| عنوان: | ضروریات اہل سنت کے دلائل (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی (توپسیا، کلکتہ) |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
ضروریات اہل سنت کے دلائل قطعی بالمعنی الاعم
ضروریات اہل سنت کا ثبوت قطعی بالمعنی الاعم دلائل سے ہوتا ہے۔ قطعی بالمعنی الاعم میں احتمال بلادلیل (احتمال بعید) ہوتا ہے۔ قطعی بالمعنی الاعم دلائل کی تفصیل درج ذیل ہے:
(۱) قطعی الثبوت بالمعنی الاخص و قطعی الدلالت بالمعنی الاعم (قطعی الدلالت بالمعنی الاعم آیات قرآنیہ و قطعی الدلالت بالمعنی الاعم احادیث متواترہ لفظیہ)
(۲) قطعی الثبوت بالمعنی الاعم و قطعی الدلالت بالمعنی الاخص (قطعی الدلالت بالمعنی الاخص احادیث متواترہ معنویہ)
(۳) قطعی الثبوت بالمعنی الاعم و قطعی الدلالت بالمعنی الاعم (قطعی الدلالت بالمعنی الاعم احادیث متواترہ معنویہ)
(۴) حضرات صحابہ کرام کا اجماع منصوص (اجماع قولی)
مذکورہ بالا چاروں قسموں سے ثابت ہونے والے مسائل ضروریات اہل سنت ہیں۔ اول الذکر دلائل ثلاثہ سے ثابت ہونے والی ضروریات اہل سنت اپنی خاص دلیلوں سے ثابت ہوں گی، لیکن ان دلائل کی حیثیت یعنی قطعیت کے تعین کے لیے تحقیق و اجتہاد کی ضرورت ہوتی ہے کہ یہ دلائل قطعی بالمعنی الاعم ہیں اور ظنی نہیں ہیں۔ ایسی ضروریات اہل سنت میں تحقیق و اجتہاد کا دخل ضرور ہوگا، لیکن یہ ضروریات اہل سنت اجتہاد سے ثابت نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے خاص دلائل سے ثابت ہوتی ہیں۔ ان کے ثبوت میں احتمال بعید ہوتا ہے۔
حضرات صحابہ کرام کے اجماع منصوص سے ثابت ہونے والی ضروریات اہل سنت اجتہاد سے ثابت ہو سکتی ہیں اور پھر اس پر اجماع صحابہ ہو جائے، جیسے خلافت صدیقی کا مسئلہ۔ حضرات صحابہ کرام کا اجماع قولی (اجماع منصوص) بھی قطعی بالمعنی الاعم دلائل سے ہے۔
جب قیاس و اجتہاد سے ثابت ہونے والے مسئلہ پر صحابہ کرام کا اجماع ہو جائے تو وہ مسئلہ ضروریات اہل سنت سے ہوگا اور اجماع کے بعد اجتہاد و اختلاف کی اجازت نہیں۔
قطعی بالمعنی الاعم دلیل سے ضروریات اہل سنت کے ثبوت کی تفصیل درج ذیل ہے:
(۱) امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا: ”مانی ہوئی باتیں چار قسم کی ہوتی ہیں:
ضروریات دین: ان کا ثبوت قرآن عظیم یا حدیث متواتر یا اجماع قطعی قطعیات الدلالات واضحۃ الافادات سے ہوتا ہے، جن میں نہ شبہے کی گنجائش، نہ تاویل کی راہ، اور ان کا منکر یا ان میں باطل تاویلات کا مرتکب کافر ہوتا ہے۔
ضروریات مذہب اہل سنت و جماعت: ان کا ثبوت بھی دلیل قطعی سے ہوتا ہے، مگر ان کے قطعی الثبوت ہونے میں ایک نوع شبہ اور تاویل کا احتمال ہوتا ہے، اسی لیے ان کا منکر کافر نہیں، بلکہ گمراہ، بد مذہب، بد دین کہلاتا ہے۔
ثابتات محکمہ: ان کے ثبوت کو دلیل ظنی کافی، جب کہ اس کا مفاد اکبر رائے ہو کہ جانب خلاف کو مطروح و مضمحل اور التفات کے ناقابل بنا دے۔ اس کے ثبوت کے لیے حدیث آحاد، صحیح یا حسن کافی، اور قول سواد اعظم و جمہور علما کی سند وافی: فان ید اللہ علی الجماعۃ۔ ان کا منکر وضوح امر کے بعد خاطی و آثم، خطاکار و گنہگار قرار پاتا ہے۔ نہ بد دین و گمراہ، نہ کافر و خارج از اسلام۔
ظنیات محتملہ: ان کے ثبوت کے لیے ایسی دلیل ظنی بھی کافی، جس نے جانب خلاف کے لیے بھی گنجائش رکھی ہو۔ ان کے منکر کو صرف مخطی و قصور وار کہا جائے گا۔ نہ گنہگار، چہ جائے کہ گمراہ، چہ جائے کہ کافر۔
ان میں سے ہر بات اپنے ہی مرتبے کی دلیل چاہتی ہے۔ جو فرق مراتب نہ کرے، اور ایک مرتبے کی بات کو اس سے اعلیٰ درجے کی دلیل مانگے، وہ جاہل بے وقوف ہے، یا مکار فیلسوف“۔
(فتاویٰ رضویہ: جلد ۲۹: ص ۳۸۵ - جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور)
منقولہ بالا اقتباس میں ہے: ”ضروریات مذہب اہل سنت و جماعت: ان کا ثبوت بھی دلیل قطعی سے ہوتا ہے، مگر ان کے قطعی الثبوت ہونے میں ایک نوع شبہ اور تاویل کا احتمال ہوتا ہے“۔ (فتاویٰ رضویہ: جلد ۲۹: ص ۳۸۵ - جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور)
ضروریات اہل سنت کے ثبوت میں ایک قسم کا شبہ اور تاویل کا احتمال بعید ہوتا ہے، کیوں کہ دلیل کے ثبوت یا دلالت میں احتمال بعید ہوتا ہے۔ ضروریات اہل سنت کے ثبوت کے درج ذیل تین دلائل کے ثبوت میں احتمال بعید ہوتا ہے۔ یہ قطعی الثبوت بالمعنی الاعم ہیں:
(۱) قطعی الثبوت بالمعنی الاعم و قطعی الدلالت بالمعنی الاخص (قطعی الدلالت بالمعنی الاخص احادیث متواترہ معنویہ)
(۲) قطعی الثبوت بالمعنی الاعم و قطعی الدلالت بالمعنی الاعم (قطعی الدلالت بالمعنی الاعم احادیث متواترہ معنویہ)
(۳) حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا اجماع منصوص (اجماع قولی)
متواتر لفظی حدیث قطعی الثبوت بالمعنی الاخص ہوتی ہے، کیوں کہ وہ متواتر ہوتی ہے۔ متواتر معنوی حدیث اور صحابہ کرام کا اجماع قولی قطعی الثبوت بالمعنی الاعم دلائل ہیں۔
اجماع مجرد کا شرعی دلیل ہونا حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے اجماع قولی سے ثابت ہوا۔ صحابہ کرام کے اجماع قولی سے ثابت ہونے والا امر قطعی بالمعنی الاعم اور ضروریات اہل سنت سے ہے۔ اس اعتبار سے اجماع مجرد کی چاروں قسمیں قطعی بالمعنی الاعم دلائل سے ہونا چاہئے اور چاروں قسموں سے ثابت شدہ امور قطعی بالمعنی الاعم و ضروریات اہل سنت سے ہونا چاہئے، لیکن موانع کے سبب صرف صحابہ کرام کے اجماع قولی سے ثابت شدہ مسائل کو قطعی بالمعنی الاعم تسلیم کیا گیا۔ اجماع مجرد کی دیگر قسموں کے وقوع و ثبوت میں شبہ ہے۔
تفصیل ہمارے رسالہ: ”اجماع متصل و ضروریات دین“ (باب دوم) میں مرقوم ہے۔
حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی خلافت کی حقانیت ضروریات اہل سنت سے ہے۔ امام اہل سنت قدس سرہ نے فرمایا کہ یہ مسئلہ ضروریات دین سے نہیں۔
(مطلع القمرین: ص ۷۷ - جامعہ اسلامیہ کھاریاں پاکستان)
