| عنوان: | جدید ذرائع ابلاغ اور نوجوان نسل کی اخلاقی گراوٹ |
|---|---|
| تحریر: | انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
مکرمی!
الحمد لله، اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، اسے عقل و شعور کی نعمت عطا فرمائی، خیر و شر میں تمیز کی صلاحیت بخشی اور اسے زمین پر اپنی خلافت کا منصب عطا کرتے ہوئے یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو وحیِ الٰہی کی روشنی میں استوار کرے۔ انسان کی عزت و عظمت کا راز نہ اس کی مادی ترقی میں پوشیدہ ہے، نہ ظاہری آسائشوں میں، بلکہ اس کا حقیقی وقار ایمان، اخلاق، علم، کردار اور ذمہ دارانہ طرزِ زندگی میں مضمر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کے اخلاق کمزور ہوئے، اس کا شعورِ ذمہ داری ماند پڑا، اس کی ترجیحات بدل گئیں اور اس نے وقتی لذتوں کو دائمی کامیابی پر ترجیح دی تو اس کا زوال یقینی ہو گیا، خواہ وہ علم و صنعت میں کتنی ہی ترقی یافتہ کیوں نہ رہی ہو۔ تاریخِ انسانی اس حقیقت کی بے شمار شہادتیں اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔
ڈیجیٹل دور اور ذرائع ابلاغ کا دہرا کردار
عصرِ حاضر کو اگر "ڈیجیٹل دور" کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ اور جدید ذرائع ابلاغ نے معلومات کی ترسیل، تعلیم، تحقیق، دعوت، تجارت، طب، معیشت اور سماجی روابط میں حیرت انگیز سہولتیں پیدا کی ہیں۔ آج چند لمحوں میں دنیا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک علم منتقل کیا جا سکتا ہے، دینی دروس لاکھوں افراد تک پہنچائے جا سکتے ہیں، علمی مخطوطات اور نادر کتب تک رسائی ممکن ہو چکی ہے، اور دعوتِ دین کے ایسے مواقع پیدا ہوئے ہیں جن کا تصور گزشتہ صدیوں میں ممکن نہ تھا۔ اس اعتبار سے جدید ذرائع ابلاغ فی نفسہٖ نہ خیر ہیں نہ شر، بلکہ ان کی حیثیت ایک ایسے وسیلے کی ہے جس کا نفع یا نقصان اس کے استعمال پر موقوف ہے۔
لیکن یہی حقیقت اس مسئلے کا دوسرا رخ بھی ہمارے سامنے رکھتی ہے۔ جب کوئی ذریعہ اخلاقی حدود سے بے نیاز ہو جائے، اس پر نفس کی خواہشات غالب آ جائیں، حیا کے تقاضے پسِ پشت ڈال دیے جائیں اور وقت کی عظیم نعمت کو بے مقصد مشاغل کی نذر کر دیا جائے تو وہی ذریعہ اصلاح کے بجائے فساد کا آلہ بن جاتا ہے۔ افسوس کہ آج سوشل میڈیا کے ایک بڑے حصے کا یہی حال ہے۔ مختصر ویڈیوز، لامتناہی تفریح، فحش اور نیم فحش مواد، جھوٹی شہرت کی دوڑ، بے بنیاد افواہیں، کردار کشی، فضول مباحث، وقت کا بے دریغ ضیاع اور غیر اخلاقی رجحانات نے نوجوان نسل کے افکار و اعمال پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
زندگی کی مقصدیت اور وقت کی قدر و قیمت
اسلام نے انسان کی زندگی کے ہر پہلو کو مقصدیت عطا کی ہے۔ قرآنِ کریم انسان کو متنبہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
﴿أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ﴾
ترجمہ: کیا تم نے یہ گمان کر لیا تھا کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟ (سورۃ المؤمنون: 115)
یہ آیت انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ اس کی زندگی کا ہر لمحہ ایک امانت ہے اور اسے اپنے ہر عمل کی جواب دہی کرنی ہے۔ یہی تصور وقت کی حفاظت، اخلاق کی پاسداری اور ذرائع کے صحیح استعمال کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ قرآنِ مجید نے وقت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے زمانے کی قسم کھائی:
﴿وَالْعَصْرِ ٭ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ﴾
ترجمہ: زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے۔ (سورۃ العصر: 1-2)
امام شافعی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر لوگ صرف سورۂ عصر میں غور کر لیتے تو یہی ان کی ہدایت کے لیے کافی ہوتی۔ اس مختصر سورت میں ایمان، عملِ صالح، حق کی تلقین اور صبر کی وصیت کو کامیابی کا معیار قرار دیا گیا ہے۔ غور کیا جائے تو موجودہ ڈیجیٹل ماحول میں یہی چاروں اوصاف شدید خطرات سے دوچار ہیں؛ ایمان غفلت سے متاثر ہوتا ہے، عملِ صالح وقت کے ضیاع سے کمزور پڑتا ہے، حق کی آواز شور میں دب جاتی ہے اور صبر کی جگہ فوری لذتوں کی طلب غالب آ جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے وقت کی قدر کو نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا:
"نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ"
ترجمہ: دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت سے لوگ خسارے میں رہتے ہیں: صحت اور فراغت۔ (صحیح البخاری، حدیث: 6412)
یہ حدیث موجودہ دور کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ سوشل میڈیا کا سب سے بڑا نقصان یہی ہے کہ وہ انسان کے اوقات کو آہستہ آہستہ اس طرح نگل جاتا ہے کہ اسے اپنے خسارے کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ چند منٹ کی نیت سے موبائل کھولنے والا شخص بسا اوقات گھنٹوں بعد بھی اسی دنیا میں کھویا رہتا ہے۔
نگاہ کی پاکیزگی اور حیا کا تحفظ
اسلام نے صرف وقت کی حفاظت ہی کا حکم نہیں دیا بلکہ نگاہ کی پاکیزگی کو بھی ایمان کی حفاظت کا ذریعہ قرار دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ﴾
ترجمہ: مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہی ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔ (سورۃ النور: 30)
اس کے بعد مؤمن عورتوں کو بھی یہی حکم دیا گیا۔ (سورۃ النور: 31)
یہ آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اخلاقی فساد کا آغاز اکثر نگاہ سے ہوتا ہے۔ جب نگاہ بے لگام ہو جائے تو دل متاثر ہوتا ہے، دل متاثر ہو تو خیالات بدلتے ہیں، اور پھر خیالات اعمال میں ڈھل جاتے ہیں۔ آج انٹرنیٹ پر فحاشی اور عریانی کی آسان رسائی نے اسی قرآنی ہدایت کی اہمیت کو پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا... وَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ"
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے ابنِ آدم پر زنا کا ایک حصہ لکھ دیا ہے... آنکھوں کا زنا (ناجائز) نگاہ ہے۔ (صحیح البخاری، حدیث: 6612)
یہ حدیث اس امر کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ شریعت صرف ظاہری جرائم کی اصلاح نہیں کرتی بلکہ ان ابتدائی اسباب کا بھی سدِّباب کرتی ہے جن سے بڑے گناہوں کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ قرآنِ کریم کا واضح اعلان ہے:
﴿إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾
ترجمہ: جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اہلِ ایمان میں بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ (سورۃ النور: 19)
امام ابنِ کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس میں صرف فحاشی پھیلانے والے ہی نہیں بلکہ اس کے فروغ کو پسند کرنے والوں کے لیے بھی سخت وعید ہے۔
تزکیۂ نفس اور وسائل کا شرعی استعمال
انسانی شخصیت یکایک فساد کا شکار نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے اسباب و عوامل کی ایک طویل زنجیر کارفرما ہوتی ہے۔ جب ایمان کی حرارت کمزور پڑنے لگے، احساسِ جواب دہی ماند ہو جائے اور علم کی جگہ محض معلومات مطلوب بن جائے، تو اخلاقی انحطاط شروع ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم نے انسان کی کامیابی کا مدار تزکیۂ نفس پر رکھا ہے:
﴿قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا ٭ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا﴾
ترجمہ: بیشک وہی کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، اور یقیناً وہ نامراد ہوا جس نے اسے گناہوں میں دبا دیا۔ (سورۃ الشمس: 9-10)
امام ابو حامد غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"القلب هو الأصل، والجوارح تبع له، فإذا صلح القلب صلحت الجوارح كلها."
ترجمہ: دل اصل ہے اور تمام اعضاء اس کے تابع ہیں، لہٰذا جب دل درست ہو جائے تو تمام اعضاء بھی درست ہو جاتے ہیں۔ (إحياء علوم الدين)
اسلام نے ہر اس دروازے کو بند کرنے کی تعلیم دی ہے جو انسان کو گناہ تک پہنچا دے (سدِّ ذرائع)۔ علامہ شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"الوسائل لها أحكام المقاصد."
ترجمہ: ذرائع اور وسائل کا حکم بھی انہی مقاصد کے تابع ہوتا ہے جن تک وہ پہنچاتے ہیں۔ (الموافقات)
یہ اصول جدید ذرائع ابلاغ پر پوری طرح منطبق ہوتا ہے۔ اگر ان کا استعمال علم، دعوت اور خیر کے لیے ہو تو مستحسن ہیں، اور اگر فحاشی یا ضیاعِ وقت کے لیے ہو تو ان کا حکم بھی وہی ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ"
ترجمہ: آدمی کے اسلام کے حسن میں سے یہ ہے کہ وہ فضول اور بے فائدہ چیزوں کو چھوڑ دے۔ (سنن الترمذی: 2317)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
"إني لأكره أن أرى الرجل فارغًا لا في عمل دنيا ولا في عمل آخرة."
ترجمہ: مجھے یہ بات سخت ناپسند ہے کہ میں کسی شخص کو اس حال میں دیکھوں کہ وہ نہ دنیا کے کسی مفید کام میں مشغول ہو اور نہ آخرت کے کسی عمل میں۔ (مصنف ابن أبي شيبة)
موتِ قلب اور حیا کا فقدان
مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا ایک حصہ محض وقت ضائع نہیں کرتا بلکہ اخلاقی حس کو بھی بتدریج مضمحل کر دیتا ہے۔ بے حیائی، جسے دیکھ کر کبھی فطرت شرم محسوس کرتی تھی، رفتہ رفتہ تفریح کا عنوان بن جاتی ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے علماء نے "موتِ قلب" کے ابتدائی آثار میں شمار کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ"
ترجمہ: حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔ (صحیح البخاری: 9)
جبکہ ایک دوسری روایت میں فرمایا:
"إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ"
ترجمہ: جب تم میں حیا باقی نہ رہے تو پھر جو چاہو کرتے رہو۔ (صحیح البخاری: 3483)
خاندانی و سماجی ذمہ داریاں اور تدارک
اسلام مرض کی تشخیص کے ساتھ علاج بھی بیان کرتا ہے۔ عصرِ حاضر میں انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات کا مقابلہ محض قانونی پابندیوں سے نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے ہمہ گیر تربیت درکار ہے۔ قرآنِ کریم کی ہدایت ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾
ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ (سورۃ التحریم: 6)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ"
ترجمہ: تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (صحیح البخاری: 893)
یہ ذمہ داری والدین، اساتذہ، علماء اور معاشرے کے ہر صاحبِ اثر فرد پر عائد ہوتی ہے۔ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کا قول ہے:
"النفس إن لم تشغلها بالحق شغلتك بالباطل."
ترجمہ: نفس کو اگر حق میں مشغول نہ رکھا جائے تو وہ تمہیں باطل میں مشغول کر دے گا۔ (صيد الخاطر)
نوجوانوں کو محرومی نہیں بلکہ صحیح رہنمائی اور مثبت متبادل (مطالعہ، کھیل، خدمتِ خلق) دیں۔ تاہم بعض مواقع پر اجتناب ہی تقویٰ کا تقاضا ہوتا ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے:
"دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ"
ترجمہ: جس چیز میں شبہ ہو اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرو جس میں شبہ نہ ہو۔ (سنن الترمذی: 2518)
جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا نہ مطلقاً خیر ہیں اور نہ مطلقاً شر، بلکہ ان کا حکم ان کے استعمال کے تابع ہے۔ اگر ان سے قرآن و سنت کا علم حاصل کیا جائے اور دعوت و اصلاح کا کام لیا جائے تو یہ عظیم نعمت ہیں، اور اگر وقت کے ضیاع اور بے حیائی کا ذریعہ بن جائیں تو تباہ کن ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کے مخالف نہیں بلکہ اس کے منضبط، ذمہ دار اور شرعی حدود کے پابند استعمال کے داعی بنیں۔ نوجوانوں کے ہاتھ سے موبائل چھیننے کے بجائے ان کے دل میں خوفِ خدا، حبِّ رسول ﷺ، وقت کی قدر اور آخرت کی جواب دہی کا احساس پیدا کریں، کیونکہ جب دل زندہ ہو جاتا ہے تو ہاتھوں میں موجود ذرائع خود بخود خیر کے خادم بن جاتے ہیں۔
والله ولي التوفيق۔
