Loading...

تجدیدی کارنامے (قسط: دوم) | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی

تجدیدی کارنامے (قسط: دوم)
عنوان: تجدیدی کارنامے (قسط: دوم)
تحریر: محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: رافعہ ریاض
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

فرقہ قادیانیت

ختم نبوتِ اہلِ سنت کا اجماعی عقیدہ ہے جس سے انحراف کفر ہے کیونکہ یہ ضروریاتِ دین سے ہے۔ لیکن انیسویں صدی کے اخیر میں قادیانی فتنہ اٹھا، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی آخریّتِ افضلیت پر جارحانہ اور رکیک حملے ہوئے اور ختمِ نبوت کا انکار کیا گیا۔

مرزا غلام احمد قادیانی (ولادت 1839ء / متوفی 1908ء) نے مہدی، مسیح موعود اور نبوت کا دعویٰ کیا، صرف یہی نہیں بلکہ نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم سے خود کو افضل گردانا اور اپنے نبی ہونے کی دلیل میں سورۂ مجادلہ کی آیت:

مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّأْتِيْ مِنْ بَعْدِي اسْمُهٗ أَحْمَدُ

سے پیش کی۔

مذکورہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے اس نے لکھا:

لَيْسَ الْمُرَادُ بِهٖ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلِ الْمُرَادُ بِأَحْمَدَ فِيْ هٰذِهِ الْآيَةِ الْمُرَادُ الْمِرْزَا غُلَام أَحْمَد

یعنی مذکورہ آیت میں احمد سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ اس سے مراد مرزا غلام احمد ہے۔ [انتباہ القادیانی، ص: 7، بحوالہ: امام احمد رضا کے افکار و نظریات، ص: 190]

نیز انبیائے کرام خصوصاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرتے ہوئے لکھتا ہے:

“ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے” [ایضاً، ص: 112]

قادیانی اور اہلِ قادیانیت کے مزید باطل و مفسد عقائد کی تفصیلات دیکھنی ہو تو “اَلْمُعْتَمَدُ الْمُسْتَنَدُ”، “حُدُوْثُ الْفِتَنِ” اور “امام احمد رضا کے افکار و نظریات” کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ نے اس قسم کے لغویات و اباطیل کا قلع قمع کرنے کے لیے کئی فتاویٰ تحریر فرمائے۔ جو “فتاویٰ رضویہ” اور “اَلْمُعْتَمَدُ الْمُسْتَنَدُ” میں شائع ہوئے ہیں، اس کے علاوہ درج ذیل کتابیں ان کی نوکِ قلم سے منصہ شہود پر آئیں، مثلاً:

  1. قَهْرُ الدَّيَّانِ عَلَى مُرْتَدِّ قَادِيَان (1333ھ)

  2. اَلسُّوْءُ وَالْعِقَابُ عَلَى أَبَحِّ الْكَذَّابِ (1340ھ)

  3. اَلْمُبِيْنُ خَتْمُ النَّبِيِّيْنَ (1337ھ)

  4. جَزَاءُ اللّٰهِ عَدُوَّهٗ بِآيَةِ خَتْمِ النُّبُوَّةِ (1337ھ)

  5. اَلْجِرَازُ الدَّيَّانِيُّ عَلَى الْمُرْتَدِّ الْقَادِيَانِيِّ (1337ھ)

فرقہ روافض و شیعہ

اہلِ سنت اور روافض کے اختلاف کا آغاز عہدِ صحابہ ہی میں ہو چکا تھا۔ رفتہ رفتہ اس میں حدت و شدت پیدا ہوئی۔ اور روافض نے اعمال و عقائد ہر چیز میں اپنا الگ تشخص قائم کیا۔ ہندوستان کے اندر بھی ان کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ دورِ اخیر میں حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی قدس سرہ (وصال 1239ھ / 1823ء) نے ان کے رد میں “تحفہ اثنا عشریہ” جیسی عظیم الشان کتاب لکھی جو آج لاجواب ہے۔ اکابرین نے ان کے خلاف قلمی جہاد جاری کیا اور امام احمد رضا قدس سرہ نے بھی اسلاف کے طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے متعدد رسائل لکھے اور ان کا شدید تعاقب کیا۔ اپنے ایک رسالے “رَدُّ الرَّفْضَةِ” میں (جو فتاویٰ رضویہ چودہویں جلد میں بھی شامل ہے) ان کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:

“روافض زمانہ تو ہر صرف تبرائی نہیں بلکہ یہ تبرائی علی العموم منکرانِ ضروریاتِ دین اور باجماعِ مسلمین یقیناً قطعاً کافر مرتدین ہیں۔ یہاں تک کہ علمائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ جو انہیں کافر نہ جانے وہ خود کافر ہے۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 14، ص: 490]

مزید تفصیل کے لیے حضرت امام احمد رضا بریلوی کی مندرجہ ذیل کتابیں مطالعہ کریں جنہیں آپ نے روافض کی تردید و ابطال میں تحریر کیا ہے:

  1. غَايَةُ التَّحْقِيْقِ فِيْ إِمَامَةِ الْعَلِيِّ الصِّدِّيْقِ

  2. وَجْهُ الْمَشْرُوْقِ بِجَلْوِيَّةِ أَسْمَاءِ الصِّدِّيْقِ وَالْفَارُوْقِ

  3. مَطْلَعُ الْقَمَرَيْنِ فِيْ إِبَانَةِ سِيَادَةِ الْعُمَرَيْنِ

  4. اَلْهُدَى وَالشُّوْرَةُ لِمَهْدِيِّ شِيْعَةِ الشُّرَدِ

  5. اَلْأَدِلَّةُ الطَّاعِنَةُ فِيْ آذَانِ الْمُلَاعَنَةِ

  6. أَعَالِي الْإِفَادَةِ فِيْ تَقْرِيْبِ الْمُعْتَمَدِ وَبَيَانِ الشَّهَادَةِ

  7. كَرَارُ الرَّفْضَةِ

تفضیلیوں کے خلاف آپ نے مندرجہ ذیل کتابیں تحریر فرمائی ہیں:

  1. اَلصَّمْصَامُ الْحَمِيْدُ عَلَى عُنُقِ الْعَيَّارِ الْمُفْتَرِيْ

  2. اَلْبُشْرَى الْأَجِلَّةُ مِنْ تُحْفَةِ أَجِلَّةٍ

  3. اَلرَّائِحَةُ الْعَنْبَرِيَّةُ مِنَ الْمَجَرَّةِ الْحَمْدِيَّةِ

  4. فَتْحٌ مُّبِيْنٌ

وہابیت و نجدیّت

وہابیہ منسوب بہ شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی ہیں۔ جس نے تمام اہلِ اسلام کو لادینیہ کافرہ مشرک بنایا۔ اس کے مقلد و وضع کردہ وہابیہ نجدیہ نے حرمین شریفین پر حملہ کیا۔ اور کوئی دقیقہ گستاخی و بے ادبی و شرارت و ظلم و قتل و غارت گری کا اٹھا نہ رکھا۔ اور ساری دنیائے اہلِ سنت و جماعت کے لیے فتنہ اور وبالِ عظیم ثابت ہوا۔ ہزاروں علمائے کرام نے اس کے خلاف جہاد بالسیف والقلم کیا۔ کتابیں اور مضامین لکھے اور اس کی “كِتَابُ التَّوْحِيْدِ” و عقائد و افکار کا رد کیا۔ ہندوستان میں اس فرقہ کا بانی اسمعیل دہلوی بنا اور ایمان سوز نظریہ کی ترویج و اشاعت میں مصروف ہو گیا جس کے نتیجہ میں نہ صرف ایک بلکہ کئی ایک فرقے وجود میں آگئے یا یوں کہیے کہ اس فرقے کی کئی شاخیں وجود میں آئیں۔ اس تعلق سے مولانا زید ابو الحسن فاروقی تحریر فرماتے ہیں:

“حضرت مجدد الف ثانی (شیخ احمد سرہندی) کے زمانے سے 1240ھ تک ہندوستان کے مسلمان دو فرقوں میں بٹے رہے، ایک اہلِ سنت و جماعت دوسرے شیعہ۔”

“اب مولانا اسمعیل دہلوی کا ظہور ہوا۔ وہ شاہ ولی اللہ کے پوتے، اور شاہ عبد العزیز نیز شاہ رفیع الدین اور شاہ عبد القادر کے بھتیجے تھے۔ ان کا میلان محمد بن عبد الوہاب نجدی کی طرف ہوا۔”

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!