Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

طلاق ثلاثہ کا اسلامی تصور (قسط: سوم)|مفتی محمد نظام الدین

طلاق ثلاثہ کا اسلامی تصور (قسط: سوم)
عنوان: طلاق ثلاثہ کا اسلامی تصور (قسط: سوم)
تحریر: مفتی محمد نظام الدین
پیش کش: صوفیہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اس حدیثِ پاک سے بہت کھل کر یہ بات ثابت ہو گئی کہ ایک مجلس اور ایک کلمہ میں دی ہوئی تین طلاق تین پڑتی ہیں۔

حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: “إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي تِسْعًا وَتِسْعِينَ” یعنی میں نے اپنی بیوی کو ننانوے (99) طلاق دی ہیں تو حضرت ابن مسعود نے فرمایا: تین طلاقوں سے وہ نکاح سے نکل گئی اور بقیہ طلاق تیری سرکشی ہیں۔ [مصنف عبد الرزاق، ص: 395]

حبیب بن ثابت کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور عرض کی: “إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي أَلْفًا” یعنی میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار (1000) طلاق دے دی ہے تو حضرت علی نے فرمایا: “بَانَتْ مِنْكَ بِثَلَاثٍ وَاقْسِمْ سَائِرَهُنَّ عَلَى نِسَائِكَ” یعنی تین طلاق سے تو تیری عورت تجھ سے جدا ہو گئی اور بقیہ طلاقیں اپنی دوسری بیویوں میں تقسیم کر دو۔ [مصنف عبد الرزاق، نقلاً فی فتح القدیر]

ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: “إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَمَانِيَ تَطْلِيقَاتٍ” میں نے اپنی بیوی کو آٹھ (8) طلاق دے دی ہے، حضرت ابن مسعود نے پوچھا تمہیں اس کا حکم کیا بتایا گیا؟ سائل نے کہا مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ تیری عورت تجھ سے جدا ہو گئی، تو حضرت ابن مسعود نے فرمایا صحابہ نے سچ بتایا، حکم وہی ہے جو وہ بتا رہے ہیں۔ [مؤطا امام مالک]

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تصدیق سے ظاہر یہی ہے کہ اس حکم پر صحابہ کرام کا اجماع تھا۔

یہ اور اس طرح کے بہت سے آثارِ صحابہ نقل کرنے کے بعد امام ابن ہمام کمال الدین حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایک مجلس کی تین طلاق کے تین ہونے پر صحابہ کرام کا اجماع ظاہر ہے، کیوں کہ جس وقت خلیفۂ راشد حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے تینوں طلاق نافذ فرمائی تھی، کہیں منقول نہیں کہ اس وقت کسی بھی صحابیٔ رسول نے آپ کی مخالفت ہو۔

علاوہ ازیں نقلِ اجماع میں صرف اس نقل کا اعتبار ہے جو مجتہدین سے منقول ہو، اور ایک لاکھ صحابۂ کرام میں فقہاء کی تعداد بیس سے زیادہ نہیں۔ جیسے خلفاء، عبادلہ، زید بن ثابت، معاذ بن جبل، انس، ابو ہریرہ، اور چند صحابہ رضی اللہ عنہم، باقی صحابہ انہیں کی طرف رجوع کر کے مسائل دریافت کر لیا کرتے تھے اور ہم نے اکثر مجتہدین صحابہ سے یہ صریح نقل پیش کر دی کہ مجلسِ واحد کی تین طلاق تین ہی ہوتی ہے اور اس باب میں ان کا کوئی مخالف ظاہر نہ ہوا، تو حق کے بعد کیا رہا، سوائے گمراہی کے، اسی وجہ سے ہمارا مذہب یہ ہے کہ اگر کسی حاکم نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کے ایک طلاق ہونے کا فیصلہ کیا تو وہ نافذ نہ ہو گا، کیوں کہ اس میں اجتہاد جائز نہیں۔ [فتح القدیر، ج: 3، ص: 470، 471]

حجۃ الاسلام امام جصاص رازی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کتاب و سنت و آثارِ صحابہ سے استدلال کے بعد فرماتے ہیں:

فَالْكِتَابُ وَالسُّنَّةُ وَإِجْمَاعُ السَّلَفِ تُوجِبُ إِيقَاعَ الثَّلَاثِ مَعًا وَإِنْ كَانَتْ مَعْصِيَةً. [احکام القرآن، ج: 1، ص: 388]

حاصلِ کلام یہ کہ کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ اور اجماعِ صحابہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک ساتھ دی گئی تینوں طلاق لازماً ایک ساتھ واقع ہوتی ہیں اگرچہ یہ گناہ ہے۔

لَمَّا كَانَ فِعْلُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا فِعْلًا يَجِبُ بِهِ الْحُجَّةُ كَانَ كَذٰلِكَ أَيْضًا إِجْمَاعُهُمْ عَلَى الْقَوْلِ إِجْمَاعًا يَجِبُ بِهِ الْحُجَّةُ. [طحاوی شریف، ج: 2، ص: 419، 420]

ترجمہ: جب تمام اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل واجب الحجت ہے تو یوں ہی قولِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر ان کا اجماع بھی واجب الحجت ہو گا۔

طحطاوی علی الدر المختار میں ہے: “مَنْ أَنْكَرَ وُقُوعَ الثَّلَاثِ فَقَدْ خَالَفَ الْإِجْمَاعَ، وَلَوْ حَكَمَ حَاكِمٌ بِأَنَّ الثَّلَاثَ تَقَعُ وَاحِدَةً لَمْ يَنْفُذْ حُكْمُهُ؛ لِأَنَّهُ لَا يَسُوغُ فِيهِ الِاجْتِهَادُ.” جس نے ایک مجلس کی تین طلاق کے تین ہونے کا انکار کیا، اس نے اجماع کی مخالفت کی، لہٰذا اگر کوئی حاکم تین طلاقوں کے ایک طلاق ہونے کا فیصلہ صادر کر دے تو اس کا فیصلہ نافذ نہ ہو گا کیوں کہ اجماعی مسئلے میں اجتہاد کی گنجائش نہیں ہوتی۔

اجماع کی مخالفت جائز نہیں، اس کی دلیل قرآنِ حکیم کی یہ آیتِ کریمہ ہے:

وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا [سورة النساء: 115]

ترجمہ: اور جو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی۔ [سورۃ النساء: 115]

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ اجماع حجت ہے، اس کی مخالفت جائز نہیں۔

ازالہ شبہ: کتاب و سنت اور اجماعِ صحابہ کے برخلاف دو روایتوں سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق تین نہ ہوں گی، بلکہ ان سے صرف ایک طلاق واقع ہو گی، وہ روایتیں یہ ہیں:

ابن جریج کہتے ہیں کہ مجھے ابو رافع کے لڑکوں میں سے بعض نے خبر دی کہ عکرمہ نے بتایا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا: “طَلَّقَ أَبُو رُكَانَةَ أُمَّ رُكَانَةَ... ثُمَّ قَالَ: رَاجِعِ امْرَأَتَكَ أُمَّ رُكَانَةَ. قَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: قَدْ عَلِمْتُ رَاجِعْهَا.”

ترجمہ: ابو رکانہ نے ام رکانہ کو طلاق دے دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘اپنی بیوی ام رکانہ کو لوٹا لو’ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ! میں نے تو اسے تین طلاق دے دی ہے، آپ نے فرمایا ‘مجھے معلوم ہے، تم اسے (نکاح کر کے) لوٹا لو’۔ [سنن ابی داؤد، ج: 1، ص: 298]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!