| عنوان: | مسلک اعلی حضرت کیا پانچواں مسلک ہے؟ ایک تحقیقی جائزہ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | سرفراز احمد قادری امجدی |
| پیش کش: | جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی |
گزشتہ چند برسوں سے بعض حضرات کی طرف سے یہ اعتراض بار بار سامنے آتا ہے کہ اسلام میں صرف چار ہی مذاہب ہیں؛ حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی، لہٰذا “مسلک اعلی حضرت” کہنا گویا پانچواں مسلک ایجاد کرنا ہے، اس لیے یہ اصطلاح نہ درست ہے اور نہ اس کی کوئی ضرورت ہے۔
بظاہر یہ اعتراض مضبوط محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتراض “مسلک”، “مذہب” اور “عقیدہ” کے فرق کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ معترض نے یہ فرض کر لیا کہ “مسلک اعلی حضرت” بھی انہی چار فقہی مذاہب کی طرح ایک مستقل فقہی مذہب ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ “مذہب” اور “مسلک” ہمیشہ ایک معنی میں استعمال نہیں ہوتے۔ جب ہم حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی کہتے ہیں تو اس سے مراد فقہی مذاہب ہوتے ہیں، یعنی وہ اجتہادی و فروعی مسائل جنہیں چاروں ائمہ مجتہدین نے قرآن و حدیث، اجماع اور قیاس کی روشنی میں مرتب فرمایا۔ ان مذاہب کا اختلاف صرف فقہی و اجتہادی مسائل میں ہے، عقائد میں نہیں۔
چنانچہ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، طہارت، معاملات اور دیگر فروعی مسائل میں اگرچہ چاروں مذاہب کے درمیان بعض اختلافات موجود ہیں، لیکن عقائد اسلامیہ میں سب ایک ہی عقیدہ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چاروں مذاہب کے ائمہ اور ان کے پیروکار ہمیشہ ایک دوسرے کو اہل سنت و جماعت اور برحق مانتے رہے ہیں۔
اس کے برخلاف “مسلک اہل سنت و جماعت” کا تعلق فقہ سے نہیں بلکہ عقائد سے ہے، یعنی وہی عقائد جن پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین، محدثین اور اولیائے کرام قائم رہے۔ یہی وہ مسلک ہے جسے حدیث شریف میں “مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي” اور “السَّوَادُ الْأَعْظَمُ” کے عنوان سے بیان فرمایا گیا ہے۔
لہٰذا یہ سمجھ لینا چاہیے کہ چاروں فقہی مذاہب دراصل ایک ہی اعتقادی مسلک یعنی “اہل سنت و جماعت” کی چار فقہی تعبیریں ہیں، نہ کہ چار الگ الگ دین یا چار الگ الگ عقائد۔ اس لیے “مسلک اعلی حضرت” کو پانچواں فقہی مذہب سمجھ لینا بنیادی غلط فہمی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر “مسلک اعلی حضرت” کیوں کہا جاتا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ “مسلک اعلی حضرت” سے مراد ہرگز کوئی نیا دین، نیا عقیدہ یا پانچواں فقہی مذہب نہیں، بلکہ اس سے مراد وہی قدیم “مسلک اہل سنت و جماعت” ہے جس کی چودھویں صدی ہجری میں امام اہل سنت، مجدد دین و ملت، اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت مضبوط دلائل کے ساتھ ترجمانی، حفاظت اور دفاع فرمایا۔
جب مختلف باطل فرقوں خصوصاً دیوبندیت، وہابیت اور قادیانیت کی طرف سے عقائد اہل سنت پر حملے شروع ہوئے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخیاں کی گئیں، ضروریات دین کا انکار کیا گیا اور عوام کے عقائد کو متزلزل کرنے کی کوشش کی گئی، تو ایسے نازک دور میں اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے قلم کے ذریعے عظیم جہاد کیا۔ آپ نے سینکڑوں کتابیں اور فتاویٰ تحریر فرما کر اہل سنت کے عقائد کا ایسا مضبوط دفاع کیا کہ آپ کا نام ہی اہل سنت کی شناخت بن گیا۔
اسی مناسبت سے موجودہ دور میں جب “مسلک اعلی حضرت” کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہی “مسلک اہل سنت و جماعت” ہوتا ہے جس کی ترجمانی اور حفاظت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے علمی و تحقیقی کارناموں کے ذریعے فرمائی۔ لہٰذا اس اصطلاح کا مقصد کسی نئے مذہب کا اضافہ نہیں بلکہ اہل سنت کے صحیح اعتقاد کی واضح پہچان اور باطل فرقوں سے امتیاز پیدا کرنا ہے۔
ان شاء اللہ الرحمٰن اس تحقیقی مضمون کی قسط دوم جلد ہی منظر عام پر آئے گی، جس میں اکابر اہل سنت کے فتاویٰ، مسلک اعلی حضرت کی شرعی حیثیت، معترضین کے شبہات کا علمی ازالہ، اور مزید تحقیقی دلائل پیش کیے جائیں گے۔
