| عنوان: | علامہ ارشد القادری - مدینے سے والہانہ عقیدت |
|---|---|
| تحریر: | عمران رضا عطاری مدنی بنارسی |
| پیش کش: | مجمع التصانیف |
رئیس القلم علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کی مدینہ منورہ سے والہانہ محبت اور بے پایاں عقیدت کا اندازہ ان کی شاعری سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اس عشق و محبت کے اظہار کے لیے ان کے دو اشعار ہی کافی ہیں:
مدینے میں دل کا نشاں چھوڑ آئے
فضاؤں میں آہ و فغاں چھوڑ آئے
جدھر سے بھی گزرے جہاں سے بھی گزرے
محبت کی اک داستاں چھوڑ آئے
[اظہارِ عقیدت، ص: 50]
چار مرتبہ مدینے میں:
علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے چار مرتبہ حج بیت اللہ کی سعادت عطا فرمائی۔ ہر حج کے موقع پر آپ کو مدینہ منورہ حاضر ہو کر بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری دینے، روضۂ اقدس پر سلام پیش کرنے اور شہرِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پرور فضاؤں سے فیض یاب ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا۔
والدِ گرامی کی شہرِ مصطفیٰ سے محبت:
علامہ ارشد القادری کو مدینے کی محبت و عقیدت وراثت میں ملی تھی، جی ہاں! آپ کے والد گرامی کی مدینے کی محبت پر ایک ایمان افروز واقعہ دل کے کانوں سے سنیں! علامہ موصوف بیان کرتے ہیں:
میرے چچا زاد بھائی مولانا یحییٰ .... حج کے لیے گئے تو مدینہ طیبہ سے انھوں نے والد صاحب کو خط بھیجا۔ اس خط میں یہ لکھا ہوا تھا کہ میں روزانہ رات و دن میں پانچ بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضری دیتا ہوں اور آپ کا نام لے کر صلاۃ و سلام پیش کرتا ہوں۔ بس اس سطر پر وہ پہنچے تو ان پر رقت طاری ہو گئی اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ فرماتے تھے کہ ہائے، میرا نام اور سرکار کے دربار میں لیا جا رہا ہے؟ میرا نام اور حضور کی جناب میں لیا جا رہا ہے؟ پھر مجھے بلایا اور کہا کہ یہ خط پڑھو۔ میں شروع سے پڑھنے لگا تو فرمایا نہیں، وہ سطر پڑھو کہ میں رات و دن میں پانچ بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضر ہوتا ہوں اور آپ کا نام لے کر سلام پیش کرتا ہوں۔ بس اس سطر کو انھوں نے ہمیں پچیس مرتبہ پڑھوایا اور جیسے جیسے میں پڑھتا جاتا، ویسے ویسے ان کی رقت اور آتشِ شوق بھڑکتی جاتی، یہاں تک کہ ایک گھنٹے تک وہ روتے رہے۔ تمام محلے کے لوگ جمع ہو گئے کہ یہ اتنا چیخ چیخ کر کیوں رو رہے ہیں، لیکن ان کو کسی کی پروا نہیں تھی۔ [علامہ ارشد القادری: ایک عہد ساز شخصیت، ص: 12]
ڈاکٹر غلام زرقانی قادری لکھتے ہیں: بارگاہِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری کے لیے ہمہ وقت بے چین رہتے تھے، لیکن معاشی حالت ایسی نہ تھی کہ اخراجاتِ سفر پورے ہوتے۔ اس لیے یہ آرزو امروز و فردا پر ٹلتی رہی۔ اسی درمیان ایک دن عجیب و غریب کیفیت دن بھر چھائی رہی۔ عشق و مستی اور جذب و کیف میں ڈوبی ہوئی حالت کی روداد قائدِ اہل سنت علیہ الرحمہ کی زبان سے سنیے۔
ایک دن اسی جذب و مستی کے عالم میں انھوں نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا کہ اب ہندوستان میں دل نہیں لگتا۔ غلام آسی! چلو، وہیں چل کر بس جاتے ہیں اور پھر گھر کا سارا ساز و سامان ایک ایک کر کے فروخت کرنے لگے۔ محلے والوں نے جب ان کی یہ حالت دیکھی، تو انھیں سفر کی مشکلات سے آگاہ کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے صاف کہہ دیا کہ جس کے یہاں جس نیت سے جا رہے ہیں، وہی ہمارے ناصر و مددگار ہیں۔ پہنچ گئے، تو پہنچ گئے، اور اگر راستے میں مر گئے، تو یہ حسرت تو نہیں رہے گی کہ ان کی راہ میں قدم نہیں اٹھایا۔ پھر دھیرے دھیرے جب یہ جذبی کیفیت کم ہوئی، تو انھیں اس سفر کی مشکلات کا علم ہوا اور اخیر وقت میں یہ حالت ہو گئی کہ جب کوئی مدینہ جانے کا مشورہ دیتا تو فرماتے کہ اگر میں وہاں گیا، تو زندہ پلٹ کر نہیں آ سکوں گا۔ انھیں اس بات پر تعجب تھا کہ کوئی مسلمان وہاں جا کر زندہ واپس کیسے آ جاتا ہے؟
سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و قربت کا عجیب عالم تھا۔ میرے بڑے ابو حضرت فیض العارفین علامہ غلام آسی پیا علیہ الرحمہ بیان کرتے ہیں کہ میں سفرِ حج و زیارت سے واپس لوٹا۔ لمبے سفر کی تھکن کے باعث جلد ہی نیند آ گئی۔ کچھ دیر بعد مجھے محسوس ہوا کہ کوئی میرے پیروں کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر بوسہ دے رہا ہے۔ آنکھ کھل گئی اور دیکھا تو حیرت و استعجاب سے چیخ پڑے: بابا جان! یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب فرماتے ہیں: بیٹے! آج مجھے نہ روکو، یہ میرے بیٹے کے قدم نہیں ہیں، یہ قدم وہ ہیں، جو کوچۂ حبیب کا بوسہ لے کر واپس لوٹے ہیں، یہ قدم مرکزِ عقیدت کے شہرِ مقدس کی دھول سے لپٹ کر آئے ہیں، یہ قدم جلوہ گاہِ ناز کی چوکھٹ سے مس ہونے کی سعادت حاصل کر چکے ہیں۔ [علامہ ارشد القادری: ایک عہد ساز شخصیت، ص: 10]
اب علامہ ارشد القادری کے اشعار کی روشنی میں ان کی عقیدتِ مدینہ کے جلوے دیکھیے!
مدینہ چھوڑ کر اب ان کا دیوانہ نہ جائے گا:
عاشقِ رسالت جب مدینہ میں پہنچتا ہے تو اس کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ اب در سے دور نہ کیا جاؤں، زندگی وفا کرے، تو اس در کی خاک بوسی کو مقدر جانوں، وگرنہ یہیں موت آ جائے، مگر ان پاکیزہ در و دیوار کی فرقت برداشت کرنے کی سکت نہیں۔ علامہ ارشد القادری کے جذبات اور مدینہ منورہ چھوٹنے کا غم ان اشعار کے ایک ایک لفظ سے ظاہر ہے، کہتے ہیں:
جمالِ نور کی محفل سے پروانہ نہ جائے گا
مدینہ چھوڑ کر اب ان کا دیوانہ نہ جائے گا
بڑی مشکل سے آیا ہے پلٹ کر اپنے مرکز پر
مدینہ چھوڑ کر اب ان کا دیوانہ نہ جائے گا
جو آنا ہے تو خود آئے اجل عمرِ ابد لے کر
مدینہ چھوڑ کر اب ان کا دیوانہ نہ جائے گا
ٹھکانا مل گیا ہے فاتحِ محشر کے دامن میں
مدینہ چھوڑ کر اب ان کا دیوانہ نہ جائے گا
[اظہارِ عقیدت، ص: 53]
ہجرِ مدینہ:
ایک شعر میں ہجرِ مدینہ کی بات کرتے ہوئے بارگاہِ نبوی میں عرض کرتے ہیں: کہ مدینہ منورہ کی جانب سے چلنے والی ٹھنڈی اور خوشگوار ہوا (بادِ صبا) ہمیشہ مجھ تک پہنچتی رہے، تاکہ فراقِ مدینہ میں میرا دل کچھ سکون پاتا رہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کی یاد ہر لمحہ میرے دل میں تازہ رہے، تاکہ میرا دل ہمیشہ عشق و شوقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار اور بے قرار رہے۔ شعر دیکھیے!
روز آئے مدینے سے بادِ صبا ہجر میں دل ہمارا بہلتا رہے
ہر گھڑی تم مجھے یاد آتے رہو عالمِ شوق میں دل مچلتا رہے
مدینے میں گزری رات:
علامہ ارشد القادری نے جب مدینہ منورہ میں رات گزاری، پھر جو لطف و سرور محسوس کیا، اسے اشعار کا جامہ پہنا کر یوں گویا ہوئے:
چراغِ طیبہ کی روشنی میں جو ایک شب بھی گزار آئے
وہ دل کو روشن بنا کے اٹھے، وہ اپنی قسمت سنوار آئے
کچھ ایسی پائی ہے شرابِ الفت،وہیں کے رہنے میں خیر ہے
نہ دور رہا، نہ قریب کا،نہ ہوں میں، بادہ خوار آئے
[اظہارِ عقیدت، ص: 62]
یعنی: جس شخص کو مدینہ منورہ میں، خصوصاً روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب میں، ایک رات گزارنے کی سعادت نصیب ہو جائے، وہ نورِ ایمان سے منور ہو کر لوٹتا ہے اور اس کی قسمت سنور جاتی ہے۔ کہ مدینہ منورہ کی محبت اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی مئے (شرابِ الفت) نصیب ہوئی ہے کہ اب دل یہی چاہتا ہے کہ ہمیشہ وہیں رہوں، کیوں کہ حقیقی خیر و برکت اسی مقدس شہر میں ہے۔
مدینہ منورہ کا ادب:
علامہ ارشد فرماتے ہیں: اگر خوش قسمتی سے اس مقدس سرزمین مدینہ منورہ کی خاک میرے پاؤں کو لگ جائے تو مجھے اپنی بے ادبی کا احساس ہوگا۔ دل چاہے گا کہ ان پاؤں کو ہی کاٹ ڈالوں، کیوں کہ یہ گناہ گار پاؤں اس مقدس خاک کو چھونے کے لائق نہیں۔ شعر کی صورت میں کہتے ہیں:
پاؤں چھو جائے تو پھر کاٹ جگر سے موم کرے
ہاتھ لگ جائے تو شرمندہ سیہ کاری ہے
اسی کلام کے پہلے شعر میں شہرِ مصطفیٰ کے پاکیزہ اور روح افزا ماحول کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اس کے روضے پہ بلبلوں کی وہ رعنائیاں ہیں
جیسے فردوس پر فردوس اتر آئی ہے
کیف و مستی میں کہے گئے یہ اشعار الفاظ و بیان کے پس منظر میں نہایت ہی پرکشش، پرکیف اور خوبصورت بھی ہیں، اور عجیب و غریب معنوی کیفیت بھی اپنے قالب میں رکھتے ہیں۔
شاعرِ عصرِ حاضر جناب ظہیر غازی پوری متذکرہ اشعار پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک مضمون میں رقم طراز ہیں۔ سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک، اس کی جالی، اس کی کشش انگیزی، اس کی حرمت اور اس کے سبز گنبد پر بلا مبالغہ لاکھوں شعراے کرام نے مختلف انداز میں شعر کہے ہیں، ہر جگہ عقیدت، جذبے کے صداقت، والہانہ شیفتگی اور دل گرفتگی کا انداز موجود ملے گا، مگر شاعری کو ساحری بنا دینے کا فن سب کو نہیں آتا۔ علامہ نے ان شعروں میں اظہار کے نئے طریقوں اور تخلیقیت افروز شعری تلازموں سے وہ آب و تاب پیدا کی ہے، جو عصری شاعری کا طرۂ امتیاز ہے۔ [علامہ ارشد القادری: ایک عہد ساز شخصیت، ص: 178]
