| عنوان: | ضروریات اہل سنت کے دلائل (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی (توپسیا، کلکتہ) |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
روافض تاویلِ فاسد کے ساتھ خلافتِ خلفائے ثلاثہ کا صریح انکار کرتے ہیں۔ خلفائے ثلاثہ کی خلافت کے انکار کے سبب ماقبل کے تبرائی روافض فقہا کے یہاں کافرِ فقہی اور متکلمین کے یہاں گمراہ ہیں۔ تیرہویں صدی ہجری سے تبرائی روافض نے کفرِ کلامی کی راہ اختیار کر لی۔ وہ قرآنِ مجید کو ناقص اور حضرات ائمہ اہلِ بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے افضل بتانے لگے۔ یہ دونوں امر کفرِ کلامی ہیں، لہٰذا بعد کے تبرائی روافض پر کفرِ کلامی کا حکم نافذ کیا گیا۔ رسالہ "رد الرفضہ" میں تفصیل مرقوم ہے۔
متواتر معنوی حدیث کے ثبوت میں احتمالِ بعید ہوتا ہے، لہٰذا وہ قطعی الثبوت بالمعنی الاعم دلیل ہے۔ قطعی الثبوت بالمعنی الاخص و قطعی الدلالت بالمعنی الاعم دلیل، یعنی قطعی الدلالت بالمعنی الاعم آیاتِ قرآنیہ و قطعی الدلالت بالمعنی الاعم احادیثِ متواترہ لفظیہ کے کلمات و حروف ثبوت کے اعتبار سے قطعی بالمعنی الاخص ہوتے ہیں، لیکن ان کے معانی قطعی الثبوت بالمعنی الاعم ہوتے ہیں اور معنی مراد کے علاوہ دیگر معانی کا احتمالِ بعید ہوتا ہے۔
الغرض دلیل کے معنی مراد کے علاوہ دیگر معنی کا احتمالِ بعید ہو تو وہ معنی قطعی الثبوت بالمعنی الاعم ہوگا:
(۱) پس اگر اس دلیل کے کلمات و الفاظ کا ثبوت احتمالِ بعید سے خالی ہو، مثلاً دلیل کے الفاظ و کلمات متواتر لفظی ہوں تو اس سے ضروری دینی کا ثبوت نہیں ہوگا، کیوں کہ دلیل کے کلمات اگرچہ متواتر ہیں، لیکن اس کے معنی کے ثبوت میں احتمالِ بعید ہے۔
(۲) اگر اس دلیل کے ثبوت میں احتمالِ بعید ہو، یعنی وہ متواتر معنوی ہو تو اس سے ضروریاتِ دین کا ثبوت نہیں ہوگا، کیوں کہ دلیل ہی کے ثبوت میں احتمالِ بعید ہے۔
نہ ہی اس قسم کے دلائل سے ظنی عقائد کا ثبوت ہوگا، کیوں کہ ثبوت و دلالت قطعی ہیں تو اس دلیل سے ثابت ہونے والا عقیدہ ظنی نہیں ہوگا، بلکہ قطعی بالمعنی الاعم ہوگا۔ قطعی بالمعنی الاعم عقائد ضروریاتِ اہل سنت ہیں۔ پس ایسے دلائل سے ضروریاتِ اہل سنت کا ثبوت ہوگا۔
علمِ منطق کا بہت مشہور قانون ہے کہ نتیجہ ادون کے تابع ہوتا ہے:
(۱) اگر دلیل قطعی الثبوت بالمعنی الاخص اور ظنی الدلالت ہو تو اس سے ظنی مسئلہ ثابت ہوگا، اسی لیے ظنی الدلالت آیاتِ قرآنیہ سے ظنی مسائل ثابت ہوتے ہیں۔
(۲) اگر دلیل قطعی الدلالت بالمعنی الاخص و ظنی الثبوت ہو تو اس سے بھی ظنی مسئلہ ثابت ہوگا، کیوں کہ نتیجہ ادون کے تابع ہوتا ہے۔
اگر ثبوت و دلالت میں سے دونوں جہت قطعی بالمعنی الاخص ہو تو اس سے ثابت ہونے والا مسئلہ قطعی بالمعنی الاخص ہوگا۔ اگر ثبوت و دلالت میں سے کوئی جہت ظنی ہو تو مسئلہ ظنی ہوگا، اسی لیے ظنی الدلالت آیاتِ قرآنیہ کے معانی میں مجتہدین کا اختلاف ہوتا ہے۔ کلمہ ”قروء“ کے معنی میں مجتہدین کا اختلاف مشہور اور اصولِ فقہ کی کتابوں میں مرقوم ہے۔
(۳) اگر ثبوت و دلالت میں سے کوئی جہت قطعی بالمعنی الاعم ہو تو مسئلہ قطعی بالمعنی الاعم ہوگا۔ آیتِ قرآنیہ (وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ : الآیۃ) (سورہ بقرہ: آیت ۲۲۲) قطعی الثبوت بالمعنی الاخص ہے ، لیکن اس سے ثابت ہونے والا مسئلہ قطعی بالمعنی الاعم ہے، کیوں کہ منقوشہ بالا آیتِ مقدسہ قطعی الدلالت بالمعنی الاعم ہے۔ نتیجہ ادون کے تابع ہوتا ہے۔
ضروریات اہل سنت کے دلائل اور احتمال بعید
ضروریاتِ اہل سنت قطعی امور ہیں جن میں تاویل کا احتمال ہو۔ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ وہ قطعی جس میں احتمال ہو، وہ قطعی بالمعنی الاعم ہے اور اس میں احتمالِ بعید ہوتا ہے، کیوں کہ جس میں احتمالِ قریب ہو، وہ ظنی ہوتا ہے، جب کہ ضروریاتِ اہل سنت قطعی امور ہیں، پس ثابت ہو گیا کہ ضروریاتِ اہل سنت قطعی بالمعنی الاعم امور ہیں جن میں احتمالِ بعید ہوتا ہے اور احتمالِ قریب نہیں ہوتا۔ ضروریاتِ دین میں نہ احتمالِ بعید ہوتا ہے، نہ احتمالِ قریب۔ درج ذیل اقتباس میں (عرضۃ للتاویل) سے احتمالِ بعید مراد ہے۔
قاضی عیاض مالکی نے رقم فرمایا:
ذَهَبَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ إِلَى تَصْوِيبِ أَقْوَالِ الْمُجْتَهِدِينَ فِي أُصُولِ الدِّينِ فِيمَا كَانَ عُرْضَةً لِلتَّأْوِيلِ وَفَارَقَ فِي ذَلِكَ فِرَقَ الْأُمَّةِ إِذْ أَجْمَعُوا سِوَاهُ عَلَى أَنَّ الْحَقَّ فِي أُصُولِ الدِّينِ فِي وَاحِدٍ وَالْمُخْطِئَ فِيهِ أَثِمٌ عَاصٍ فَاسِقٌ وَإِنَّمَا الْخِلَافُ فِي تَكْفِيرِهِ۔ (كتاب الشفاء: جلد دوم: ص ۲۸۱)ترجمہ: عبید اللہ بن حسن عنبری معتزلی (م ۱۶۸ھ) نے ان اصولِ دین میں اجتہاد کرنے والوں کے اقوال کے صحیح ہونے کا مذہب اختیار کیا، جن میں تاویل کی گنجائش ہو، اور اس مسئلہ میں امت کی تمام جماعتوں سے الگ ہو گیا، کیوں کہ اس کے علاوہ تمام لوگوں کا اس پر اجماع ہے کہ اصولِ دین میں ایک ہی حق ہے اور اس میں خطا کرنے والا آثم و عاصی و فاسق ہے اور صرف اس کی تکفیر میں اختلاف ہے۔
ضروریاتِ دین اور ضروریاتِ اہل سنت دونوں کا شمار اصولِ دین میں ہوتا ہے۔ ان دونوں میں اجتہاد جائز نہیں ہے۔ اسی طرح دیگر اجماعی امور میں بھی اجتہاد جائز نہیں، خواہ وہ اجماعی امور عقائد کے قبیل سے ہوں، یا عملی مسائل کے زمرہ سے۔
قابلِ تاویل اصولِ دین ضروریاتِ اہل سنت ہیں۔ ان میں جانبِ مخالف کا عقلی احتمال (احتمالِ بعید / احتمالِ بلا دلیل) ہوتا ہے، لیکن اس پر کوئی دلیل نہیں ہوتی ہے، یعنی ناقابلِ اعتبار دلیل بھی نہیں ہوتی ہے۔ یہ قطعی بالمعنی الاعم ہے اور قطعی کی دوسری قسم ہے۔
قطعی کی قسمِ اول قطعی بالمعنی الاخص ہے۔ اس میں جانبِ مخالف کا عقلی احتمال بھی نہیں ہوتا۔ ایسے دینی امور ضروریاتِ دین ہیں۔ متکلمین انہی دونوں قسموں کو قطعی کہتے ہیں۔
