| عنوان: | گاڑیوں کی سخت آوازیں |
|---|---|
| تحریر: | عمران رضا عطاری مدنی بنارسی |
| پیش کش: | مجمع التصانیف |
رات کے تقریباً ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔ والدۂ مرحومہ کی قبر پر فاتحہ اور ایصالِ ثواب کے بعد میں ایک کافی کی دکان کے قریب کھڑا تھا۔ رات کا پُرسکون ماحول تھا، سڑک پر معمولی آمد و رفت تھی اور ہر طرف سکوت کا عالم محسوس ہو رہا تھا۔ ایسے میں اچانک چند نوجوان اپنی موٹر سائیکلیں نہایت تیز رفتاری اور انتہائی بلند آواز کے ساتھ دوڑاتے ہوئے وہاں سے گزرے۔ ان کی گاڑیوں کا شور اتنا شدید تھا کہ چند لمحوں کے لیے پورا ماحول لرز اٹھا۔ یقین مانیں! اس آواز سے نہ صرف بچے، بوڑھے افراد کو تکلیف پہنچی ہوگی، بلکہ ایک صحت مند نوجوان بھی اس ناگوار شور سے بے چین ہوئے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔
اس منظر نے مجھے گہری سوچ میں ڈال دیا۔ میں دل ہی دل میں یہ سوچنے لگا کہ آخر یہ کیسی آزادی اور کیسا شوق ہے جس کی قیمت دوسروں کے سکون اور آرام کو چھین کر ادا کی جاتی ہے؟ محض چند لمحوں کی نمائش یا تفریح کی خاطر درجنوں افراد کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دینا نہ اخلاق کا تقاضا ہے اور نہ ہی ایک ذمہ دار شہری کا طرزِ عمل۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے نوجوان اپنی گاڑیوں کی غیر ضروری تبدیلی (Modification)، تیز رفتار ڈرائیونگ اور بلند آواز کو فخر اور بہادری سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ دوسروں کے لیے اذیت کا باعث بنتا ہے۔ اسلام نے راستے میں لوگوں کو تکلیف پہنچانے سے منع فرمایا ہے، بلکہ دوسروں کی راحت و آسائش کا خیال رکھنا حسنِ اخلاق کا حصہ قرار دیا ہے۔
میں انہی خیالات میں گم تھا کہ اچانک آقائے کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ارشادِ مبارک ذہن میں تازہ ہو گیا، جس میں دوسروں کو اذیت پہنچانے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
مَنْ اٰذَی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی الله.
یعنی: جس نے (بِلاوجہِ شَرعی) کسی مسلمان کو اِیذا دی اُس نے مجھے اِیذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اُس نے اللہ کو اِیذا دی۔ [جمع الجوامع، ۸/۳۳۴]
گاڑی کی سخت آوازیں اور ہارن کا استعمال
گاڑی میں ہارن ضرورت کے وقت استعمال کرنے کے لیے دیا گیا ہے، نہ کہ بلاوجہ اور مسلسل بجاتے رہنے کے لیے۔ اس کا استعمال ایسا ہونا چاہیے کہ کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ افسوس کہ بعض نوجوان بغیر ضرورت مسلسل ہارن بجاتے رہتے ہیں، جو درحقیقت ان کی تربیت کی کمی کی علامت ہے۔
اس کے برعکس ایسے بااخلاق افراد بھی دیکھنے میں آتے ہیں جو خصوصاً رات کے وقت رہائشی گلیوں سے گزرتے ہوئے حتیٰ الامکان ہارن سے گریز کرتے ہیں، تاکہ کسی کی نیند خراب نہ ہو اور کسی بیمار، بچے یا بزرگ کو اذیت نہ پہنچے۔
بلند آواز ساؤنڈ سسٹم
بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان کے یہاں شادی، ولیمہ یا کوئی اور تقریب ہوتی ہے تو وہ بلند آواز میں ساؤنڈ سسٹم پر گانے اور موسیقی چلاتے ہیں۔ حالانکہ ان کی اس حرکت سے آس پاس کے رہنے والے شدید اذیت اور پریشانی کا شکار ہوتے ہیں۔ بعض اوقات پڑوسی خود جا کر انہیں منع بھی کرتے ہیں، لیکن بعض لوگ ان کے شر یا بدتمیزی کے خوف سے خاموش رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا ایسے افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی اس ناپسندیدہ روش سے باز آئیں اور دوسروں کے آرام و سکون کا خیال رکھیں۔
اسی طرح میری رائے میں اگر دیر رات تک بلند آواز میں ساؤنڈ سسٹم پر جلسہ، نعت خوانی یا دیگر دینی پروگرام بھی کیے جائیں اور ان کی وجہ سے بلاوجہ لوگوں کو تکلیف اور اذیت پہنچے تو شرعاً اس کی بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے؛ کیونکہ اسلام نے دوسروں کو ایذا پہنچانے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ لہٰذا ہر ایسے موقع پر حقوقِ عامہ اور پڑوسیوں کے حقوق کا لحاظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔
اسلامی تعلیمات
اسلام کی تعلیمات کتنی حسین اور دل نشین ہیں کہ وہ ہمیں یہی سبق دیتی ہیں کہ ہمارے قول و عمل سے کسی دوسرے انسان کو تکلیف نہ پہنچے۔ اس حقیقت کو حضرت فضیل رحمۃ اللہ علیہ کے اس ارشادِ مبارک سے ملاحظہ کیجیے:
حضرتِ سیدنا فضیل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ کتے اور سؤر کو بھی ناحق اِیذا (یعنی تکلیف) دینا حلال نہیں تو مومنین و مومنات کو اِیذا دینا کس قدر بدترین جُرم ہے۔ [تکلیف نہ دیجیے، ص: ۱۲]
قارئینِ کرام! ذرا غور کیجیے، جب اسلام بلاوجہ کسی جانور، حتیٰ کہ کتے اور سور کو بھی تکلیف پہنچانے کو پسند نہیں کرتا، تو اشرف المخلوقات یعنی انسان کو اذیت پہنچانا کس قدر ناپسندیدہ اور سنگین عمل ہوگا۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہماری زبان، ہاتھ، رویّے اور کسی بھی عمل سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے، بلکہ ہم دوسروں کے لیے راحت، سکون اور خوشی کا ذریعہ بنیں۔
ربِ قدیر ہمیں دوسروں کے لیے راحت و سکون اور فرحت کا ذریعہ بننے کی توفیق بخشے، آمین۔
