| عنوان: | حسن و جمالِ مصطفیٰ ﷺ بزبان امام احمد رضا |
|---|---|
| تحریر: | سید احمد رضا صادق مدنی |
چہرۂ انور
حضورِ اقدس ﷺ کا چہرۂ منور جمالِ الٰہی کا آئینہ اور انوارِ تجلی کا مظہر تھا۔ نہایت ہی وجیہ، پر گوشت اور کسی قدر گولائی لیے ہوئے تھا۔ حضرت جابر بن سمرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک مرتبہ چاندنی رات میں دیکھا، میں ایک مرتبہ چاند کی طرف دیکھتا اور ایک مرتبہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے چہرۂ انور کو دیکھتا تو مجھے آپ کا چہرہ چاند سے بھی زیادہ خوبصورت نظر آتا تھا۔ (الشمائل المحمدیۃ، حدیث: 9، ص 24)
جس سے تاریک دل جگمگانے لگے
اس چمک والی رنگت پہ لاکھوں سلام
سرِ مبارک
حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے آپ ﷺ کا حلیہ مبارکہ بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ "ضخم الراس" یعنی آپ ﷺ کا سرِ مبارک بڑا تھا (جو شاندار اور وجیہ ہونے کا نشان ہے)۔ (الشمائل المحمدیۃ، حدیث: 9، ص 24)
جس کے آگے سرِ سَروَراں خَم رہیں
اس سرِ تاجِ رِفعت پہ لاکھوں سلام
موئے مبارک
حضورِ انور ﷺ کے موئے مبارک نہ گھونگھردار تھے نہ بالکل سیدھے بلکہ ان دونوں کیفیتوں کے درمیان تھے۔ آپ ﷺ اکثر بالوں میں تیل بھی ڈالتے تھے اور کبھی کبھی کنگھی بھی کرتے تھے اور اخیر زمانہ میں بیچ سر میں مانگ بھی نکالتے تھے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مقدس بال آخر عمر تک سیاہ رہے، سر اور داڑھی شریف میں بیس بالوں سے زیادہ سفید نہیں ہوئے تھے۔ (الشمائل المحمدیۃ، حدیث: 26، ص 35)
وہ کرم کی گھٹا گیسوئے مشک سا
لَکَّۂ اَبرِ رأفَت پہ لاکھوں سلام
لَیْلَۃُ الْقَدْر میں مَطْلَعِ الْفَجْر حق
مانگ کی اِستِقامت پہ لاکھوں سلام
پیشانیِ مبارک
حضرت ہند بن ابی ہالہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ آپ ﷺ کے چہرۂ انور کا حلیہ بیان کرتے ہیں کہ "واسع الجبین" یعنی آپ ﷺ کی مبارک پیشانی کشادہ اور چوڑی تھی۔ (الشمائل المحمدیۃ، حدیث: 7، ص 21) قدرتی طور سے آپ ﷺ کی پیشانی پر ایک نورانی چمک تھی۔
جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا رہا
اس جَبِینِ سَعادت پہ لاکھوں سلام
بھوئیں مبارک
آپ ﷺ کی بھوئیں دراز و باریک اور گھنے بال والی تھیں اور دونوں بھوئیں اس قدر متصل تھیں کہ دور سے دونوں ملی ہوئی معلوم ہوتی تھیں اور ان دونوں بھوؤں کے درمیان ایک رگ تھی جو غصہ کے وقت ابھر جاتی تھی۔ (الشمائل المحمدیۃ، حدیث: 7، ص 21)
جن کے سجدے کو محرابِ کعبہ جھکی
ان بھَووں کی لَطافَت پہ لاکھوں سلام
چشمۂ مِہر میں موجِ نورِ جَلال
اس رگِ ہاشِمِیَّت پہ لاکھوں سلام
نورانی آنکھ مبارک
آپ ﷺ کی چشمانِ مبارک بڑی بڑی اور قدرتی طور پر سرمگیں تھیں۔ پلکیں گھنی اور دراز تھیں۔ پتلی کی سیاہی خوب سیاہ اور آنکھ کی سفیدی خوب سفید تھی جن میں باریک باریک سرخ ڈورے تھے۔ (الشمائل المحمدیۃ، حدیث: 6، ص 19) آپ ﷺ کی مقدس آنکھوں کا یہ اعجاز ہے کہ آپ بہ یک وقت آگے پیچھے، دائیں بائیں، اوپر نیچے، دن رات، اندھیرے اجالے میں یکساں دیکھا کرتے تھے۔ (زرقانی علی المواہب ج 5 ص 246 و خصائص کبریٰ ج 1 ص 61)
جس طرف اٹھ گئی دم میں دم آگیا
اس نگاہِ عِنایَت پہ لاکھوں سلام
کان مبارک
آپ ﷺ کی آنکھوں کی طرح آپ کے کان میں بھی معجزانہ شان تھی۔ چنانچہ آپ ﷺ نے خود اپنی زبانِ اقدس سے ارشاد فرمایا کہ: اِنِّیْ اَرٰی مَالَا تَرَوْنَ وَاَسْمَعُ مَالَا تَسْمَعُوْنَ (خصائص کبریٰ ج 1 ص 67) یعنی میں ان چیزوں کو دیکھتا ہوں جن کو تم میں سے کوئی نہیں دیکھتا اور میں ان آوازوں کو سنتا ہوں جن کو تم میں سے کوئی نہیں سنتا۔ (الخصائص الکبری للسیوطی، ج 1، ص 113)
دور و نزدیک کے سننے والے وہ کان
کانِ لَعلِ کَرامت پہ لاکھوں سلام
بینی (ناک) مبارک
آپ ﷺ کی متبرک ناک خوبصورت دراز اور بلند تھی جس پر ایک نور چمکتا تھا۔ جو شخص بغور نہیں دیکھتا تھا وہ یہ سمجھتا تھا کہ آپ کی مبارک ناک بہت اونچی ہے حالانکہ آپ کی ناک بہت زیادہ اونچی نہ تھی بلکہ بلندی اس نور کی وجہ سے محسوس ہوتی تھی جو آپ کی مقدس ناک کے اوپر جلوہ فگن تھا۔ (الشمائل المحمدیۃ، حدیث: 7، ص 21)
نیچی آنکھوں کی شرم و حیا پر درود
اونچی بِینی کی رِفعت پہ لاکھوں سلام
دہنِ مبارک
حضرت ہند بن ابی ہالہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ آپ ﷺ کے رخسار نرم و نازک اور ہموار تھے اور آپ ﷺ کا منہ فراخ، دانت کشادہ اور روشن تھے۔ جب آپ ﷺ گفتگو فرماتے تو آپ کے دونوں اگلے دانتوں کے درمیان سے ایک نور نکلتا تھا اور جب کبھی اندھیرے میں آپ مسکرا دیتے تو دندانِ مبارک کی چمک سے روشنی ہو جاتی تھی۔ (الشمائل المحمدیۃ، حدیث: 7، 14، ص 21-26)
وہ دَہن جس کی ہر بات وَحیِ خدا
چشمۂ علم و حکمت پہ لاکھوں سلام
پتلی پتلی گلِ قُدس کی پتیاں
اُن لبوں کی نَزاکت پہ لاکھوں سلام
لعابِ دہن مبارک
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے گھر میں ایک کنواں تھا۔ آپ ﷺ نے اس میں اپنا لعابِ دہن ڈال دیا تو اس کا پانی اتنا شیریں ہو گیا کہ مدینہ منورہ میں اس سے بڑھ کر کوئی شیریں کنواں نہ تھا۔ (زرقانی ج 5 ص 246)
جس سے کھاری کنویں شِیرئہ جاں بنے
اس زُلالِ حَلاوَت پہ لاکھوں سلام
جس کے پانی سے شاداب جان و جناں
اس دہن کی طراوت پہ لاکھوں سلام
زبانِ مبارک
آپ ﷺ کی مقدس زبان کی حکمرانی اور شان کا یہ اعجاز تھا کہ زبان سے جو فرما دیا وہ ایک آن میں معجزہ بن کر عالمِ وجود میں آ گیا۔
وہ زباں جس کو سب کن کی کنجی کہیں
اس کی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام
آوازِ مبارک
یہ حضراتِ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے خصائص میں سے ہے کہ وہ خوبصورت اور خوش آواز ہوتے ہیں لیکن حضورِ سید المرسلین ﷺ تمام انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام سے زیادہ خوبرو اور سب سے بڑھ کر خوش گلو، خوش آواز اور خوش کلام تھے۔ خوش آوازی کے ساتھ ساتھ آپ اس قدر بلند آواز بھی تھے کہ خطبوں میں دور اور نزدیک والے سب یکساں اپنی اپنی جگہ پر آپ کا مقدس کلام سن لیا کرتے تھے۔ (زرقانی ج 4 ص 178)
جس میں نہریں ہیں شیر و شکر کی رواں
اس گلے کی نضارت پہ لاکھوں سلام
قدِ مبارک
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ حضور انور ﷺ نہ بہت زیادہ لمبے تھے نہ پستہ قد بلکہ آپ درمیانی قد والے تھے اور آپ کا مقدس بدن انتہائی خوبصورت تھا، جب چلتے تھے تو کچھ خمیدہ ہو کر چلتے تھے۔ (شمائل ترمذی ص 1)
اُن کے خَد کی سُہُولت پہ بے حد درود
ان کے قَد کی رَشاقَت پہ لاکھوں سلام
تبسمِ مبارک
حضرت عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضور پاک ﷺ سے زیادہ مسکرانے والا کوئی نہیں دیکھا۔ (شمائل ترمذی، 218)
جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں
اس تبسم کی عادت پہ لاکھوں سلام
شکمِ مبارک
آپ ﷺ کا شکم و سینۂ اقدس دونوں ہموار اور برابر تھے۔ نہ سینہ شکم سے اونچا تھا نہ شکم سینہ سے۔ آپ ﷺ کا سینہ چوڑا تھا اور سینہ کے اوپر کے حصہ سے ناف تک مقدس بالوں کی ایک پتلی سی لکیر چلی گئی تھی، مقدس چھاتیاں اور پورا شکم بالوں سے خالی تھا۔ ہاں شانوں اور کلائیوں پر قدرے بال تھے۔ (الشمائل المحمدیۃ، حدیث: 7، ص 21) آپ ﷺ کا شکم صبر و قناعت کی ایک دنیا اور آپ کا سینہ معرفتِ الٰہی کے انوار کا سفینہ اور وحیِ الٰہی کا گنجینہ تھا۔
کل جہاں ملک اور جو کی روٹی غذا
اُس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام
مہرِ نبوت مبارک
حضرت جابر بن سمرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کے دونوں شانوں کے بیچ میں مہرِ نبوت کو دیکھا جو کبوتر کے انڈے کی مقدار میں سرخ ابھرا ہوا ایک غدود تھا (الشمائل المحمدیۃ، حدیث: 16، ص 28)
حجرِ اسودِ کعبۂ جان و دل
یعنی مُہرِ نبوت پہ لاکھوں سلام
ہاتھ مبارک
آپ ﷺ کی مقدس ہتھیلیاں چوڑی، پرگوشت، کلائیاں لمبی، بازو دراز اور گوشت سے بھرے ہوئے تھے۔ (الشمائل المحمدیۃ، حدیث: 7، ص 21) حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ میں نے کسی ریشم اور دیبا کو آپ ﷺ کی ہتھیلیوں سے زیادہ نرم و نازک نہیں پایا اور نہ کسی خوشبو کو آپ کی خوشبو سے بہتر اور بڑھ کر خوشبودار پایا۔ (صحیح البخاری، حدیث: 3561، ج 2، ص 489)
ہاتھ جس سمت اٹھا غنی کر دیا
موجِ بحرِ سَماحَت پہ لاکھوں سلام
قدمِ مبارک
آپ ﷺ کے مقدس پاؤں چوڑے، پرگوشت، ایڑیاں کم گوشت والی، تلوا اونچا جو زمین میں نہ لگتا تھا، دونوں پنڈلیاں قدرے پتلی اور صاف و شفاف، پاؤں کی نرمی اور نزاکت کا یہ عالم تھا کہ ان پر پانی ذرا بھی نہیں ٹھہرتا تھا۔ (الشمائل المحمدیۃ، حدیث: 7، ص 21)
کھائی قرآن نے خاکِ گزر کی قسم
اُس کفِ پاک کی حرمت پہ لاکھوں سلام
