Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

طلاق اور عصر جدید (قسط: پانچویں)|مولانا ارشاد عالم نعمانی مصباحی

طلاق اور عصرِ جدید (قسط: پنجم)
عنوان: طلاق اور عصرِ جدید (قسط: پنجم)
تحریر: مولانا ارشاد عالم نعمانی مصباحی
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

نفقہ نہ لازم ہونے کی صورت میں عورت کیا کرے؟: بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب عورت کو طلاق ہو گئی، تو اس کے لیے شوہر پر لازم ہونا چاہیے کہ تا وقتِ نکاحِ ثانی اس کے نان و نفقہ کا ذمہ دار شوہر ہو، کیوں کہ اگر وہ ذمہ دار نہ ہوگا، تو یہ عورت سخت مشکلات کا شکار ہوگی اور اس طرح وہ کسمپرسی اور ابتلا و آزمائش کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گی جو کہ عورت پر سراسر ظلم و زیادتی ہے؟

مطلقہ عورت کے نفقہ کے سلسلے میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ اس کے ایام عدت کا نفقہ شوہر پہ لازم ہے۔ عدت میں نان و نفقہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر مطلقہ عورت حائضہ ہے تو تین طہر یا تین حیض اور اگر حائضہ نہیں ہے تو تین ماہ، اور اگر حاملہ ہے تو وضع حمل تک مدت کے پورے خرچ کی ذمہ داری شوہر کے اوپر واجب ہے، خواہ طلاق رجعی ہو یا بائن ہو یا مغلظہ اور اس سلسلے میں اسلام نے مناسب اور حسب حیثیت و استطاعت خرچ کی ادائیگی کی تلقین و ہدایت کی ہے۔ قرآن کریم میں ہے:

وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ [سورۃ البقرۃ: 241]

اور طلاق والیوں کے لیے مناسب طور پر نان ونفقہ ہے۔

اور ساتھ ہی یہ بھی ہدایت کی ہے کہ جہاں وہ خود رہے وہیں بیوی کو بھی رکھے:

أَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَلَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّ وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوْا عَلَيْهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ [سورۃ الطلاق: 6]

ترجمہ: عورتوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو اپنی طاقت بھر اور انہیں ضرر نہ دو کہ ان پر تنگی کرو اور اگر حمل والیاں ہوں تو انہیں نان و نفقہ دو یہاں تک کہ ان کے بچے پیدا ہوں۔

اس ضروری مسئلہ کی مختصر وضاحت کے بعد اب ہمارا کہنا یہ ہے کہ جب عورت کا تعلق شوہر سے طلاق اور پھر انقضائے عدت کی وجہ سے ختم ہو گیا تو اب اس کے نان و نفقہ کا ذمہ دار شوہر کیوں ہو گا۔ اس لیے کہ شوہر پر نفقہ کا وجوب تو تعلق زوجیت ہی کی وجہ سے لازم تھا اور اسی کی وجہ سے وہ ذمہ دار تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس عورت کی کفالت، اور اخراجات کی ذمہ داری اسلام نے اس کے گھر والے اور قریبی رشتہ دار کو بنایا ہے۔ ان سب کے لیے مشترک ضروری ہے کہ وہ اس کے آرام وراحت، خوردونوش، لباس و رہائش اور اخراجات کا انتظام کنندہ بنیں اور اس کے لیے بہتر سے بہتر رشتہ تلاش کریں۔ ممکن ہے کہ یہاں بناؤ نہیں ہو، لیکن دوسری جگہ بناؤ ہو جائے اور اس کی زندگی ناخوشگواری کی بجائے خوش و خرم سے گزرے۔

اس سلسلے میں شوہر کو پریشان کرنے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا اور عدالتی چارہ جوئی کے ذریعہ شوہر کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے حیلے، بہانے تراشنا سراسر اسلامی قانون کے خلاف ہے۔ ایسے موقعوں سے مسلم سماج کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سب سے پہلے شریعت کے قانون کی پابندی کرنا ہے۔ اسی میں سب کے لیے نجات ہے، عافیت ہے۔ ورنہ اسلام دشمن عناصر تو اس تاک اور گھات میں لگے ہی رہتے ہیں کہ انہیں کسی طرح حمایت ملے اور وہ مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے اور ان کے پرسنل لا میں مداخلت کریں۔ کبھی کبھی ناعاقبت اندیشی میں اس طرح کے اقدامات سامنے آتے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس ”غیر لازم حق“ کے حصول کے لیے قانون کا سہارا لینا کسی بھی طرح روا نہیں۔ اس کے ذریعہ جو نقصانات پیدا ہوں گے ان کا تدارک نہ تو قانون ہی کے پاس ہو سکتا ہے اور نہ ہی متعلقہ شخص کوئی حل بتا سکتا ہے۔

مطلقہ عورت کے لیے تا نکاحِ ثانی نفقہ لازم کیے جانے کی صورت میں سماج کے لیے کیا کچھ نقصانات سامنے آئیں گے ان پر روشنی ڈالتے ہوئے علامہ یٰسین اختر صاحب مصباحی لکھتے ہیں: [مسلم پرسنل لا کا تحفظ، ص: 19]

  1. بعض مطلقہ عورتیں جن کے اندر بے خوفی و بے باکی ضرورت سے زیادہ ہو گی اور جن کو اپنی عزت و ناموس کا پاس و لحاظ نہیں ہو گا وہ بے راہ روی اختیار کر سکتی ہیں۔ کیوں کہ اب زندگی بھر کے اخراجات کے لیے ان کا مستقبل گویا محفوظ اور رجسٹرڈ ہو چکا ہے۔

  2. جوان اور ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی دوسری شادی سے گریز کریں گی، کیوں کہ اب انہیں اخراجات کی فکر نہیں ہوگی۔ جب کہ طلاق کے بعد مناسب رشتہ ڈھونڈ کر دوسری شادی کر لینے کو اسلام پسند کر لیتا ہے اور اس کی ترغیب دیتا ہے۔

  3. بے لگام اور بد مزاج بیویاں خود اپنے ہی رویہ سے شوہروں کو تنگ کر سکتی ہیں، کیوں کہ حقِ طلاق کا استعمال کسی غریب شوہر کے بس کی بات نہیں رہ جائے گی۔

  4. مال دار شوہر کے لیے اس صورت میں بھی دروازہ کھلا رہے گا، اور وہ چاہے تو شادی کر کے طلاق دیتا رہے اور نان و نفقہ ادا کرتا رہے۔

  5. لڑائی جھگڑا، آپس کے تنازعے اور رسہ کشی سے مجبور ہو کر کوئی نجات حاصل کرنا چاہے، تو اس نان و نفقہ کے ڈر سے اس کی ہمت نہیں کر سکتا۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ خواہ مخواہ وہ اسے پریشان کرے گا کہ کسی طرح یہ ہمت ہار کر خود ہی یہاں سے بھاگنے پر مجبور ہو جائے۔

  6. اس کی بدسلوکی پر بھی وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوگا، تو پھر دوسری خطرناک راہیں اختیار کرے گا، اور خدانخواستہ یہ نوبت بھی آ سکتی ہے کہ مسلم گھرانوں میں بھی اب اسٹواسٹو پھٹنے لگیں گے اور بے گناہ عورتیں جل کر خاکستر ہوتی رہیں گی۔ ان کے علاوہ اور بہت سی سماجی برائیاں پھیلیں گی اور ان سے مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔

ہاں! اس خدشہ کا ازالہ، کہ پھر اس عورت کے مستقبل کا کیا ہوگا؟ اسلام نے اس سلسلے میں بڑے واضح احکام دیے ہیں، اس کا ایک اجمالی جائزہ یہاں ذکر کیا گیا ہے تاکہ اس کے آئینے میں عورت اپنے مستقبل کا تحفظ کریں اور کسی جذباتی رو میں ہرگز ہرگز ”عدالت“ کی راہ لینے کی کوشش نہ کریں۔

  1. اسلام نے ”قانونِ وراثت“ کی شکل میں عورتوں کو جو حقوق دیے ہیں۔ اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ عورت خاندانی جائیدادوں کو ہنگامی حالات کی صورت میں استعمال کریں، اور اس کے ذریعہ اپنے اخراجات کی کفالت کریں۔

  2. والدین پر ذمہ داری ہے کہ اگر مطلقہ عورت بے اولاد ہے یا اولاد کما کر کے اپنی والدہ کو نہیں کھلا سکتا تو وہ اس کے اخراجات کی کفالت کرے، جیسا کہ شادی سے قبل والدین پر ان کی کفالت کی ذمہ داری تھی۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ”میں تم کو افضل و اعظم بھلائی کی بات بتاتا ہوں، اور وہ بھلائی اور احسان کی بات یہ ہے، کہ تم اپنی اس بیٹی پر خرچ کرو جو طلاق یا شوہر کی وفات کی وجہ سے تمہارے پاس آ گئی ہے، اور تمہارے علاوہ اس کے لیے کوئی کمانے والا نہیں ہے۔“ [سنن ابن ماجہ، ص: 269]

  3. مطلقہ عورت کے پاس اگر اولاد ہے، جو اسے کما کر دے سکتا ہے، اس کی ضروریات پوری کر سکتا ہے تو ایسی صورت میں ان اولاد پر ضروری ہے کہ وہ اپنے ماں کے اخراجات کو پورا کریں۔

  4. چوتھی صورت اسلام نے مطلقہ کی کفالت کے لیے یہ پیش کیا ہے کہ والدین یا اولاد نہ ہونے کی صورت میں اس کے قریبی رشتہ دار اس کی حاجت برآری کریں۔

ان واضح انتظامی تدابیر کے ہوتے ہوئے اگر کوئی یہ کہے کہ نان و نفقہ کی ذمہ داری تا نکاح ثانی مرد پہ کیوں لازم نہیں، لازم نہ ہونے کی وجہ سے عورت کا مستقبل داؤ پہ لگ جائے گا۔ وہ بے سہارا ہو جائے گی تو اسے سوائے اسلامی تعلیم سے لاعلمی کے اور کیا کہا جا سکتا ہے؟ ہاں! موجودہ وقت میں سماج کے اندر ضرور ہندوستانی نظام معاشرت کی چند خرابیاں در آئی ہیں۔ مثلاً عورتوں کو وراثت سے کچھ نہ دینا، مطلقہ کے ساتھ نازیبا سلوک کرنا وغیرہ تو یہ سماجی خرابی ہے، نہ کہ اسلامی قانون کی۔ لہذا عورتوں کو اگر ان کے حقوق مل جائیں تو ایسی نوبت ہی نہیں آئے گی۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!