| عنوان: | سیرتِ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے حسین گوشے (قسط: اوّل) |
|---|---|
| تحریر: | حافظ افتخار احمد قادری |
| پیش کش: | رافعہ ریاض |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
گلشنِ نبوت کے مہکتے پھول، رکابِ دوشِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم، جگر گوشۂ مرتضیٰ، پیکرِ صبر و رضا، امامِ عالی مقام، سید الشہداء، سلطانِ کربلا حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اہل بیتِ اطہار کے وہ حسین و جمیل شہزادے ہیں جن پر انسان تو کیا ملائکہ بھی نازاں ہیں۔ سرزمینِ کربلا کے خونی منظر میں آپ کی قربانیوں کی لازوال داستانِ شہادت کا وہ حسین باب رقم کر گئی کہ شہادت کو بھی آپ کی شہادت پر فخر آیا۔ آپ کی شانِ عظمت کے بارے میں آپ کے نانا جان فخرِ انبیاء، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بوسہ لیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
مَرْحَبًا بِكَ يَا حُسَيْنُ۔ [تاریخِ بغداد: 200]
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی سیرت، صورت، صفات، فضائل، عزم و ہمت، ظلم و جبر کے مقابلے میں استقامت، شجاعت و جوانمردی، باطل کے منہ زور طوفان کے سامنے حق کی علمبرداری کے واقعات کتبِ تاریخ سے لبریز ہیں۔ آپ نے پرچمِ حق کی سربلندی کے لیے اپنی جان کی بھی بازی لگا کر راہِ شہادت میں ایسی تاریخ رقم کی کہ جس کی مثال نہ پہلے تھی نہ ہوگی، بلکہ تاقیامت حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کی قربانیوں کے حسین تذکرے تاریخ کے صفحات اور اوراق پر چمکتے دمکتے رہیں گے۔ ماہِ محرم الحرام کی آمد سے ہی یادِ کربلا تازہ ہو جاتی ہے۔ زبان پر شہدائے کربلا بالخصوص نواسۂ رسول، جگر گوشۂ بتول، نورِ نظرِ مرتضیٰ کی سیرت کے دلشین تذکرے دلوں میں کیف و سرور پیدا کر دیتے ہیں، زبان پر اہلِ بیتِ اطہار کے فضائل و کمالات کے نغمے چھڑ جاتے ہیں، آنکھیں شہدائے کرب و بلا کی قربانیاں یاد کر کے پرنم ہو جاتی ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ آج بھی کرب کے تپتے ریگ زاروں سے حسینی کردار استقامت و جذبۂ ایثار و قربانی کے لیے ابھارتا ہے، حکمتِ دین اور اعلائے کلمۃ الحق کا پرچار کرنے کے لیے انگیخت کرتا ہے۔
قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی سیرت اور فضائل و کمالات پر بے شمار کتابیں لکھی گئیں، بلکہ تدوینِ تاریخ سے پہلے بھی ذکرِ حسین کے چرچے صحابہ کرام میں مشہور تھے جن کا ثبوت احادیثِ مبارکہ اور سیرت کی کتابوں میں درج ہے۔ چنانچہ اس مختصر سے مضمون میں ذکرِ امام حسین رضی اللہ عنہ کے کچھ گوشے قارئین کی نظر کیے جاتے ہیں۔ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادتِ با سعادت ہجرت کے چوتھے سال پانچ شعبان المعظم کو مدینہ المنورہ میں ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیارے نواسے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے سیدھے کان میں اذان دی اور بائیں کان میں تکبیر پڑھی اور اپنے مبارک جھولے شریف سے کھلی عطا کرتے ہوئے دعاؤں سے نوازا۔ ساتویں دن آپ کا نام حسنین کریم رکھا اور ایک بکری سے عقیقہ کیا اور آپ کی والدہ خاتونِ جنت حضرت بی بی فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا: ”حسن رضی اللہ عنہ کی طرح ان کا سر منڈوا کر بالوں کے برابر چاندی خیرات کرو“۔
عارفِ باللہ نور الدین عبد الرحمن جامی قدس سرہ ”شواہد النبوۃ“ میں فرماتے ہیں: منقول ہے کہ امام پاک رضی اللہ عنہ کی مدتِ حمل چھ ماہ ہے۔ حضرت سیدنا علی اور امام حسین رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی ایسا بچہ نہ تھا جسے چھ ماہ کی مدتِ حمل میں پیدا ہوئے ہوں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم امامِ عالی مقام کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: ”حسنین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ پاک اس سے محبت فرماتا ہے جو حسین سے محبت کرے، حسین اسباط میں سے ایک ’سبط‘ ہے۔“ [ترمذی: ج 2، ص 229، حدیث: 3800]
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: میں اور حسین گویا ایک ہی ہیں، ہم دونوں سے محبت ہر مسلمان کو چاہیے، مجھ سے محبت حسین سے محبت ہے اور حسین سے محبت مجھ سے محبت ہے۔
امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما وہ مبارک ہستیاں ہیں جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حسن و حسین (بیٹا) دنیا میں میرے پھول ہیں۔“
کیا بات رضا اس چمنستانِ کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں حسنین ہیں پھول
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں نونہالوں کو پھول کی طرح سونگھتے اور سینہ مبارک سے لپٹاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ کے لختِ جگر امام حسن اور امام حسین سے بے پناہ محبت و پیار کیا کرتے تھے اور ایک مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا اور ان کی محبت کو اپنی محبت کا معیار قرار دیا اور ان سے عداوت یعنی دشمنی کو اپنی دشمنی قرار دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس نے ان دونوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے عداوت کی اس نے مجھ سے عداوت کی۔“ [ابن ماجہ، کتاب السنہ، باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ، ج 1، ص 96، حدیث: 143]
حضرت علامہ جامی قدس سرہ فرماتے ہیں: حضرت امامِ عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شان یہ تھی کہ جب اندھیرے میں تشریف فرما ہوتے تو آپ کی مبارک پیشانی اور دونوں مقدس رخسار سے انوار نکلتے اور قرب و جوار ضیاء بار ہو جاتے۔ [شواہد النبوۃ: 228]
تیری نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عینِ نورِ تیرا سب گھرانہ نور کا
صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی اپنی مشہور کتاب ”سوانح کربلا“ میں فرماتے ہیں: ”حضرت امامِ عالی مقام رضی اللہ عنہ کی ولادت کے ساتھ ہی آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر مشہور ہو چکی۔ شیر خوارگی کے ایام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام الفضل کو آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی، خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا نے اپنے اس نونہال کو زمینِ کربلا میں خون بہانے کے لیے اپنا خونِ جگر پلایا، علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے دل بند جگر پیوند کو خاکِ کربلا میں لوٹنے اور دم توڑنے کے لیے سینہ سے لگا کر پالا، مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیابان میں سوکھا حلق کٹوانے اور راہِ خدا میں مردانہ وار جان نذر کرنے کے لیے امام حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی آغوشِ رحمت میں تربیت فرمایا۔“
حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جبرئیل نے خبر دی کہ میرے بعد میرا فرزند حسین رضی اللہ عنہ زمینِ طف میں قتل کیا جائے گا اور جبرئیل امین علیہ السلام میرے پاس مٹی لائے، انہوں نے عرض کیا کہ ”یہ حسین رضی اللہ عنہ کی خواب گاہ (مقتل) کی خاک ہے۔“ طلبِ قریب کوتہ اس مقام کا نام ہے جس کو کربلا کہتے ہیں۔ [الخصائص الکبریٰ، ج 2، ص 125]
امام احمد نے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری ولادتِ سرائے اقدس میں وہ فرشتہ آیا اس سے قبل کبھی حاضر نہ ہوا تھا، اس نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند حسین رضی اللہ عنہ قتل کیے جائیں گے اور اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس زمین کی مٹی ملاحظہ کراؤں جہاں وہ شہید ہوں گے۔ [الرد المختار علی خلیل، ج 3، ص 136]
الغرض تاریخِ اسلام کے اوراق جب بھی پلٹے جائیں گے تو حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کا تابندہ اور درخشاں کردار ہر دور کے انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتا رہے گا۔
