جاہل مُفتِی

جاہل مُفتِی
عنوان: جاہل مُفتِی
تحریر: حضرت فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

۱۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مَنْ اُفْتِیَ بِغَیْرِ عِلْمٍ کَانَ اِثْمُہٗ عَلٰی مَنْ اَفْتَاہُ [رواہ ابوداؤد — مشکوۃ شریف ص ۳۵]

ترجمہ: جو بغیر علم کے فتویٰ دے اس کا گناہ فتویٰ پوچھنے والے پر ہے۔

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ:
"بے علم کے فتویٰ دینے سے پوچھنے والا گنہگار اس لیے ہوگا کہ وہی اس کے فتویٰ دینے کا سبب بنا۔ حدیث شریف کا یہ معنیٰ اس صورت میں ہوگا جبکہ اَفْتٰی صیغہ معروف کے ساتھ ہو۔ اور اگر بصیغہ مجہول اُفْتِیَ ہو تو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جسے بغیر علم کے فتویٰ دیا گیا اس کا گناہ اس شخص پر ہوگا جس نے فتویٰ دیا اور یہ معنیٰ زیادہ ظاہر ہے۔" [اشعۃ اللمعات جلد اول ص ۱۶۸]

اور حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ دوسری صورت اظہر واضح ہے یعنی جاہل نے عالم سے مسئلہ پوچھا تو عالم نے غلط جواب دیا اور جاہل نے اس پر عمل کیا اور مسئلہ کا غلط ہونا نہیں جانا تو اس کا گناہ مسئلہ بتانے والے پر ہوگا بشرطیکہ اس نے اپنی سمجھ سے بتایا ہو۔ [مرقاۃ شرح مشکوۃ جلد اول ص ۲۲۶]

۲۔ حضرت عبید اللہ بن ابو جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرسلاً روایت ہے:

أَجْرَأُكُمْ عَلَى الْفُتْيَا أَجْرَأُكُمْ عَلَى النَّارِ [رواہ الدارمی - کنز العمال ج ۱۰ ص ۱۰۶]

جو شخص تم میں فتویٰ پر زیادہ دلیر ہے وہ جہنم پر زیادہ دلیر ہے۔

۳۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

مَنْ أَفْتَى بِغَيْرِ عِلْمٍ لَعَنَتْهُ مَلَائِكَةُ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ [رواہ ابن عساکر - کنز العمال ج ۱۰ ص ۱۱۱]

جس نے بغیر علم کے فتویٰ دیا آسمان و زمین کے فرشتوں نے اس پر لعنت کی۔

۴۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ رُؤَسَاءُ جُهَّالًا يُفْتُوْنَ النَّاسَ فَيَضِلُّوْنَ وَيُضِلُّوْنَ [رواہ ابو نعیم والدیلمی - کنز العمال ج ۱۰ ص ۱۱۹]

آخری زمانہ میں کچھ لوگ پیدا ہوں گے جو سردار اور جاہل ہونگے، وہ لوگوں کو فتویٰ دیں گے، خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو گمراہ کریں گے۔

۵۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

يَايُّهَا النَّاسُ مَنْ عَلِمَ شَيْئاً فَلْيَقُلْ بِهِ وَمَنْ لَّمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ اللهُ اَعْلَمُ فَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ اَنْ تَقُوْلَ لِمَا لَا تَعْلَمُ اللهُ اَعْلَمُ [بخاری، مسلم - مشکوٰۃ ص ۳۷]

اے لوگو! جو شخص کچھ جانتا ہو تو بیان کر دے، اور جو نہ جانتا ہو تو کہہ دے کہ "اللہ بہتر جانتا ہے"؛ اس لیے کہ یہ بات علم ہی سے ہے کہ جسے تم نہ جانو تو کہہ دو کہ "اللہ بہتر جانتا ہے"۔

یعنی عالم کو اپنی لاعلمی ظاہر کرنے میں شرم نہیں کرنا چاہیے، اس لیے کہ انسان کی جہالت اس کے علم سے بہت زیادہ ہے، جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَا اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا [پ ۱۵ ع ۱۰]

یعنی تم لوگ تھوڑا ہی علم دیے گئے ہو۔

حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم جبکہ منبر پر رونق افروز تھے تو آپ سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا۔ آپ نے فرمایا: "میں نہیں جانتا۔" وہ گستاخ بولا کہ جب آپ نہیں جانتے تو منبر پر کیوں چڑھ گئے؟ آپ نے فرمایا کہ میں اپنے علم کے لحاظ سے چڑھتا ہوں اگر اپنی جہالت کے اعتبار سے چڑھتا تو آسمان پر پہنچ جاتا۔

اور حضرت امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے چالیس مسئلے پوچھے گئے جن میں سے آپ نے صرف چار کے جوابات دئے اور چھتیس مسئلوں کے بارے میں فرمایا کہ میں نہیں جانتا۔ [مرقاة شرح مشكوة جلد اول ص۲۵]

اور حضرت امام ابو یوسف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کوئی مسئلہ دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں۔ پوچھنے والے نے کہا کہ آپ بیت المال سے اتنا اتنا روپیہ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہیں۔ آپ نے فرمایا: میں اپنے علم کے لحاظ سے روپیہ لیتا ہوں اگر اپنی جہالت کے اعتبار سے لیتا تو بیت المال کا کل روپیہ لے لیتا۔ [شرح فقه اكبر ص۵]

اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمة والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ علم الفتویٰ پڑھنے سے نہیں آتا جب تک کہ مدّتہا طبیبِ حاذق کا مطب نہ کیا ہو۔ [فتاویٰ رضویہ جلد دہم ص۲۳۱]

اور تحریر فرماتے ہیں کہ آج کل درسی کتابیں پڑھنے سے پڑھانے سے آدمی فقہ کے دروازے میں داخل نہیں ہوتا نہ کہ واعظ، جسے سوائے طلاقتِ لسان کوئی لیاقت یہاں درکار نہیں۔ [فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ص۵۶۵]

مگر آج کل عام طور پر ہر وہ شخص کہ جسے کسی مدرسہ سے عالم و فاضل کی سند مل جاتی ہے چاہے وہ جاہل ہی کیوں نہ ہو اپنے کو فتویٰ دینے کا اہل سمجھتا ہے اور حلال و حرام کی پروا کئے بغیر جو کچھ سمجھ میں آتا ہے بے دھڑک بتا دیتا ہے۔ اسی طرح بہت سے جاہل مقرر جو تقریری کتابوں کے علاوہ بہارِ شریعت کو بھی کبھی ہاتھ نہیں لگاتے مگر چرب زبانی کے سبب عوام انھیں سب سے بڑا علامہ سمجھتے ہیں جب ان سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جاتا ہے تو وہ اپنی بڑائی کا بھرم قائم رکھنے کے لئے اپنی طبیعت سے مسئلہ گھڑ کے بتا دیتے ہیں۔ نہ اللہ و رسول سے خوف کرتے ہیں اور نہ اپنی عاقبت کے برباد ہونے سے ڈرتے ہیں، خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔

۶۔ حضرت علامہ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ آدمی چار طرح کے ہوتے ہیں:
اوّل: وہ کہ جانتا ہے اور وہ یہ جانتا ہے کہ میں جانتا ہوں تو وہ عالمِ دین ہے اس کی پیروی کرو۔
دوم: وہ کہ جانتا ہے اور وہ یہ نہیں جانتا ہے کہ میں جانتا ہوں تو وہ سویا ہوا ہے اسے بیدار کرو۔
سوم: وہ کہ نہیں جانتا ہے اور وہ یہ جانتا ہے کہ میں نہیں جانتا ہوں تو اس کو ہدایت کی ضرورت ہے اسے ہدایت کرو۔
چہارم: وہ کہ نہیں جانتا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتا ہے کہ میں نہیں جانتا ہوں تو وہ شیطان ہے اس سے دور رہو۔ [تفسیر کبیر جلد اول ص ۲۷۸]

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!