| عنوان: | طلاق اور عصرِ جدید (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا ارشاد عالم نعمانی مصباحی |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
طلاق سے متعلق شبہات اور ان کا ازالہ
طلاق کے سلسلے میں آئے دن بے تکے شبہات و اعتراضات پیش کیے جاتے ہیں۔ بادی النظر میں ان شبہات کی اہمیت کا احساس بھی ہوتا ہے لیکن حقیقت سے اس کا کوئی بھی واسطہ نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ سارے اعتراضات اصل میں اسلام کے عائلی و معاشرتی قوانین و نظام سے لاعلمی و ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ اسلام کے نظام معاشرت کا صحیح طریقے سے مطالعہ اس طرح کے سارے شبہات کے تار و پود بکھیرنے کے لیے خود ہی کافی ہے، مگر کیا کیا جائے اس تعصب اور جانبداری کا کہ ہمارے علمائے کرام آئے دن اسلام میں طلاق کی نوعیت، معنویت اور حکمت سے آگاہ کرتے ہیں، لیکن جدید طبقہ اور متعصب قسم کے شر پسند عناصر قانونِ طلاق پر بے جا اور لایعنی اعتراضات کرنے سے نہیں تھکتے۔
تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان غلط فہمیوں کا ذمہ دار بھی مسائل سے ناواقف مسلم طبقہ کا وہ رویہ بھی ہے جو ذاتی خواہش کی تکمیل کے لیے وہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک المیہ ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان کہلانے والے ایک نام نہاد طبقہ کی جانب سے بھی طلاق کے اجتماعی مسائل میں طرح طرح کی گل افشانیاں کی جاتی ہیں۔ جن کی وجہ سے بھی مسلم امت انتشار کا شکار ہوتی ہیں اور عوام الناس کے اندر شریعت پر عمل کا جذبہ سرد بلکہ کم پڑنے لگتا ہے اور وہ عائلی قانون میں سہولت اور تبدیلی کے ہزاروں حیلے بہانے تلاش کرنے لگتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے مخالفین اس موقع سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلم پرسنل لا میں مداخلت سے بھی باز نہیں آتے اور سماج سخت انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔
اگر مسلمان ”ضابطۂ طلاق“ پہ مخلصانہ عمل پیرا ہو جائیں تو وہ غلط فہمیاں خود بخود دور ہو جائیں گی اور اسلام کے ضابطۂ طلاق کی اہمیت و وقعت ان افراد کے ذہن و فکر میں پورے طور پر جاگزیں ہو جائیں گی۔
خیارِ طلاق کا مسئلہ: طلاق کا اختیار شوہر ہی کو کیوں؟
مرد و عورت دونوں کا مشترکہ حق کیوں نہیں؟ عورت اور مرد کے درمیان یہ تفریق کہ طلاق کا حق صرف مرد کو حاصل ہے، یہ دراصل دونوں کے درمیان فطری امتیاز کی وجہ سے ہے۔ چنانچہ جہاں ان دونوں کے درمیان فطری مساوات ہے وہاں اسلام نے بھی ان دونوں کے درمیان مساوات قائم کیا ہے اور جہاں فطرت امتیاز چاہتی ہے، وہاں اس نے بھی ان میں فرق اور امتیاز کیا ہے۔ مرد اور عورت میں اسلام جن مواقع پر فرق کرتا ہے ان میں دو مواقع بہت نمایاں ہیں۔ ایک وراثت کا تقسیم اور دوسرا خاندان کی سربراہی کا معاملہ۔ اسی فطری امتیاز کی وجہ سے اسلام نے معاشرتی حکمت و مصلحت کے پیشِ نظر طلاق کا اختیار صرف شوہر کو دیا ہے۔
قرآنِ پاک کا ارشاد ہے:
بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ [سورۃ البقرۃ: 237]
شوہر کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔
حدیث شریف میں ہے:
الطلاقُ بِيَدِ مَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ [رقم الحديث: 224، ج: 9، ص: 49]
طلاق کا اختیار مرد کو ہے۔
اور اسلام کا یہ نظریہ فطرت سے بالکل ہم آہنگ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ دونوں کے درمیان فطری تفریق و امتیاز کی تکمیل ہے۔ مرد فطری اعتبار سے توانا، تندرست اور مضبوط جسم کا مالک ہوتا ہے۔ اس کی ذہنی اور فکری صلاحیتیں بھی عورتوں کی بہ نسبت بہت قوی ہوتی ہیں۔ اس کے اندر صبر و تحمل کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔ جب کہ عورت مرد کے برعکس جسمانی و ذہنی اعتبار سے کمزور اور سخت جذباتی ہوتی ہے۔ اس فطری تفریق کا تقاضا ہے کہ مرد خاندان کا نگراں رہے اور طلاق کا اختیار بھی اسی کے سپرد کیا جائے۔ جن معاشروں میں طلاق کا اختیار مردوں کو نہیں ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ معاشرہ عورتوں کے تعلق سے بہت مخلص ہے، عورتوں کی خیرخواہی و غم گساری کا جذبہ ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، نہیں! بلکہ ان کے سامنے وہ موانع و مشکلات اور پیچیدگیاں ہیں جو خود ان کے ضابطہ و قانونِ نکاح و طلاق کی وجہ ہیں اور اسلامی ضابطہ طلاق میں ایسا نہیں جس کی تفصیل ما سبق میں گزری۔
ہندو معاشرے میں طلاق کا اختیار مردوں کو نہ دیے جانے کی پیچیدگیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر عمر حیات خاں غوری لکھتے ہیں: ”ہندو معاشرے میں مطلقہ اور بیوہ کی بڑی درگت بنتی ہے اور اس کے لیے زندگی عذاب ہو جاتی ہے۔ اس معاشرے میں بیوہ عورت انتہائی منحوس تصور کی جاتی ہے۔ اسے انتہائی حقیر و ذلیل سمجھا جاتا ہے۔ ساسیں اپنی بہو کو اور مائیں اپنی بیٹی کو ایسی عورت کے پاس بیٹھنے تک نہیں دیتیں۔ سہاگن عورتیں ان سے دور رہتی ہیں اور خود عورتوں کی نشتر زنی ان کے لیے معاشرے میں چلنا پھرنا محال بنا دیتی ہے، اور پھر ہندو معاشرے میں بیوہ عورت کی دوبارہ شادی کی بھی اجازت نہیں ہے۔ ایسے معاشرے میں مرد کو طلاق کا حق دینا واقعی عورت پر بدترین ظلم قرار پائے گا۔“ [غیر مسلم ذہن کے شبہات اور ہمارا موقف، ص: 58]
عورت اور مرد دونوں میں فطری امتیاز کے باوجود جن ملکوں یا جن معاشروں میں یہ اختیار عورتوں کو بھی قانوناً دے دیا گیا ہے اس کی کسمپرسی اور ابتری کا یہ سنسنی خیز انکشاف بھی بصیرت افروز ہے۔
بریڈ فورڈ (برطانیہ) کے ایک ٹیکنیکل ادارہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فرینک کا کہنا ہے : ”شادیوں کے ٹوٹنے میں اب جو اتنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغرب میں عورت کو غیر معمولی آزادی حاصل ہو گیا ہے اور ماہرینِ حیاتیات کا تجزیہ ہے کہ جب سوسائٹی پر ان کا قبضہ ہو جاتا ہے تو رشتہٴ ازدواج کمزور پڑ جاتا ہے اور جس معاشرے میں باپ کے اقتدار کا غلبہ رہتا ہے وہاں یہ تعلق مستحکم رہتا ہے۔“ [مغربی تہذیب انحطاط کی شاہراہ پر]
طلاق کا حق مردوں سے کیوں نہیں لیا جا سکتا؟
بعض لوگوں کی جانب سے یہ شبہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ طلاق کا یہ خطرناک ہتھیار جو مردوں کو حاصل ہے اور جس سے کسی وقتی جذبے کے تحت وہ کسی وقت بھی ایک صابرہ عورت کی زندگی کو تباہ اور اپنے بچوں کے مستقبل کو تاریک کر سکتا ہے، کیوں نہ اس سے لے لیا جائے، تاکہ وہ اپنے اس حق کا غلط استعمال کر کے کسی کو نقصان نہ پہنچا سکے؟
میں سمجھتا ہوں یہ شبہ بھی بے جا ہے، کیوں کہ جس طرح اسلام نے مرد کو طلاق کا اختیار دیا ہے، اسی طرح عورت کے لیے بھی ’’تفویضِ طلاق‘‘ یا ’’تعلیقِ طلاق‘‘ کے ذریعہ اس کا حق دیا ہے، جس کی صورت یہ ہو سکتی ہے وقتِ نکاح، یا بعدِ نکاح عورت اپنے شوہر سے طلاق کا اختیار لے لے۔ اور خود بیوی ہی وقتی جذبے میں اس کا غلط استعمال کرے تو کیا ہم اسے قانون کی خرابی کہیں گے؟ نہیں، یہ قانونی حق کا غلط استعمال ہوگا۔ اس کی وجہ سے قانون ہی ختم نہیں کر دیا جائے گا بلکہ اس کو غلط استعمال سے بچانے کی ذہنی تربیت اور اصلاح کی تدبیر عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری بات اگر اس حق کو ختم کر دیا جائے تو پھر اس جائز حق سے محروم کرنے کے نتیجے میں جو بھیا نک صورتِ حال پیش آئے گی اس کا تدارک کیا ہوگا؟ صورتِ حال کی ابتری اور پیچیدگی پر روشنی ڈالتے ہوئے سید محمد قطب شریف لکھتے ہیں:
’’اگر شادی کو ایک دائمی اور ناقابلِ انقطاع رشتہ بنا دیا جائے، تو ذرا اس میاں بیوی کے حشر کا تصور کیجیے جو ایک دوسرے سے متنفر ہوں، اور ہر وقت ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے ہوں۔ کیا ایسی صورت میں اخلاقی جرائم کو مزید پھلنے، پھولنے کا موقع نہیں ملے گا؟ کیا خاوند اور بیوی گھر سے باہر داشتائیں اور آشنا نہیں ڈھونڈیں گے، تاکہ جنسی آسودگی حاصل کر سکیں؟ ظاہر ہے کہ اس قسم کے تاریک، گندے اور بیمار ماحول میں بچوں کی صحیح پرورش ہونی بھی نامکن ہے۔ کیوں کہ اس کے والدین کی شفقت اور محبت سے زیادہ خوش گوار معاشرتی ماحول ضروری ہے۔ یہیں سے لوگوں کی زندگیوں میں نفسیاتی الجھنیں اور پریشانیاں جنم لیتی ہیں۔ ان کی اصل وجہ اسی قسم کے جھگڑالو والدین ہوتے ہیں، جس کی ایک مثال ہمیں ان رومن کیتھولک ممالک میں ملتی ہے جہاں طلاق قطعاً ممنوع ہے‘‘ [اسلام اور جدید ذہن کے شبہات، ص: 214]
