| عنوان: | حدیث قسطنطنیہ اور یزید |
|---|---|
| تحریر: | محمد تحسین رضا نوری |
| پیش کش: | عائشہ امجدی کشمیر |
اس دورِ پرفتن میں ایمان جیسے بیش قیمتی خزانے کو لوٹنے اور عقائدِ اہل سنت کو اپنی سازشوں اور تشنیع سے داغدار کرنے والے فتنہ پردازوں نے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ معاشرے میں قرآن و سنت سے دوری کی وجہ سے نت نئے فتنے جنم لے رہے ہیں۔ ایک جانب اہل تشیع اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہونے کی چالیں چل رہے ہیں، تو دوسری جانب فتنہ خارجیت و ناصبیت بھی شباب پر ہے۔ ان فتنہ گروں نے اپنے گروہ کے لیے یزید کو جنتی بنانے اور اس کے اعمالِ قبیحہ پر پردہ ڈالنے کی بھرپور کوشش کی ہے اور اسے حدیثِ “ام حرام” (قسطنطنیہ کی جنگ) کا مصداق ٹھہرا کر مغفور و مبرور گردان رہے ہیں۔
یزید کی شخصیت اور مظالم
سوال یہ ہے کہ وہ شخص جنتِ نعیم کا حقدار کیسے ہو سکتا ہے جس کا دامن اہلِ بیتِ اطہار کے خون سے تربتر ہو؟ جس نے اکابر و اصاغر اور خواتین کے تقدس کو پامال کیا، شریعتِ مصطفیٰ کی دھجیاں اڑائیں، حرمینِ شریفین کے تقدس کو پامال کیا اور صحابہ و تابعین کا قاتل بنا؟
یزید کے ظلم و ستم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب اہلِ مدینہ نے حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں یزید سے مقابلے کی بیعت کی تو انہوں نے فرمایا: “اے میری قوم! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، ہم یزید کے خلاف اس وقت اٹھ کھڑے ہوئے جب ہمیں یہ خوف ہونے لگا کہ کہیں ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش نہ ہونے لگے۔ وہ ایسا شخص ہے جو ماؤں، بیٹیوں اور بہنوں سے نکاح حلال قرار دیتا ہے، شراب نوشی کرتا ہے اور نماز چھوڑتا ہے۔” (طبقاتِ کبریٰ)
حدیثِ قسطنطنیہ کا صحیح مفہوم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ. [صحیح البخاری]
ترجمہ: میری امت کا سب سے پہلا لشکر جو قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) پر چڑھائی کرے گا، ان کی مغفرت ہو گئی۔
علماء و محدثین نے یزیدیوں کے استدلال کا رد کرتے ہوئے چند اہم نکات بیان کیے ہیں:
-
شمولیت کا عدمِ ثبوت: بہت سے محدثین نے ثابت کیا ہے کہ یزید کا قسطنطنیہ کی اس مخصوص جنگ میں شامل ہونا ہی ثابت نہیں ہے۔ جب شمولیت ہی ثابت نہیں تو وہ “مغفور لہم” کا مصداق کیسے ہو سکتا ہے؟
-
مغفرت کی شرط: امام ابن حجر عسقلانی، امام بدر الدین عینی اور امام قسطلانی جیسے جلیل القدر شارحینِ بخاری فرماتے ہیں کہ “مغفور لہم” کا اطلاق اس پر ہوتا ہے جو اہل مغفرت ہو۔ اگر بالفرض یزید اس لشکر میں شامل بھی تھا، تو یہ بخشش اس جنگ سے پہلے کے گناہوں کی ہو سکتی ہے۔ لیکن یزید نے اس کے بعد جو عظیم جرائم (واقعہ کربلا اور واقعہ حرّہ) کیے، وہ اس بشارت کے عموم سے خارج ہیں۔
-
مدینۃِ قیصر سے مراد: بعض محدثین کے نزدیک “مدینۃِ قیصر” سے مراد قسطنطنیہ نہیں بلکہ “حمص” ہے جو عہدِ رسالت میں روم کا دارالحکومت تھا۔ یہ شہر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ۱۵ ہجری میں فتح ہوا، جب یزید پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔
-
پہلا حملہ: اگر مراد قسطنطنیہ ہی ہو، تو یہ بشارت صرف “پہلی بار” حملہ کرنے والے لشکر کے لیے ہے۔ تاریخ کی مستند کتب (جیسے البدایہ والنہایہ) کے مطابق قسطنطنیہ پر پہلا حملہ ۳۲ ہجری میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوا تھا۔ اس وقت یزید کی عمر صرف ۶ سال تھی، لہٰذا وہ اس بشارت کے مستحقین میں شامل نہیں ہو سکتا۔
خلاصہ کلام
یزید کی قسطنطنیہ کی مختلف جنگوں میں شرکت کے حوالے سے تاریخی اقوال ملتے ہیں (49، 50، 52، یا 55 ہجری)، لیکن ان میں سے کسی بھی قول کو مان لینے سے وہ پہلی بشارت کا مصداق نہیں بنتا، کیونکہ اس سے قبل متعدد حملے ہو چکے تھے۔ بغیر تحقیق یزید کو اس بشارت کا مصداق ٹھہرانا سراسر کذب اور حقائق کو چھپانے کی ناپاک کوشش ہے۔
اللہ کریم ہمیں فتنہ گروں کے شر سے محفوظ رکھے اور جملہ مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرمائے۔ آمین!
