امین الفتویٰ حضرت شفیع احمد بیسلپوری رحمۃ اللہ علیہ

امین الفتویٰ حضرت شفیع احمد بیسلپوری رحمۃ اللہ علیہ
عنوان: امین الفتویٰ حضرت شفیع احمد بیسلپوری رحمۃ اللہ علیہ
تحریر: محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: رافعہ ریاض
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

نام و نسب

آپ کا اسم گرامی محمد شفیع، لقب امین الفتویٰ تھا جو امام اہل سنت نے عطا فرمایا تھا۔ اور آپ کے والد محترم مولانا فضل احمد شاہ صاحب تھے۔ آپ فاتح روہیل کھنڈ حافظ رحمت علی خاں کے سہ سالار عبد الرشد خاں کی اولاد میں سے تھے۔

ولادت

امین الفتویٰ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شفیع رضوی بیسلپوری ماہ شعبان ۱۳۰۱ھ بیسلپور (پیلی بھیت) میں پیدا ہوئے۔

تحصیل علم

ابتدائی تعلیم والد ماجد ہی سے حاصل کی، علم حدیث اور درس نظامی کی کتب کی تکمیل حضرت امام المحدثین علامہ وصی احمد محدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی، آپ فہم و فراست اور علم و عمل کا پیکر تھے۔

بیعت و خلافت

امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ جب ایک مرتبہ پیلی بھیت تشریف لے گئے تو آپ کی نگاہ انتخاب علامہ محمد شفیع بیسلپوری پر پڑی، چناں چہ اپنے ہمراہ بریلی لے آئے، اور فتاویٰ نویسی اور کتب خانہ کی نگرانی سپرد کی، بعد میں آپ نے فاضل بریلوی کی شفقت و محبت کے نتیجے میں دست مبارک پر بیعت کی اور اعلیٰ حضرت نے آپ کو اجازت و خلافت بھی عطا کی۔

تحریر و قلم

قلمی نعتیہ دیوان اور مجموعہ فتاویٰ آپ کی علمی یادگار ہیں، آپ نے شاعری کے ذوق کے ساتھ ساتھ علمی فقہی موضوعات پر بھی اہم مضامین قلم بند کیے ہیں، جو ذوقِ فوتح تحفہ حنفیہ پٹنہ اور الفقیہ امرتسر میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ نیز علامہ شفیع احمد رضوی رحمۃ اللہ علیہ نے مولانا نذیر احمد گنگوہی اور مولوی خلیل احمد سہارنپوری کی بعض تحریروں پر قرآن و حدیث کی روشنی میں بحث کرتے ہوئے غیر مقلدین کی وکالت کرنے والوں کو بھی خارج اہل سنت قرار دیا ہے۔ (تذکرہ محدث سورتی ص: ۲۹۱)

وصال

آپ نے اپنے ایک مکتوب میں اپنے مرشدِ برحق سے والہانہ الفت و محبت کا اظہار کرتے ہوئے بارگاہِ رب العزت میں یوں دعا کی: "مولٰی تعالیٰ اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے میں مجھے تمام عمر حضور (مرشدِ برحق) کی حضوری میں رکھے اور حضور کے سامنے با ایمان اٹھائے" (ماہنامہ سنی دنیا بریلی شریف، ستمبر ۱۹۸۵ء، ص: ۲۳)۔

مولانا شفیع احمد رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ دعا اگرچہ اس وقت تھی جب آپ کا آغازِ شباب تھا، اور فاضل بریلوی کا دورِ پیرانہ سالی کا، مگر چونکہ اخلاصِ قلب کے ساتھ بارگاہِ عالی میں دعا کی تھی، بارگاہِ رب العزت میں دعا قبول ہوئی، اور عین جوانی میں ۳۰ سال کی مختصر عمر میں اور ایک روایت کے مطابق ۲۳ سال کی عمر میں آپ کا وصال با کمال بروز جمعۃ المبارک مرشدِ برحق کی حیات ہی میں ۲۴ رمضان المبارک ۱۳۳۸ھ میں تب کی حالت میں ہوا، آپ کی نمازِ جنازہ امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے پڑھائی اور مجمع کثیر نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔

علامہ شفیع احمد رضوی رحمۃ اللہ علیہ کو آپ کے مملوکہ باغ میں دفن کیا گیا، اور یوں مرید باصفا کے منہ سے نکلا ہوا دعا کا لفظ آج پورا ہوا، "حضور (مرشدِ برحق) کے سامنے موت آئے" اور یوں آپ کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔

القابات و خطابات

  • اہل فتویٰ
  • اہل تقویٰ
  • امین الفتویٰ

حضرت شفیع احمد امام احمد رضا سے حد درجہ محبت و الفت کیا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے یہ خواہش اور دعا کی کہ "حضور (مرشد برحق) کے سامنے موت آئے"۔ خدا کی مشیت کہ آپ کی یہ خواہش اور دعا مقبول بارگاہِ الہی ہوئی اور اپنے مرشد کے سامنے راہِ ملکِ عدم ہوئے۔ علاوہ ازیں آپ کو یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ امام اہل سنت نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ ساتھ ہی غالباً یہ سعادت بھی خلفائے امام میں صرف آپ کے حصے میں آئی کہ امام نے بروز قیامت آپ کو اپنے شافع ہونے کی امید کی۔ جیسا کہ امام کے اس شعر سے عیاں ہے:

امید ہے نزع و قبر میں ہو شفع میرا شفیع احمد

اہل الفتویٰ، اہل التقویٰ اور امین الفتویٰ

امام اہل سنت نے اپنے اس چہیتے خلیفہ کے لیے بھی چند القاب منتخب فرمائے۔ اس کی تفصیل درج ذیل اشعار میں ہے جو امام نے حضرت شفیع کی وفات کے بعد بطور تعزیت اور قطعہ تاریخ تحریر فرمائے:

اہل الفتویٰ شفیع احمد اہل التقویٰ شفیع احمد
سنی و حنفی قادری تھا سجا پکا شفیع احمد
تھا مفتی و واعظ و مدرس فضلوں والا شفیع احمد
مرگ صداے سخت تر ہے تیرا مرنا شفیع احمد
مجھ کو کوئی امین فتویٰ تجھ سا نہ ملا شفیع احمد
ہے چار شہادتوں کا جامع گر چاہے خدا شفیع احمد
جمعہ، رمضان، چپ، التعلیم خوبی لایا شفیع احمد
امید ہے نزع و قبر میں ہو شافع مرا شفیع احمد
تاریخ لکھی رضا نے فوراً یارب تیرا شفیع احمد


(حدائق بخشش سوم، ص: ۱۰۲)

اور اپنے پچاس خلفائے کرام کی فہرست میں آپ کا اسم گرامی اس طرح تحریر فرمایا:

”جناب مولانا مولوی شفیع احمد خان صاحب مدرس مدرسہ اہل سنت بریلی و امین الفتویٰ دار الافتاء۔ عالم مفتی، واعظ، مناظرہ مجاز طریقت۔“

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!