Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

طلاق ثلاثہ کا اسلامی تصور (قسط: دوم)|مفتی محمد نظام الدین رضوی

طلاق ثلاثہ کا اسلامی تصور (قسط: دوم)
عنوان: طلاق ثلاثہ کا اسلامی تصور (قسط: دوم)
تحریر: مفتی محمد نظام الدین رضوی
پیش کش: صوفیہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

مشہور صحابی رسول حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ان کے لیے انہوں نے قسم بھی کھائی کہ شبہ تہمت کی صورت میں بیان نیت کا اعتبار قسم کے ساتھ ہی ہوتا ہے اور اس کی مزید توثیق کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دوبارہ قسم لی۔

اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر حضرت رکانہ نے “طلاق بتہ” سے تین طلاق مراد لی ہوتی تو ان کی بیوی پر تین طلاق مغلظہ واقع ہوتیں۔ اگر تین طلاق کے پڑنے کا احتمال نہ ہوتا تو حضرت رکانہ نہ تو قسم کھاتے اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم لیتے، ایسی صورت میں قسم لینا اور قسم کھانا دونوں لغو ہوتا، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم لی اور حضرت رکانہ نے قسم کھائی تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ اگر ان کی نیت تین طلاق کی ہوتی تو گو کہ وہ لفظ انہوں نے ایک مجلس میں اور ایک ہی دفعہ میں کہا تھا، تاہم سرکار علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فیصلہ یہی ہوتا: “هُوَ عَلَى مَا أَرَدْتَ” طلاق وہی پڑی جس کی تو نے نیت کی، یعنی تین طلاق۔

حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھا، ایک شخص ان کے پاس آیا اور عرض کی کہ “إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا” اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، تو حضرت ابن عباس خاموش رہے، یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ یہ اسے رجعت کا حکم دیں گے، کچھ دیر بعد فرمایا: تم میں ایک آدمی حماقت کر بیٹھتا ہے، پھر کہتا ہے: اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے: “وَمَنْ يَّتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا” جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے (گنجائش کی) راہ نکال دیتا ہے۔ اور تم تو اللہ سے ڈرے نہیں، تو میں تمہارے لیے کوئی گنجائش کی راہ نہیں پاتا “عَصَيْتَ رَبَّكَ وَبَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ” تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تیری بیوی تیرے نکاح سے نکل گئی۔ [سنن ابی داؤد، ج: 1، ص: 299]

حضرت مجاہد کے علاوہ حضرت سعید بن جبیر، حضرت عطاء، حضرت مالک بن حارث، حضرت عمرو بن دینار رضی اللہ عنہم نے بھی حضرت ابن عباس کا یہی فتویٰ بیان کیا ہے۔ چنانچہ ابو داؤد شریف میں ہے:

رَوَى هٰذَا الْحَدِيثَ حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ وَغَيْرُهُ عَنْ مُجَاهِدٍ وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَعَنْ عَطَاءٍ وَعَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، كُلُّهُمْ قَالُوا فِي الطَّلَاقِ الثَّلَاثِ: إِنَّهُ أَجَازَهَا، قَالَ: وَبَانَتْ مِنْكَ.

اس حدیث کو حمید اعرج وغیرہ نے مجاہد، سعید بن جبیر، عطاء، مالک بن حارث اور عمرو بن دینار سے روایت کیا ہے کہ یہ سب حضرات بیان فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے سائل کی تینوں طلاقوں کو نافذ کر دیا اور فرمایا کہ تیری عورت نکاح سے نکل گئی۔ [سنن ابی داؤد، ج: 1، ص: 299]

اسی نوع کے ایک دوسرے واقعہ کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہی فتویٰ صادر کیا۔ چنانچہ حدیث کی مستند کتاب مؤطا امام مالک میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عباس سے کہا: “إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي مِائَةَ تَطْلِيقَةٍ، فَمَاذَا تَرَى عَلَيَّ؟” میں نے اپنی بیوی کو سو طلاق دے ڈالی ہیں، تو آپ مجھے کیا فرماتے ہیں؟

اس کے جواب میں حضرت ابن عباس نے فرمایا: “طَلُقَتْ مِنْكَ بِثَلَاثٍ، وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ بِهَا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا” یعنی تیری عورت پر تین طلاق پڑ گئیں اور ستانوے طلاق دے کر تو نے اللہ کی آیتوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا ہے۔ [مشکوٰۃ المصابیح، ص: 284]

إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ سُئِلُوا عَنِ الْبِكْرِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا ثَلَاثًا؟ فَكُلُّهُمْ قَالُوا: لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ.

حضرت ابن عباس، حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے سوال کیا گیا کہ دوشیزہ کو اس کا شوہر تین طلاق دے دے تو اس کا حکم کیا ہے؟ تو ان سب حضرات نے فرمایا کہ وہ عورت اپنے شوہر کے لیے حلال نہ رہی، تا وقتیکہ حلالہ نہ ہو جائے۔ [شرح معانی الآثار للطحاوی، ج: 2، ص: 33 | مصنف عبد الرزاق، ج: 6، ص: 333]

“دوشیزہ” سے مراد وہ عورت ہے جس کے ساتھ اس کے شوہر نے ابھی جماع نہ کیا ہو نہ خلوتِ صحیحہ واقع ہوئی ہو، اسے فقہاء کی اصطلاح میں “غیر مدخولہ” کہتے ہیں۔ غیر مدخولہ کے بارے میں سب کا اتفاق ہے کہ اگر اس کا شوہر الگ الگ نشستوں میں اسے تین طلاق دے تو اس پر صرف ایک ہی طلاق پڑے گی، کیوں کہ اس عورت کا رشتۂ نکاح شوہر سے خوب مضبوط نہیں ہوتا، اس لیے ایک ہی طلاق سے وہ نکاح سے نکل جاتی ہے اور بقیہ طلاق لغو ہوتی ہیں، بلکہ اگر ایک ہی مجلس میں شوہر اسے طلاق دے لیکن تین بار میں دے تو بھی بالاتفاق ایک ہی طلاق پڑے گی۔ وجہ وہی ہے جو بیان ہوئی، غیر مدخولہ پر تین طلاق پڑنے کی صرف ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ:

  1. شوہر اسے ایک ہی مجلس میں طلاق دے۔

  2. ایک ہی مرتبہ اور ایک ہی کلمہ میں تین طلاق دے مثلاً یہ کہے کہ میں نے تم کو تین طلاق دی۔

اس لیے غیر مدخولہ کے بارے میں حضرت ابن عباس، حضرت ابو ہریرہ، حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم کا درج بالا فتویٰ اس امر کا قطعی و یقینی ثبوت ہے کہ ایک مجلس اور ایک کلمہ میں دی ہوئی تینوں طلاق تین واقع ہوتی ہیں۔

اس حدیث کی دوسری روایت مؤطا امام مالک میں ہے، اس وجہ سے یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو کر ثابت ہو جاتا ہے، اب دوسری روایت بھی ملاحظہ کیجیے:

محمد بن ایاس بن بکیر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ دخول سے پہلے اسے تین طلاق دے دی، پھر ان کا خیال اس عورت سے نکاح کا ہوا تو وہ فتویٰ پوچھنے آئے، میں بھی ان کے ساتھ گیا، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت ابو ہریرہ سے اس کے بارے میں دریافت کیا، تو دونوں حضرات نے فرمایا: “لَا نَرَى أَنْ تَنْكِحَهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، قَالَ: فَإِنَّمَا كَانَ طَلَاقِي إِيَّاهَا وَاحِدَةً، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّكَ أَرْسَلْتَ مِنْ يَدِكَ مَا كَانَ لَكَ مِنْ فَضْلٍ.”

اس عورت کے ساتھ تیرا نکاح حلال نہیں تا آنکہ وہ دوسرے شخص کے پاس رہے، (یعنی حلالہ کرائے) اس شخص نے کہا کہ میں نے تو اسے صرف ایک دفعہ طلاق دی ہے؟ تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ تیرے لیے جو مزید (دو دفعہ طلاق دینے کا) اختیار تھا تو نے اسے بھی اپنے ہاتھ سے گنوا دیا۔ [فتح القدیر، ج: 3، ص: 469، 470]

یعنی ایک ہی دفعہ میں جب تو نے تینوں طلاق دے دی تو تجھے اب مزید طلاق دینے کا اختیار نہ رہا کہ شوہر تین ہی طلاق کا مالک ہوتا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!