| عنوان: | طلاق ثلاثہ کا اسلامی تصور (قسط: چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی نظام الدین رضوی |
| پیش کش: | صوفیہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
حضرت طاؤس روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں، نیز حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال تک تین طلاق کو ایک ہی مانا جاتا تھا، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “جس بات میں لوگوں کے لیے ڈھیل تھی اس میں انہوں نے جلد بازی کر دی، ہم اسے ان پر نافذ کر دیں گے” پھر آپ نے ان پر اسے نافذ فرما دیا۔ [صحیح مسلم، ج: 1، ص: 477، 478]
ان حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تین طلاق کو تین قرار دیا گیا۔ اس سے پہلے تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق مانا جاتا تھا، لیکن اس استدلال کی حیثیت ایک شبہِ ضعیف سے زیادہ نہیں، اس کی قدرے تشریح یہ ہے:
۱. حدیثِ اول ضعیف و منکر ہے
مذکورہ روایت جس میں تین طلاق کو ایک مانے جانے کا ذکر ہے، اس کے راوی مجہول لوگ ہیں۔ امام ابو زکریا نووی شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
أَمَّا الرِّوَايَةُ الَّتِي رَوَاهَا الْمُخَالِفُونَ أَنَّ رُكَانَةَ طَلَّقَ ثَلَاثًا فَجَعَلَهَا وَاحِدَةً فَرِوَايَةٌ ضَعِيفَةٌ عَنْ قَوْمٍ مَجْهُولِينَ. [شرح صحیح مسلم، ج: 1، ص: 478]
یعنی: مخالفین نے جو یہ روایت بیان کی ہے کہ رکانہ نے تین طلاق دی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک قرار دیا، یہ ایسی روایت ہے جس کے راوی مجہول لوگ ہیں۔
۲. اہل بیت کی روایت کو فوقیت
طلاق کا معاملہ عموماً گھر میں پیش آتا ہے، اس لیے گھر والوں کو واقعہ کا صحیح علم ہوتا ہے۔ حضرت رکانہ کے معاملے میں گھر کے لوگوں کی روایت یہ ہے کہ رکانہ نے “طلاقِ بتہ” دی تھی اور خود رکانہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں قسم کھا کر یہ اعتراف کیا تھا کہ ان کی نیت ایک طلاق کی تھی۔ اس کے برعکس، تین طلاق کی روایت گھر والوں کے علاوہ دوسروں کی ہے، تو معاملۂ طلاق میں گھر والوں کی روایت کے خلاف دوسروں کی روایت مقبول نہ ہوگی۔
محدث جلیل الشان حضرت امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ نافع بن عجیر اور عبد اللہ بن علی رضی اللہ عنہما کی “طلاقِ بتہ” والی روایتوں کو نقل کر کے فرماتے ہیں:
قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَّ رُكَانَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا؛ لِأَنَّهُمْ أَهْلُ بَيْتِهِ وَهُمْ أَعْلَمُ بِهِ. [سنن ابی داؤد، ج: 1، ص: 299]
یعنی: ابو داؤد کہتے ہیں کہ یہ حدیث ابن جریج کی اس روایت سے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تھی صحیح ہے، اس لیے کہ “طلاقِ بتہ” کے راوی رکانہ کے گھر والے ہیں اور گھر والوں کو واقعہ کا صحیح علم زیادہ ہوتا ہے، اور ابن جریج کی روایت تو ابو رافع کے بعض لڑکوں نے کی ہے (جو رکانہ کے اہل خاندان سے نہیں ہیں)۔
محدث ابو داؤد ایک اور مقام پر ابن جریج والی روایت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
ابو داؤد نے کہا کہ نافع بن عجیر اور عبد اللہ بن علی کی یہ روایت کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (رکانہ کو) لوٹا دیا تھا، صحیح ہے۔ اس لیے کہ یہ لوگ رکانہ کی اولاد ہیں اور اہل و عیال کو اس بات کا خوب علم تھا کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو صرف طلاق بتہ دی ہے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (رکانہ سے قسم لے کر) اسے ایک طلاق قرار دیا۔ [سنن ابی داؤد، ج: 1، ص: 299]
امام ابو زکریا نووی شرح صحیح مسلم شریف میں یہ لکھنے کے بعد کہ تین طلاق والی روایت کے راوی مجہول لوگ ہیں اور وہ روایت ضعیف ہے، صراحت فرماتے ہیں کہ:
وَإِنَّمَا الصَّحِيحُ مِنْهَا مَا قَدَّمْنَاهُ أَنَّهُ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ. [شرح صحیح مسلم، ج: 1، ص: 478]
یعنی: صحیح روایت تو صرف وہ ہے جو ہم پہلے نقل کر آئے کہ رکانہ نے “طلاقِ بتہ” دی تھی۔
اسی طرح ایک اور محدث امام ابن حجر شافعی فرماتے ہیں:
“بے شک ابو داؤد نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو “البتہ” (ایک) طلاق ہی دی تھی، جیسا کہ انہوں نے اسے رکانہ کے اہل بیت کے طریق سے نکالا ہے۔ یہ ایک قوی تعلیل ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ اس (روایت) کے بعض راویوں نے “البتہ” کو تین پر محمول کر لیا ہو اور کہہ دیا ہو کہ اس نے تین طلاق دی تھیں، پس اس نکتے سے ابن عباس والی حدیث سے استدلال ختم ہو جاتا ہے۔”
