| عنوان: | حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان میں شین کو سین پڑھتے تھے (اسھد) اس مشہور واقعے کا تحقیقی جائزہ |
|---|---|
| تحریر: | عمر سفیر رضوی |
عوام الناس، کم علم خطباء اور کم خواندہ ائمہ مساجد کے درمیان ایک واقعہ بڑی شہرت رکھتا ہے، جسے خطباء حضرات بڑے جوش و خروش سے منبر و محراب پر بیان کرتے ہیں۔ واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ جب اذان دیتے تھے تو شین کے بجائے سین ادا کرتے تھے۔ اور جب اس بات کی بابت دلیل طلب کی جائے کہ یہ واقعہ کہاں مذکور ہے یا اس کی کیا سند ہے تو بطور حوالہ ایک حدیث پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “سین بلال عند اللہ شین” یعنی اللہ کے نزدیک بلال کی سین شین کے برابر ہے۔
آئیے اب ہم اس واقعہ اور اس منسوب حدیث کا علمی و تحقیقی جائزہ لیتے ہیں کہ آیا یہ روایت ثابت ہے یا محض مشہور ہوگئی ہے۔
اس تعلق سے امام ابن کثیر لکھتے ہیں:
وَكَانَ يُعْرَفُ بِبِلَالِ بْنِ حَمَامَةَ وَهِيَ أُمُّهُ، وَكَانَ مِنْ أَفْصَحِ النَّاسِ لَا كَمَا يَعْتَقِدُهُ بَعْضُ النَّاسِ أَنَّ سِينَهُ كَانَتْ شِينًا، حَتَّى أَنَّ بَعْضَ النَّاسِ يَرْوِي حَدِيثًا فِي ذَلِكَ لَا أَصْلَ لَهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ سِينَ بِلَالٍ عِنْدَ اللهِ شِينٌ، وَهُوَ أَحَدُ الْمُؤَذِّنِينَ الْأَرْبَعَةِ.
آپ بلال بن حمامہ کے نام سے مشہور تھے، وہ حمامہ آپ کی والدہ تھیں، لوگوں میں فصیح ترین تھے۔ بعض لوگ جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ان کا سین ہی اصل میں شین تھا یہ درست نہیں ہے، یہاں تک کہ اس کے بارے میں حدیث بھی روایت کی جاتی ہے کہ بلال کا سین اللہ کے ہاں شین ہے، بلکہ حضرت بلال تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چار مؤذنوں میں سے ایک تھے۔ [البدایہ والنہایہ، ج: 8، ص: 305، مطبوعہ: دار الہجر]
امام سخاوی لکھتے ہیں:
حَدِيثُ: سِينُ بِلَالٍ عِنْدَ اللهِ شِينٌ: قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ: إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ أَصْلٌ وَلَا يَصِحُّ.
حدیث: بلال کا سین اللہ کے نزدیک شین ہے، حافظ ابن کثیر کہتے ہیں اس کی کوئی اصل نہیں اور نہ صحیح ہے۔
اسی صفحہ میں چند سطروں کے بعد ابن قدامہ حنبلی کا قول بھی ذکر ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب (المغنی) میں لکھا ہے کہ:
رُوِيَ أَنَّ بِلَالًا كَانَ يَقُولُ: أَسْهَدُ، يَجْعَلُ الشِّينَ سِينًا، وَالْمُعْتَمَدُ الْأَوَّلُ.
مروی ہے کہ حضرت بلال اسھد کہا کرتے تھے، وہ سین کو شین بنا دیتے تھے، معتمد پہلا قول ہے (یعنی ابن کثیر کا قول)۔ [المقاصد الحسنہ، ص: 397، مطبوعہ: مکتبہ بیروت]
سیرت حلبیہ میں ہے:
يُرْوَى أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُبْدِلُ الشِّينَ فِي أَشْهَدُ سِينًا، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سِينُ بِلَالٍ عِنْدَ اللهِ شِينٌ، قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ: لَا أَصْلَ لِرِوَايَةِ سِينُ بِلَالٍ شِينٌ فِي الْجَنَّةِ.
مروی ہے حضرت بلال اشھد میں شین کو سین سے بدل دیتے تھے، آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال کی سین اللہ کے نزدیک شین ہے، ابن کثیر کہتے ہیں اس روایت کی اصل نہیں ہے کہ بلال کی سین جنت میں شین ہے۔ [السيرة الحلبيه، ج: 2، ص: 142، طبع: بيروت]
امام زرقانی فرماتے ہیں:
وَقَدْ قَالَ الْمِزِّيُّ: لَمْ نَرَهُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْكِتَابِ.
حافظ مزی فرماتے ہیں ہم نے اسے کسی کتاب میں نہیں پایا۔ [شرح الزرقانی علی مواھب اللدنیہ، ج: 2، ص: 197، مطبوعہ: بیروت]
شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: یہ واقعہ بعض کتابوں میں درج ہے لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع من گھڑت ہے اور یہ بالکل جھوٹ ہے۔ [فتاوی شارح بخاری، ج: 2، ص: 38، مجمع البرکات]
فتاویٰ مرکز تربیت افتاء میں ہے: یہ واقعہ موضوع و من گھڑت ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ حضرت بلال سے اذان کے الفاظ صحیح طور پر ادا نہیں ہوتے تھے۔ [فتاویٰ مرکز تربیت افتاء، ج: 2، ص: 647، مطبوعہ: فقیہ ملت اکیڈمی]
خلاصۃ التحقیق
ذکر کردہ تمام دلائل سے یہ حقیقت آفتابِ نیم روز کی طرح روشن ہو جاتی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب یہ واقعہ محض افسانہ اور من گھڑت حکایت ہے، جس کی کوئی بنیاد نہیں۔ اگر اس روایت میں کچھ صداقت کی رمق بھی ہوتی تو حفاظِ حدیث کے عظیم ذخائر میں ضرور اس کا ذکر ہوتا۔ مگر محدثین عظام نے تحقیق و تدقیق کے بعد اس کے ضعف و بطلان کو پوری صراحت کے ساتھ واضح فرما دیا ہے۔ لہٰذا ایسی موضوع روایت کا بیان کرنا، خصوصاً جب ان کا من گھڑت ہونا ثابت ہو جائے، تو ہرگز بیان کرنا جائز نہیں۔ اللہ پاک ہمیں صحیح و درست اسلام لوگوں کو بتانے اور سمجھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
