| عنوان: | رئیس القلم علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
آپ کا اسمِ گرامی “عبد الرشید” ہے لیکن دنیائے سنیت میں “ارشد القادری” کے نام سے اور “قائدِ اہلِ سنت” کے لقب سے متعارف ہیں۔ آپ کی ولادت مشرقی یوپی ضلع بلیا کے “سید پورہ” نامی گاؤں میں ۵ مارچ ۱۹۲۵ء کو ہوئی۔
تحصیلِ علم اور تدریسی خدمات
ابتدائی تعلیم گھر پر جدِ امجد اور والدِ ماجد سے پائی پھر دار العلوم اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور کا رخ کیا اور یہاں حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی خصوصی تربیت میں آٹھ سال تک حصولِ علم کیا اور ۱۳۶۵ھ مطابق ۱۹۴۶ء کو سندِ فضیلت سے نوازے گئے۔ بعدِ فراغت جامعہ شمس العلوم ناگپور اور مدرسہ فیض العلوم جمشید پور میں آپ نے تدریسی خدمات انجام دیں اور تقریباً ڈیڑھ ہزار علما و فضلا کو علمِ دین سے آراستہ کر کے میدانِ عمل میں اتارا جن میں فقیہِ ملت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ کا نامِ نامی آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔
بیعت و خلافت
آپ کو شرفِ بیعت خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ سے حاصل تھا جبکہ اجازت و خلافت قطبِ مدینہ حضرت ضیاء الدین مدنی اور سرکارِ پٹنہ حضرت شاہ فدا حسین علیہما الرحمہ نے عطا فرمائی۔
صحافت
صحافت کی دنیا میں آپ کی ذات ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ آپ نے چار رسالے جاری فرمائے، دو کلکتہ سے “جامِ کوثر” اور “جامِ نور” کے نام سے اور دو پٹنہ سے “شانِ ملت” اور “رفاقت” کے نام سے۔ جامِ نور ماہانہ تھا باقی پندرہ روزہ۔
تصنیف
آپ کی پوری زندگی اگرچہ ملکی اور غیر ملکی تبلیغی اسفار اور تعلیمی و تنظیمی کاموں کے لیے وقف رہی لیکن رب تعالیٰ نے آپ کو قلم کا دھنی بنایا تھا جس کی وجہ سے اتنی مصروفیت کے باوجود آپ کے سیال قلم سے تقریباً پچاس کتابیں معرضِ وجود میں آئیں۔ ان میں سے چند کے نام یہ ہیں:
-
زلزلہ
-
زیر و زبر (جس نے دنیائے باطل میں زلزلہ برپا کر کے اسے زیر و زبر کر دیا)
-
تبلیغی جماعت
-
جماعتِ اسلامی
-
لالہ زار
-
تعزیراتِ قلم
-
جلوۂ حق
-
نقشِ کربلا
-
امام احمد رضا کی مکتوب نگاری
-
دعوتِ انصاف
-
تفسیرِ سورۂ فاتحہ
-
مطالعۂ دیوبندیت
-
سرکار کا جسمِ بے سایہ
-
حدیث، فقہ اور اجتہاد کی شرعی حیثیت
-
بزبانِ حکایت وغیرہ
وصال
۲۹ اپریل ۲۰۰۲ء کو دہلی میں شام ۴ بج کر ۳۵ منٹ پر آپ نے وصال فرمایا۔
مناظرے
آپ نے مناظرہ کس سے سیکھا؟ تمام مناظر فرزندانِ اشرفیہ میں سب سے زیادہ مناظرے آپ نے ہی کیے۔ آپ نے مناظرہ کا فن کس سے سیکھا؟ اس کے بارے میں مولانا مبارک حسین مصباحی لکھتے ہیں: “حضرت علامہ ارشد القادری فرماتے تھے کہ میں نے حضور حافظِ ملت کی تصنیف “العذاب الشدید” سے فنِ مناظرہ سیکھا”۔ [شہرِ خموشاں کے چراغ، ص: ۲۷۸]
نیز پندرہ روزہ نوائے حبیب کلکتہ میں علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کا قول اس طرح مذکور ہے: “یہ بالکل امرِ واقع ہے کہ مناظرہ کے اصول و رموز، بحث و استدلال کے ضابطے اور گفتگو کے قواعد و آداب کا جو بھی سرمایہ میرے پاس ہے وہ حضور مجاہدِ ملت کا عطا کردہ ہے”۔ [ایضاً، ص: ۲۷۹]
گویا آپ نے فنِ مناظرہ، اس کے اسرار و رموز اور قواعد و ضوابط حضور مجاہدِ ملت اور حضور حافظِ ملت کی بابرکت ذات سے سیکھے۔
مناظرہ جمشید پور
سببِ مناظرہ: اگست ۱۹۵۴ء کو امامِ جامع مسجد ساکچی اور صدیق علی کی نام نہاد کمیٹی کے خلاف علمائے اہلِ سنت کا آئینی طور پر فیصلہ کن الیکشن ہوا مگر بدباطن اور ہنگامہ پسند اپنی شرارت سے باز نہ آئے۔ بالآخر دیوبندیوں کے چیلنجِ مناظرہ پر ۱۹ ستمبر ۱۹۵۴ء کو عید گاہ دھتکی ڈیہہ میں “مولوی اشرف علی تھانوی کی کتاب “حفظ الایمان” کی کفریہ عبارت” پر مناظرہ طے ہوا۔
صدر اور مناظر: صدرِ مناظرہ حضور مجاہدِ ملت علیہ الرحمہ اور مناظر علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ تھے جبکہ دیوبندیوں کی طرف سے صدر مولوی اسماعیل کٹکی اور مناظر مولوی عبد اللطیف مئوی تھے۔
مناظرہ کی سرگزشت: مناظرہ دو دنوں تک چلا، دوسرے دن حفظ الایمان کی عبارت میں لفظ “ایسا” کے بارے میں بحث ہوئی کہ اس لفظ کے ذریعہ علمِ پاکِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو رذائل سے تشبیہ دی گئی ہے یا نہیں اور یہ لفظ موجبِ اہانت ہے یا نہیں؟ دورانِ بحث دیوبندی مناظر کو اقرار کرنا پڑا کہ اس عبارت میں رذائل سے تشبیہ دی گئی ہے اور یہ عبارت موجبِ اہانت ہے۔
نتیجہ: اس اقرار کے بعد سارے مجمع پر ظاہر ہو گیا کہ حفظ الایمان کی عبارت کفری ہے اور اس کے حمایتی اقراری طور پر اہانتِ رسول کے مرتکب اور خارج از اسلام ہیں۔ بس اتنا اعلان ہونا تھا کہ دیوبندی مناظر اسٹیج خالی کر کے بھاگ کھڑے ہوئے اور اہلِ سنت نے فتحِ مبین کا نعرہ لگا دیا۔
مناظرہ چھپرہ، بہار
سببِ مناظرہ: سلام و قیام اگرچہ کوئی ایسا عمل نہیں جس کے منکر و تارک پر کفر و شرک کا حکم لگایا جائے اور نہ یہ اہلِ سنت اور دیابنہ و وہابیہ کے مابین اختلاف کی اصل بنیاد ہے، لیکن دیوبندیوں اور وہابیوں کے قلوب و اذہان میں تعظیم و توقیرِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر پہلو ترک کرنے اور اس کے خلاف زور صرف کرنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ اس حیثیت سے سلام و قیام کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ ایسا ہی واقعہ بتھوا بازار ضلع چھپرہ، بہار میں پیش آیا جب مولوی عبد السلام دیوبندی لکھنوی نے یہاں آ کر اپنی تقریر میں سلام و قیام کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناجائز و حرام قرار دیا اور یہی اس مناظرہ کا سبب بنا اور موضوعِ مناظرہ “سلام و قیام” متعین ہوا۔
صدر اور مناظر: اہلِ سنت کی طرف سے صدر سلطان المتکلمین مفتی رفاقت حسین علیہ الرحمہ اور مناظر علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ منتخب ہوئے اور دیوبندیوں کی طرف سے صدر مولوی نور محمد ٹانڈوی اور مناظر مولوی عبد السلام لکھنوی کا انتخاب کیا گیا۔
کچھ بحث و مباحثہ کے بارے میں: اس مناظرہ کا نتیجہ صرف ایک روز میں نکل گیا اور دیوبندیوں کو شکستِ فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مناظرہ کے آغاز ہی میں علامہ صاحب نے ایسا سوال کیا کہ فریقِ مخالف کو نہ “ہاں” کہتے بنتا اور نہ “نا” کہتے بنتا۔ اس کی اجمالی روداد علامہ صاحب یوں بیان کرتے ہیں: “جب مناظرہ شروع ہوا تو اس موضوع پر بحث کے آغاز سے پہلے میں نے ان سے سوال کیا کہ سلام و قیام کے بارے میں آپ کا جماعتی عقیدہ کیا ہے، آپ اس کو حرام سمجھتے ہیں یا جائز سمجھتے ہیں؟ سوال کے تیور سے انہوں نے سمجھ لیا کہ اگر میں حرام کہتا ہوں تو یہ بحث مجھے مخمصے میں ڈال دے گی۔ اس لیے انہوں نے جواب سے جان چھڑانے کے لیے الٹے مجھ سے سوال کر دیا کہ آپ بتائیے کہ آپ سلام و قیام کو کیا سمجھتے ہیں؟ میں نے کہا میرے سوال کے بعد آپ کی حیثیت صرف مجیب کی ہے۔ آپ جواب دے سکتے ہوں تو دیجیے ورنہ صاف صاف کہہ دیجیے کہ میں جواب نہیں دے سکتا”۔ [سوغاتِ رضا ۲۰۰۴ء، ص: ۳۴]
لیکن دیوبندی مناظر علامہ صاحب کا جواب دینے کے بجائے ہر بار الٹے سوال کرتا رہا۔ اس صورتِ حال کو دیکھ کر مجمع سے رہا نہ گیا تو بہت سے لوگ کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ آج سے تین مہینے پہلے آپ ہی یہاں جلسہ میں گلا پھاڑ پھاڑ کر چیختے رہے کہ سلام و قیام حرام ہے۔ لیکن جب آج سامنے شیر آیا ہے تو وہی بات اس کے سامنے کیوں نہیں دہراتے۔
نتیجہ: اس مناظرے کا نتیجہ کس کے حق میں رہا۔ علامہ ارشد القادری فرماتے ہیں: “عوام کے اس ردِ عمل کے نتیجہ میں دیوبندی جماعت کی بڑی سبکی ہوئی اور اپنے مناظر کو اسٹیج سے اٹھا کر لے گئے کیونکہ عوام کا شور و شغب اتنا بے قابو ہو گیا کہ اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا۔ اس کے بعد اہلِ سنت نے فتح کا جلوس نکالا اور پورا علاقہ تکبیر و رسالت کے نعرہ سے گونج اٹھا”۔ [ایضاً، ص: ۳۴]
