلُ الْقَاهِرَةُ عَلَى الْكَفَرَةِ الْفَجَرَةِ” نامی رسالہ تحریر فرمایا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!