حسن و جمالِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم|عمران رضا عطاری مدنی بنارسی

حسن و جمالِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
عنوان: حسن و جمالِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
تحریر: عمران رضا عطاری مدنی بنارسی
پیش کش: مجمع التصانیف

اللہ پاک نے اپنے حبیبِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و جمال کو بے مثل و بے مثال بنایا، حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر صبحِ قیامت تک نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا نہ پیدا ہوا، نہ ہوگا۔ اگر حضرت یوسف علیہ السلام کو حسن کی دولت ملی تو وہ بھی درِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی ہے۔

وہ کون سا خوبصورت وصف ہے جو آپ کی ذات میں نہ پایا جاتا ہو، تمام اوصافِ حمیدہ جس ذات میں علیٰ وجہ الکمال جمع ہوتے ہیں دنیا اسے محمد و احمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے جانتی ہے۔ امام شہاب الدین قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کامل ایمان یہ ہے کہ بندہ اس پر یقین رکھے کہ جس طرح اللہ پاک نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا فرمایا اس طرح مخلوق میں نہ پہلے کوئی ظاہر ہوا نہ بعد۔ امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہمارے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکمل حسن و جمال ظاہر نہیں کیا گیا کیونکہ ہماری آنکھوں میں اتنی طاقت نہیں کہ آپ کو دیکھ سکیں۔ [المواہب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ، ج: 2، ص: 5]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و جمال کو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اشعار کی صورت میں اس طرح بیان فرمایا کہ:

وَأَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِي
وَأَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ

یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ سے زیادہ حسن و جمال والا میری آنکھ نے بھی کسی کو دیکھا ہی نہیں اور آپ سے زیادہ کمال والا کسی عورت نے جنا ہی نہیں۔

خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِنْ كُلِّ عَيْبٍ
كَأَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَاءُ

یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ہر عیب و نقصان سے پاک پیدا کیے گئے ہیں، گویا آپ ایسے ہی پیدا کیے گئے جیسے حسین و جمیل پیدا ہونا چاہتے تھے۔

علامہ ابراہیم باجوری شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

وَقَدْ صَرَّحُوْا بِأَنَّ مِنْ كَمَالِ الْإِيْمَانِ اعْتِقَادَ أَنَّهٗ لَمْ يُجْمَعْ فِيْ بَدَنِ إِنْسَانٍ مِنَ الْمَحَاسِنِ الظَّاهِرَةِ مَا اجْتَمَعَ فِيْ بَدَنِهٖ ، وَمَعَ ذٰلِكَ فَلَمْ يَظْهَرْ تَمَامُ حُسْنِهٖ وَإِلَّا لَمَا طَاقَتِ الْأَعْيُنُ رُؤْيَتَهٗ. [المواہب اللدنیۃ شرح الشمائل المحمدیۃ، ص: 33]

ترجمہ: علمائے محققین نے تصریح کر دی ہے کہ کمالِ ایمان کے معتقدات میں سے یہ ہے کہ عقیدہ رکھے کہ جو کچھ حسنِ ظاہر حضور سراپا نور صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود مبارک میں جمع کر دیا گیا تھا وہ کسی انسانی وجود میں ہرگز جمع نہیں ہوا، باوجود اس اجتماعِ حسنِ ظاہری کے جو حسن سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا، پورا کا پورا ظاہر نہیں ہوا کیونکہ دیکھنے والوں کی آنکھوں میں اتنی طاقت ہی نہیں تھی کہ وہ اس حسن کو جی بھر کے دیکھ سکیں۔

حضرت ام معبد رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:

كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْمَلَ النَّاسِ وَأَبْهَاهُ مِنْ بَعِيْدٍ، وَأَحْلَاهُ وَأَحْسَنَهُ مِنْ قَرِيْبٍ. [سبل الہدى والرشاد فی سیرۃ خیر العباد، ج: 2، ص: 5]

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دور سے دیکھنے پر سب سے زیادہ با رعب اور جمیل نظر آتے، اور قریب سے دیکھیں تو سب سے زیادہ خوب رو حسین دکھائی دیتے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ صِفَةً وَأَجْمَلَهَا. [سبل الہدى والرشاد، ج: 2، ص: 5]

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسن و جمال میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

كُلُّ شَيْءٍ حَسَنٍ قَدْ رَأَيْتُ، فَمَا رَأَيْتُ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. [سبل الہدى والرشاد، ج: 2، ص: 7]

ترجمہ: میں نے ہر حسین چیز جس کو دیکھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین کسی کو نہیں پایا۔

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:

مَا رَأَيْتُ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ. [الشمائل المحمدیۃ، ص: 33]

ترجمہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہ دیکھا۔

دوسری جگہ فرمایا:

مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ أَحْسَنَ فِيْ حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. [الشمائل المحمدیۃ، ص: 167]

ترجمہ: میں نے سرخ جوڑے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہ دیکھا۔

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:

رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ لَيْلَةٍ إِضْحِيَانٍ، وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَإِلَى الْقَمَرِ، فَلَهُوَ عِنْدِي أَحْسَنُ مِنَ الْقَمَرِ. [الشمائل المحمدیۃ، ص: 69]

ترجمہ: میں نے ایک روشن (چاندنی) رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سرخ جوڑا زیبِ تن فرمائے ہیں، کبھی میں آپ کی طرف دیکھتا تو کبھی چاند کی طرف، پھر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے نزدیک چاند سے زیادہ خوبصورت ہیں۔

جب حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے رخِ انور کی تجلیاں دیکھیں تو پکار اٹھے:

لَمْ أَرَ قَبْلَهٗ وَلَا بَعْدَهٗ مِثْلَهٗ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. [سبل الہدى والرشاد، ج: 2، ص: 85]

ترجمہ: میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اور بعد آپ جیسا نہیں دیکھا۔

مولا علی رضی اللہ عنہ نے جب حسنِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو بولے:

لَمْ أَرَ قَبْلَهٗ وَلَا بَعْدَهٗ مِثْلَهٗ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

رسولِ بے مثال بی بی آمنہ کے لعل صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

لَمْ أَرَ قَبْلَهٗ وَلَا بَعْدَهٗ مِثْلَهٗ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. [سبل الہدى والرشاد، ج: 2، ص: 30]

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں:

لَمْ يَأْتِ نَظِيْرُكَ فِيْ نَظَرٍ مثلِ تو نہ شد پیدا جانا
جگ راج کو تاج تورے سر سو ہے تجھ کو شہِ دوسرا جانا

لَكَ بَدْرٌ فِي الْوَجْهِ الْأَجْمَلِ خط ہالۂ مہ زلف ابرِ اجل
تورے چندن چندر پرو کنڈل رحمت کی بھرن برسا جانا

ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:

اللہ کی سر تا بقدم شان ہیں یہ
ان سا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ

قرآن تو ایمان بتاتا ہے انھیں
ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!