| عنوان: | طلاق اور عصرِ جدید (قسط: چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا ارشاد عالم نعمانی مصباحی |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
عدالت کو طلاق کے سلسلے میں مداخلت کا اختیار کیوں نہیں کہ وہ مرد کے طلاق دینے کے حق پر پابندیاں عائد کر دے اور حقِ طلاق کو محدود کر دے، اور عورت اور مرد میں مصالحت کا عمل انجام دے، تاکہ اس کا انحصار صرف مرد کی خواہش پر رہے۔
اس شبہے کا جواب دیتے ہوئے محمد قطب صاحب لکھتے ہیں: ”ہمارے نزدیک عدالت کو اس معاملے میں مداخلت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیوں کہ فقہ اسلامی میں اس مسئلے کا حل موجود ہے، وہ ہمارے لیے کافی ہے اور اس کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی اور حل کی ضرورت نہیں ہے۔ جہاں تک مصالحت کا تعلق ہے تو اس کا زیادہ تر انحصار خود میاں بیوی پر ہے۔ اگر وہ دونوں خلوص سے صلح کے خواہاں ہوں، تو ان کے دوست، احباب اتنے ہی مفید ثابت ہو سکتے ہیں جتنا کہ کوئی عدالت۔ اگر ان کے دلوں میں یہ خواہش موجود نہ ہو تو دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی عدالت بھی ان میں مصالحت نہیں کرا سکتی۔ اب بھی دنیا میں ایسے ممالک موجود ہیں، جہاں جب افہام و تفہیم کے سارے ذرائع ناکام ہو جاتے ہیں تو عدالتیں ہی طلاق نامے جاری کرتی ہیں، مگر اس کے باوجود ان ممالک میں ہر سال بے شمار طلاقیں واقع ہوتی ہیں۔ صرف امریکہ میں طلاق کی سالانہ شرح %40 ہے، جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ [اسلام اور جدید ذہن کے شبہات، ص: 215]
ہندوستانی سطح پر آزادی کے بعد سے اب تک بے شمار طلاق کے واردات عدالت میں بھی پہنچے ہیں، اور ان پر گرما گرم بحث ومباحثے کے بعد بعض موقعوں سے ایسے فیصلے بھی کورٹ کی جانب سے دیے گئے جو سراسر مسلم عائلی قانون میں مداخلت یا مداخلت کی راہ ہموار کرنے کے مترادف تھا، لیکن مسلمانانِ ہند کا رویہ ہمیشہ مذہبی تعلقات پر عمل کا ایسا رہا جو قابلِ صد آفریں اور لائقِ تحسین ہے۔ علامہ یٰس اختر مصباحی اپنے تجربات ومشاہدے کے آئینے میں فرماتے ہیں: ”مسلمانانِ ہند نے ابھی تک پوری قوت و طاقت کے ساتھ کورٹ سے حکومت تک ہر ایک کو بار بار یہی باور کرایا ہے کہ اپنی شریعت پر عمل کے معاملے میں وہ چاہے جتنے بھی غافل و کاہل ہوں، لیکن وہ یہ برداشت کرنے کے لیے کسی قیمت پر تیار نہیں کہ کسی کورٹ کے ذریعہ ان کے پرسنل لا میں مداخلت ہو۔ ان کا یہ جذبہ، یہ احساس اور یہ غیرت و حمیت قابل صد آفریں ہے، مگر ہم ان سے عرض کریں گے کہ وہ اپنے احساس کی لو تیز کر کے عمل کی طرف پیش قدمی بھی کریں اور شریعت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی عملی زندگی میں شریعت کو نافذ کریں اور اگر عائلی زندگی میں کبھی تنازع پیدا ہو تو اپنے بزرگوں اور اپنے علما کی ہدایت کے مطابق باہمی تصفیہ و مصالحت کی راہ پر گامزن ہوں تاکہ دنیا کے ساتھ آخرت اور عاقبت بھی سدھر اور سنور جائے“ [تین طلاق کا شرعی حکم، ص: 64]
تین طلاق کو ایک طلاق کیوں نہیں مانا جا سکتا؟
بعض انتہا پسند مسلم جماعت اور روشن خیال کہلانے والے مفکرین کی جانب سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ایک نشست میں تین طلاق کو ایک طلاق کیوں نہیں مان لیا جاتا۔ اور کچھ نے تو تین طلاق کو بھی ایک قرار دے لیا ہے جس کی وجہ سے سادہ لوح عوام فریب کھا جاتے ہیں۔ چنانچہ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مفتی نظام الدین رضوی صاحب فرماتے ہیں: ”مسلمان شوہر اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دے، تو اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی، چاہے شوہر نے تین بار میں تین طلاقیں دی ہوں۔ مثلاً یوں کہا: ’میں نے تم کو طلاق دیا، طلاق دیا، طلاق دیا‘ یا ایک ہی بار میں تین طلاقیں دی ہوں۔ مثلاً یوں کہا: ’میں نے تجھ کو تین طلاق دیا۔‘ (کیوں کہ) اس باب میں حضور سید عالم جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی فیصلہ ہے، اسی پر آپ کے تمام صحابہ کرام کا اجماع ہے، یہی حضرات تابعین کا مذہب ہے، اور یہی چاروں مشہور اماموں (امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم) کا مسلک ہے۔“ [ایک نشست میں تین طلاق کا شرعی حکم، ص: 4]
حلالہ کی سزا سابقہ بیوی کو کیوں جھیلنی پڑتی ہے؟
اسلام کے نظام کو اگر باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم پڑے گا کہ ”نکاحِ تحلیل“ عورت کے لیے سزا نہیں بلکہ اس کی خیر خواہی اور پشت پناہی کا مکمل ضامن ہے۔ اسلام کا آئینی مزاج یہ ہے کہ طلاقِ غلیظ کی شکار عورت ایک ایسے گم کردہ راہ اور موڑ پر آکھڑی ہوتی ہے جہاں سے اسے اپنا مستقبل بالکل تاریک نظر آتا ہے اور وہ نفسیاتی طور پر ماؤف دماغ ہوتی ہے ایسی صورت میں اسلام نے مطلقہ عورتوں کے لیے سماج میں اس بات کی ترغیب دی ہے کہ اس کا مستقبل تاریک نہ ہو، بلکہ عورت کے خاندان ورشتہ دار پر ضروری ہے کہ وہ مناسب رشتہ مل جانے کی صورت میں فوراً اس کا عقد نکاح دوسرے شوہر سے کرا دے، تاکہ معاشرہ میں اسے حقارت و ذلت کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے اور اخلاقی اعتبار سے عورت بھی دیوالیہ پن کا شکار نہ ہو جائے، جیسا کہ اور دوسرے معاشرے میں نظر آتا ہے۔ پھر اگر سوئے اتفاق دوسرے شوہر سے بھی بناؤ نہ ہو اور طلاق ہو جائے تو اب یہی عورت پہلے شوہر سے شادی کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔ ہاں! پہلا شوہر جب تک اس مطلقہ عورت کی دوسری شادی نہ ہو جائے، اور وہ دوسرا شوہر اس سے لطف اندوز نہ ہو لے، شادی نہیں کر سکتا اور ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ کوئی شخص نکاح جیسے مقدس رشتہ کو بچوں کا کھیل نہ سمجھے اور اختیارِ طلاق کا خوب سوچ سمجھ کر استعمال کرے۔ اتنا سخت حکم بھی اسی لیے ہے کہ آدمی بات بات پر طلاق دے کر طلاق کو بازیچۂ اطفال نہ بنائے۔ پیشہ ورانہ یعنی چھوڑ دینے کی شرط پر نکاح کرنا یا کرانا اسلامی شریعت کے بالکل منافی ہے، اور ایسا کرنے والوں پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمہ وقت لعنت ہی برستی ہے۔
مفکرِ اسلام مولانا یس اختر مصباحی صاحب لکھتے ہیں: ’’یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ اسلام نے نہ حلالہ کی ترغیب دی ہے نہ حوصلہ افزائی کی ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاقِ مغلظہ (تین طلاق) دے کر اس سے دوبارہ نکاح کے لیے حلالہ (اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بار تین طلاق ہونے کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے مرد سے شادی نہ کرے اور وہ مرد اس کے ساتھ زن و شوہر کے تعلقات استوار کرنے کے بعد اس عورت کو طلاق نہ دے، پہلے طلاق دینے والے شوہر سے اس کی شادی نہ کی جاسکے گی۔) جیسے قبیح عمل کے ذریعہ اپنی اور سابقہ بیوی کی غیرت کو کچل ڈالے۔‘‘ [تین طلاق کا شرعی حکم، ص: 24]
حدیث میں ارشاد فرمایا گیا:
لَعَنَ اللّٰهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ [رقم الحديث: 224]
حلالہ کرنے والوں اور حلالہ کرانے والیوں پر اللہ کی لعنت ہے۔ یعنی جو مرد حلالہ کرتا ہو اور جو عورت حلالہ کراتی ہو، وہ دونوں مردود و ملعون ہیں۔ وقتِ نکاح تحلیل کی شرط کرانا حرام ہے، اور محض حصولِ لذت کے لیے نکاح کرنا قابلِ مذمت و ملامت ہے۔ البتہ بوقتِ ضرورت خیر و اصلاح اور دو گھر آباد کرنے کی نیت سے بلا شرط و معاہدہ ”نکاحِ تحلیل“ جائز ہے۔ [تین طلاق کا شرعی حکم، ص: 24]
بعض لوگ اسے طوائفوں جیسا عمل سمجھتے ہیں، میری نظر میں اسے طوائفوں جیسا عمل کہنا بالکل بیوقوفی و نادانی ہے، کیوں کہ یہ عورت کی عزت و عصمت اور تقدس کو پامالی سے بچانے کے لیے تدبیری عمل ہے۔ کیوں کہ اس میں مطلقہ کے لیے دوسرے شوہر کی تلاش اور اس سے عقد نکاح کر کے زندگی گزارنے کا نجات دہندہ طریقہ ہے۔ ہاں! اس نکاح میں حلالہ کی شرط کرنا یا کرانا مضر اور مخالف شریعت ہے، جسے ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اب بلا شرط نکاح اور لطف اندوزی کے بعد اتفاقی طور پر طلاق ہو جانے کی صورت میں اس کا پہلا شوہر پوری آمادگی اور چاہت سے نکاح کر لیتا ہے تو اس میں کیا مضائقہ ہے۔؟
