| عنوان: | بدیہی باتوں سے غفلت اور مذہب کی تباہی |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی (کیرلا) |
بدیہی امور اور تخصص کی مثال
مبسملاً وحامداً ومصلیاً ومسلماً
(1) زید بہت ماہر اور عظیم المرتبت عالمِ دین ہے۔ وہ بہت ذہین و فطین اور متقی و پرہیز گار بھی ہے، لیکن وہ حافظِ قرآن نہیں ہے۔ لوگ اس سے تراویح پڑھانے کی گزارش کر رہے ہیں۔ وہ لوگوں کی مسلسل فرمائش کے سبب ان کی بات مان لیتا ہے، لیکن وہ حافظِ قرآن نہیں ہے تو وہ سورہ تراویح ہی پڑھا سکتا ہے، وہ مکمل قرآن نہیں سنا سکتا۔
ہاں، وہ بہت ذہین ہے تو سال دو سال کی محنت و مشقت سے ہی حفظِ قرآن کی تکمیل کر سکتا ہے، لیکن جب تک وہ حفظِ قرآن نہ کرے، وہ ہرگز تراویح میں مکمل قرآن نہیں پڑھ سکتا۔ یہ بات بالکل بدیہی ہے اور ایسی باتیں روشن بدیہیات سے ہیں۔
علوم و فنون اور تخصص کا فرق
(2) جس طرح زید حافظِ قرآن نہیں ہے، لیکن اسے کچھ سورتیں ضرور یاد ہیں، وہ سورہ تراویح ضرور پڑھا سکتا ہے۔ اسی طرح درسِ نظامی میں بہت سے علوم و فنون پڑھائے جاتے ہیں۔ بعدِ فراغت ایک عالم نے فقہ میں محنت کی اور وہ بڑے فقیہ ہو گئے۔ اب کوئی اس فقیہ سے کسی حدیث کی تصحیح و تضعیف سے متعلق سوال کرے تو چونکہ وہ علمِ حدیث سے مشغولیت نہیں رکھتے ہیں، لہٰذا ان کا جواب مستحکم نہیں ہوگا۔ ہاں یہ بات بھی سچ ہے کہ وہ درسِ نظامی میں اصولِ حدیث پڑھ چکے ہیں، لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ ان کو اس فن میں مشق و ممارست نہیں کہ وہ تصحیح و تضعیف سے متعلق ماہرانہ جواب دے سکیں۔
عبقری شخصیات پر عام قیاس کا مغالطہ
(3) بعض نفوسِ قدسیہ پر سب کو قیاس نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ایسے لوگ متعدد علوم و فنون میں ماہر ہوتے ہیں۔ ایسے بعض افراد خاص فضلِ خداوندی سے سرفراز ہوتے ہیں، مثلاً حضرات ائمہ مجتہدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ اسی طرح بعض دیگر عبقری شخصیات۔
عدمِ عصمت اور مذہب کی تحفظ
(4) ہاں، یہ دعویٰ کرنا کہ ہمارے ممدوح یا ہمارے مخدوم و استاد بھی ان عبقری شخصیات میں سے ہیں تو ایسا دعویٰ مذہب کی تباہی و بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔
امامِ اہل سنت قدس سرہ العزیز کے بارے میں بعض علمائے اہل سنت نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عز و جل نے ان کو لغزش و خطا سے محفوظ فرما دیا تھا۔ اب لوگ اپنے اپنے مخدوم و استاد کو محفوظ عن الخطا سمجھنے لگیں اور اپنے مخدوم کی غلطی کو بھی صحیح کہیں تو لا محالہ مذہب تباہ و برباد ہوگا۔
اصلاحی پہلو اور حاصلِ کلام
(5) واضح رہے کہ ہر عہد میں برائیوں کو دور کرنے والے بندگانِ الٰہی ہوتے ہیں اور انہی کے سبب برائیاں دور ہوتی ہیں۔ خود ساختہ نظریات آج یا کل زمین دوز ہو جاتے ہیں۔
بلا مشق و مزاولت اور بلا ممارست و مہارت ہر فن کے سوالات کے جواب دینا اصحابِ علم و فضل کے لیے مناسب نہیں اور اپنے اپنے ممدوح و مخدوم کے لیے محفوظ عن الخطا ہونے کا دعویٰ کرنا اصحابِ عقیدت و محبت کے لیے مناسب نہیں۔
طارق انور مصباحی (کیرلا)
جاری کردہ: 18 اگست 2026ء
