Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

شیرِ غرّانِ دین حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ|محمد عارف رضا قادری امجدی

شیرِ غرّانِ دین حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
عنوان: شیرِ غرّانِ دین حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
تحریر: محمد عارف رضا قادری امجدی
پیش کش: جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی

مکہ کے تعلیم یافتہ اور تحمل مزاج سردار جبیر بن مطعم بدر کی ذلت آمیز شکست اور اپنے چچا طُعیمہ بن عدی کے قتل کو بھول نہ سکے تھے۔ انہوں نے اپنے غلام، وحشی بن حرب نامی ماہر نشانے باز حبشی کو یہ پیش کش کی:
إِنْ قَتَلْتَ حَمْزَةَ بِعَمِّي فَأَنْتَ حُرٌّ
"اگر تم نے حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کو میرے چچا کے بدلے میں قتل کر دیا تو تم آزاد ہو جاؤ گے۔"

جنگِ احد اور سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کا جذبۂ جہاد

غزوۂ احد کے موقع پر حضور سیدِ عالم ﷺ نے جب صحابہ کرام سے مشورہ فرمایا تو حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ نے نہایت جرأت و شجاعت کے ساتھ عرض کیا:
وَالّذی اَنْزَلَ عَلَیكَ الکِتٰب لَا اَطعَمُ الیَومَ طَعَاماً حَتّٰى اُجَالِدَھُم بِسَیفِی خَارِجَ المَدِینة۔
"اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ پر یہ کتاب نازل فرمائی! میں آج اس وقت تک کھانا نہیں کھاؤں گا جب تک مدینۂ منورہ سے باہر نکل کر اپنی تلوار سے ان کا مقابلہ نہ کر لوں۔"

میدانِ احد میں شیرِ خدا کی شجاعت

جنگِ احد میں سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ ایک جری شیر کی مانند دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ کافروں کے علم برداروں کو ایک ایک کر کے واصلِ جہنم کیا۔ سِباع بن عبدالعزیٰ کی للکار پر آپ آگے بڑھے اور فرمایا:
يَا ابْنَ أُمِّ أَنْمَارَ مُقَطِّعَةِ الْبُظُورِ، أَتُحَادُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ؟
"اے امِ انمار کے بیٹے! کیا تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کرنے آیا ہے؟" یہ کہہ کر آپ نے اسے ایک ہی وار میں واصلِ جہنم کر دیا۔

جامِ شہادت

وحشی بن حرب چٹانوں کی اوٹ میں تاک میں چھپا ہوا تھا۔ جب حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی زرہ ہلنے سے جسم کا کچھ حصہ ظاہر ہوا تو وحشی نے اپنا نیزہ پھینکا جو ناف کے نیچے لگا اور جسمِ مبارک کو چیرتا ہوا پار نکل گیا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود آپ نے وحشی کی طرف بڑھنے کا ارادہ کیا، لیکن زخم کی تاب نہ لا کر زمین پر تشریف فرما ہو گئے اور جامِ شہادت نوش کر گئے۔

غمِ مصطفیٰ ﷺ اور خراجِ تحسین

جنگ کے بعد حضور نبی کریم ﷺ نے شہدائے احد کی تلاش کے دوران اپنے محبوب چچا کی خبر پوچھی۔ جب نعشِ مبارک ملی تو آپ ﷺ کا دل بھر آیا۔ ہند بنت عتبہ کے کیے گئے بے رحمانہ سلوک کو دیکھ کر آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات شروع ہو گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
رَحمَةُ اللّٰه عَلَيكَ فَاِنّك كُنتَ كَمَا عَلِمتُكَ فَعُولاً لِلخَيرَاتِ وَصُولاً لِلرّحمِ۔
"آپ پر اللہ کی رحمتیں ہوں، جیسا میں آپ کو جانتا تھا آپ بھلائیاں کرنے والے اور صلہ رحمی کرنے والے تھے۔"

جنازے کے موقع پر حضور ﷺ نے درد بھرے الفاظ میں فرمایا:
“اے حمزہ! اے رسولِ اللہ کے چچا، اللہ اور اس کے رسول کے شیر! اے بھلائیوں میں پیش پیش رہنے والے، اے رنج و ملال اور پریشانیوں کو دور کرنے والے، اے رسول اللہ کے چہرے سے دشمنوں کو دور بھگانے والے!”

پاک فطرت ہے تری، پاک نسب ہے تیرا
نام حمزہ، اسدُ اللہ لقب ہے تیرا
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!