| عنوان: | بے عمل عالم |
|---|---|
| تحریر: | حضرت فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی |
| پیش کش: | صبرین فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
۱۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
العَالِمُ مَنْ يَّعْمَلُ بِالعِلْمِ وَإِنْ كَانَ قَلِيلًا [رواه ابوالشيخ - كنز العمال ج ۱۰ ص ۷]
عالم وہ شخص ہے جو علم پر عمل کرے اگرچہ علم تھوڑا ہو۔
یعنی جو علم پر عمل نہ کرے وہ صرف نام کا عالم ہے حقیقت میں عالم نہیں جیسا کہ حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
إِنَّ غَيْرَ الْعَامِلِيْنَ لَيْسُوْا عُلَمَاءَ [مرقاۃ جلد اول ص ۲۵۵]
یقیناً جو عمل کرنے والے نہیں ہیں وہ عالم نہیں ہیں۔
۲۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:
أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَالِمٌ لَمْ يَنْفَعْهُ عِلْمُهُ [رواه ابو داود الطیالسی - کنز العمال ج ۱۰ ص ۱۰۱]
قیامت کے دن سب سے سخت عذاب والا وہ عالم ہوگا کہ جسے اس کے علم نے فائدہ نہیں دیا۔
۳۔ حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
مَثَلُ الْعَالِمِ الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ وَيَنْسَى نَفْسَهُ كَمَثَلِ السِّرَاجِ يُضِيءُ لِلنَّاسِ وَيَحْرِقُ نَفْسَهُ [رواه الطبرانی فی الکبیر - کنز العمال ج ۱۰ ص ۱۰۱]
اس عالم کی مثال جو لوگوں کو بھلائی سکھاتا ہے اور عمل نہیں کرتا اس چراغ کے مانند ہے جو دوسروں کو روشنی دیتا ہے اور خود کو جلاتا ہے۔
۴۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:
أَشَدُّ النَّاسِ حَسْرَةً یَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ عَلِمَ عِلْماً فَانْتَفَعَ بِهِ مَنْ سَمِعَهُ مِنْهُ دُونَهُ [رواه ابن عساكر - كنز العمال ج ۱۰ ص ۷]
قیامت کے دن بہت زیادہ افسوس کرنے والا وہ شخص ہوگا کہ علم حاصل کیا تو جس نے اس سے سنا فائدہ اٹھایا سوائے اس کے۔
۵۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
تَعَلَّمُوا مِنَ الْعِلْمِ مَا شِئْتُمْ فَوَاللَّهِ لَا تُؤْجَرُوا وَاجْمَعُوا الْعِلْمِ حَتَّى تَعْمَلُوا [رواه ابو الحسن في اماليه - كنز العمال ج ۱۰ ص ۷]
جو علم چاہو حاصل کرو مگر خدا کی قسم تم علم جمع کرنے پر ثواب نہیں دیئے جاؤ گے یہاں تک کہ عمل کرو۔
۶۔ حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:
إِنَّ أَنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَطْلُعُونَ عَلَى أُنَاسٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَيَقُولُونَ بِمَ دَخَلْتُمُ النَّارَ فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْنَا إِلَّا بِمَا تَعَلَّمْنَا مِنْكُمْ فَيَقُولُونَ إِنَّا كُنَّا نَقُولُ وَلَا نَفْعَلُ [رواہ الطبرانی - کنز العمال ج ۱ ص ۱۰۸]
جنت کے بعض لوگ جہنم کے کچھ لوگوں سے متوجہ ہو کر کہیں گے کہ آپ لوگ جہنم میں کیوں داخل ہوئے؟ خدا کی قسم ہم آپ لوگوں سے سیکھنے ہی کے سبب جنت میں داخل ہوئے تو وہ کہیں گے کہ ہم لوگ کہتے تھے مگر عمل نہیں کرتے تھے۔
۷۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رِجَالاً تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمِقَارِيضَ مِنْ نَارٍ قُلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ [رواہ فی شرح السنة - مشکوٰة ص ۴۳۸]
میں نے معراج کی رات میں دیکھا کہ کچھ لوگوں کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے ہیں۔ میں نے پوچھا جبریل یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا یہ آپ کی امت کے خطیب اور واعظ ہیں جو لوگوں کو نیکی کی ہدایت کرتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے یعنی خود نیک کام نہ کرتے تھے۔
۸۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسولِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
يُجَاءُ بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ فَيَطْحَنُ فِيهَا كَطَحْنِ الرَّحَى فَيَجْتَمِعُ أَهْلُ النَّارِ عَلَيْهِ فَيَقُولُونَ أَيْ فُلَانُ مَا شَأْنُكَ أَلَيْسَ كُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ قَالَ كُنْتُ آمُرُكُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيهِ وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ [مشکوة ص ۴۳۶]
قیامت کے دن ایک شخص کو لاکر جہنم میں ڈال دیا جائے گا تو اس کی آنتیں فوراً پیٹ سے نکل کر آگ میں گر پڑیں گی پھر وہ انہیں پیسے گا یعنی ان کے گرد چکر کاٹے گا جیسے پن چکی کا گدھا آٹا پیستا ہے تو دوزخی یہ دیکھ کر اس کے پاس جمع ہو جائیں گے اور اس سے کہیں گے اے فلاں! تیرا کیا حال ہے یعنی یہ تو کیا کر رہا ہے؟ کیا تو ہم کو نیک کام کرنے اور برے کام سے باز رہنے کا حکم نہیں دیتا تھا، وہ کہے گا ہاں میں تم کو نیک کام کا حکم دیتا تھا اور خود اس کو نہیں کرتا تھا اور برے کام سے تم کو روکتا تھا اور خود اس کو کرتا تھا۔
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ دوسروں کو اچھی بات کا حکم دینا اور بری بات سے روکنا اور خود اس پر عمل نہ کرنا عذاب کا سبب ہے لیکن یہ عذاب عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہے امر ونہی کی وجہ سے نہیں ہے اس لئے کہ اگر امر ونہی بھی نہیں کرنے کا تو دو واجب ترک کرنے کے سبب اور زیادہ عذاب کا مستحق ہوگا۔ [اشعۃ اللمعات ج ۴ ص ۱۷۵]
۹۔ حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ علمِ دین خشیتِ الہی پیدا کرتا ہے جس سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے اور وہی عالم کی افضلیت کا سبب ہے۔ لہذا جس شخص کا علم ایسا نہ ہو وہ جاہل کے مثل ہے بلکہ وہ جاہل ہے۔ [مرقاۃ شرح مشکوۃ ج ۱ ص ۲۳]
۱۰۔ امام شعبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
إِنَّمَا الْعَالِمُ مَنْ يَخْشَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ [تفسیر خازن و معالم التنزیل جلد ۵ ص ۳۰۲]
یعنی عالم صرف وہ شخص ہے جسے خدائے عزوجل کی خشیت حاصل ہو۔
۱۱۔ امام ربیع بن انس علیہ الرحمۃ والرضوان نے فرمایا:
مَنْ لَّمْ يَخْشَ اللَّهَ فَلَيْسَ بِعَالِمٍ [تفسیر خازن ج ۵ ص ۳۰۲]
یعنی جسے خشیتِ الہی حاصل نہ ہو وہ عالم نہیں۔
