با حیات علماء کی سوانح لکھیں!

با حیات علماء کی سوانح لکھیں
عنوان: با حیات علماء کی سوانح لکھیں
تحریر: نامعلوم

بزرگانِ دین کی سیرت و سوانح کا مطالعہ ہر صاحبِ شعور کے نزدیک نہایت اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ انہی کے ذریعے ان کے علم، عمل، اخلاق، خدمات اور طرزِ زندگی سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ اسی اہمیت کے پیشِ نظر اہلِ علم اور مصنفینِ کرام نے علما و اولیا کی سوانح نگاری کو ایک مستقل علمی فن کی حیثیت دی اور اس میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ بحمدہ تعالیٰ یہ مبارک سلسلہ آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے، اور ہر دور میں نئی نئی سوانحی تصانیف منظرِ عام پر آکر علمی سرمایہ میں اضافہ کر رہی ہیں۔

سوانح نگاری کا موجودہ انداز

موجودہ دور میں عموماً یہ طریقۂ کار رائج ہے کہ جب کوئی بزرگ، ولیِ کامل یا جلیل القدر عالمِ دین اس دنیا سے پردہ فرما جاتے ہیں تو اس کے عقیدت مند یا ان کی خواہش و ترغیب پر اہلِ قلم اور مصنفین ان کی سیرت و سوانح کو مرتب کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایک مستقل کتاب تصنیف کی جاتی ہے، جس میں ان کی حیاتِ مبارکہ کے مختلف گوشے، علمی و دینی خدمات، اخلاق و کردار، معمولات، تلامذہ، تصانیف، واقعات اور دیگر نمایاں پہلوؤں کو تفصیل سے پیش کیا جاتا ہے۔

بلاشبہ یہ نہایت مبارک، مفید اور پاکیزہ علمی خدمت ہے، بلکہ اس کا فروغ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے اکابرینِ دین کی خدمات محفوظ رہتی ہیں، ان کی یاد تازہ ہوتی ہے اور آئندہ نسلوں کو ان کی زندگی سے رہنمائی اور عمل کا قیمتی سرمایہ میسر آتا ہے۔

اس طرف توجہ

لیکن اس کے ساتھ ایک نہایت اہم پہلو کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ بزرگوں اور علما کی سوانحِ حیات پر کام صرف ان کے وصال کے بعد ہی نہ ہو، بلکہ ان کی حیاتِ مبارکہ ہی میں ان کی جامع اور مستند سوانح مرتب کی جائے اور وہ کتاب ان کی زندگی میں ہی شائع ہو کر اہلِ علم و عوام تک پہنچے۔

اس کی ایک بڑی حکمت یہ ہے کہ لوگ ان کی حیات ہی میں ان کے علم، تقویٰ، اخلاق، دینی خدمات اور روحانی کمالات سے واقف ہوں، ان کی صحبت سے فیض یاب ہوں، ان سے رہنمائی حاصل کریں اور ان کے تجربات و مشاہدات سے استفادہ کریں۔ اگر یہ کام صرف بعدِ وصال انجام دیا جائے تو اگرچہ لوگ ان کی سیرت پڑھ کر متأثر ضرور ہوتے ہیں، مگر براہِ راست استفادہ، رجوع، رہنمائی اور فیوض و برکات حاصل کرنے کا وہ دروازہ بند ہو چکا ہوتا ہے۔

لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اکابرینِ دین کی حیات ہی میں ان کے حالات و خدمات کو قلم بند کیا جائے، تاکہ ان کی شخصیت سے تعارف بھی عام ہو، ان کی قدر و منزلت بھی اجاگر ہو، اور لوگ ان کی موجودگی میں ان کے علمی و روحانی فیوض سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔

مزید یہ کہ اگر کسی بزرگ یا جلیل القدر عالمِ دین کی حیات ہی میں ان کی سوانح پر کام کیا جائے تو وافر، مستند اور متنوع مواد جمع کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ ان سے براہِ راست واقعات، علمی خدمات، معمولات، اسفار، تجربات اور دیگر اہم معلومات معلوم کی جا سکتی ہیں، نیز مبہم یا مختلف فیہ امور کی تصدیق و توثیق بھی انہی سے بآسانی ہو جاتی ہے۔

اس کے برعکس، بعدِ وصال سوانح نویسی کے دوران مواد جمع کرنے میں عموماً خاصی دشواری پیش آتی ہے۔ بہت سے واقعات فراموش ہو جاتے ہیں، بعض معلومات نامکمل رہ جاتی ہیں، اور متعدد روایات کی صحت و ثقاہت کی تحقیق بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ اس لیے علمی دیانت اور تاریخی صحت کے تقاضوں کے پیشِ نظر یہ زیادہ مناسب ہے کہ اکابرین کی حیات ہی میں ان کی جامع، مستند اور تحقیقی سوانح مرتب کی جائے، تاکہ ان کی شخصیت اور خدمات کا صحیح اور مکمل ریکارڈ محفوظ ہو سکے۔

غالباً عمدۃ المحققین علامہ محمد احمد مصباحی صاحب کی ایک تحریر پڑھی تھی، جس کا خلاصہ تھا کہ عام طور پر بزرگوں کی سوانحِ حیات ان کے وصال کے بعد لکھی جاتی ہے، حالانکہ زیادہ مفید یہ ہے کہ ان کی حیات ہی میں اسے مرتب اور شائع کیا جائے، تاکہ لوگ ان سے براہِ راست استفادہ بھی کرسکیں اور مستند مواد بھی محفوظ ہو جائے۔ کیونکہ بعدِ وصال مواد کی جمع آوری اور واقعات کی تصدیق میں دشواریاں پیش آتی ہیں، جس سے اغلاط کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!