ندوہ شکن ندویِ فگن قاضی عبدالوحید فردوسی رحمہ اللہ (قسط: اول)|محمد عطاء النبی حسینى مصباحى

ندوہ شکن ندویِ فگن قاضی عبدالوحید فردوسی رحمہ اللہ (قسط: اول)
عنوان: ندوہ شکن ندویِ فگن قاضی عبدالوحید فردوسی رحمہ اللہ (قسط: اول)
تحریر: محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: صوفیہ خاتون
منجانب: امجدى گلوبل اکیڈمی

نام و نسب

بعدِ ولادت “منظور النبی” تاریخی نام تجویز ہوا لیکن آپ قاضی عبدالوحید فردوسی کے نام سے مشہور و معروف ہوئے اور آپ شاعری میں اپنا تخلص “وحید” فرماتے تھے اور رسالوں اور گلدستوں میں “وحید عظیم آبادی” کے نام سے آپ کی تخلیقات شائع ہوا کرتی تھیں۔ قاضی صاحب کے والد کا نام قاضی عبدالحمید، دادا کا نام قاضی محمد اسماعیل، قدیمی تخلص، بن قاضی اکرام الحق قاضی امین الحق بن قاضی کمال الحق جو کہ بہترین فارسی کے شاعر تھے ان کے والد حضرت مفتی غلام یحییٰ تھے جو کہ محشی شَرْحِ آدَابِ الْمُرِيدِين تھے، قاضی صاحب کے نانا جناب سید شاہ امجد علی جروحی حاجی پور ضلع مظفر پور کے رہنے والے تھے۔

تعلیم و تربیت

حضرت فردوسی رحمہ اللہ نے درسی کتابیں شمس العلماء مولانا عبدالحق خیر آبادی رحمہ اللہ کے شاگردِ رشید مولانا سید عبدالعزیز چشتی صابری انمیٹھوی سے پڑھیں۔ پھر انگریزی تعلیم ایف اے تک پائی تھی، قاضی رضا حسین جو کہ قاضی عبدالحمید کے خالو کے بیٹے تھے، دونوں میں گہرے تعلقات تھے، قاضی رضا حسین کی تحریک سے قاضی عبدالحمید قاضی عبدالوحید کو اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان بھیجنا چاہتے تھے، لیکن قاضی عبد الوحید صاحب اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا بریلوی اور اعلیٰ حضرت تاج الفحول محب الرسول مولانا شاہ عبدالقادر فاضل بدایونی قدس سرہما کی تعلیمات کے زیر اثر انگریز اور انگریزی تعلیم سے بیزار ہو چکے تھے کیوں کہ آپ مغربی تعلیم کو مذہب کے لیے سُمِّ قَاتِل سمجھتے تھے بلکہ جب گھر سے انگریزی تعلیم کے لیے زیادہ زور پڑا تو احتجاجاً گھر چھوڑ دیا۔ جیسا کہ خود آپ کے صاحب زادے محققِ اردو قاضی عبدالودود لکھتے ہیں:

“عربی کی تکمیل اور انٹرنس کا امتحان پاس کرنے کے بعد کالج میں داخل ہوئے۔ ایف اے کے بعد میرے دادا انہیں قاضی رضا حسین کے مشورے پر انگلستان بھیجنا چاہتے تھے لیکن وہ کسی طرح اس پر راضی نہ ہوئے۔ یہی نہیں، یہاں رہ کر بھی انہوں نے مزید انگریزی تعلیم حاصل کرنے سے انکار کر دیا۔ وجہ یہ کہ وہ مغربی تعلیم و تہذیب کو مذہب کے لیے سُمِّ قَاتِل سمجھتے تھے۔”

بیعت و خلافت

آپ نے بیعت کا شرف “جناب حضور” بقیۃ الاولیاء حضرت سید شاہ امین احمد فردوسی منیری سجادہ نشین مخدوم شاہ شرف الدین یحییٰ منیری قدس سرہ کے دستِ حق پرست پر حاصل کیا۔ نیز اعلیٰ حضرت عظیم البرکت شاہ امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے آپ کو اپنی خلافت سے نوازا۔

خدمات

آپ علیہ الرحمہ کے ذہن و فکر اور قلب و جگر میں دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت اور مذہب و مسلک کی حفاظت و صیانت کا جذبہ صادق بحرِ بےگراں کی طرح موجیں مار رہا تھا یہی وجہ ہے کہ حصولِ تعلیم سے فراغت کے بعد آپ مختلف طریقے سے مذہب و ملت کے لیے تن من دھن کے ساتھ وقف ہو گئے۔ جس کی ایک جھلک درج ذیل ہے:

تحریکِ ندوہ کا رد

تحریکِ ندوۃ العلماء ایک ایسی تحریک تھی جس نے شہد دکھا کر زہر پلانے کا کام خوب کیا، اسی کے سبب بہت سے علمائے اہل سنت بھی اس کے ساتھ ہو گئے لیکن بعض اہل نظر علمائے اہل سنت نے اس کے مفاسد کو بھانپ لیا اور مقدور بھر اس کا رد کیا جن میں قاضی عبدالوحید فردوسی علیہ الرحمہ کا نام نمایاں حضرات کی فہرست میں شامل ہے۔ آپ علیہ الرحمہ نے ندوۃ العلماء کے اس فریب کاری کو بے نقاب کیا جو پٹنہ کے جلسہ ندوہ میں دیا گیا کہ ندوہ کی مخالفت میں صرف مولانا عبدالقادر بدایونی، خواجہ عبدالصمد سہسوانی اور مولانا احمد رضا خان بریلوی سرگرم ہیں ورنہ تمام علماء و مشائخ ندوہ کے حامی تھے۔ قاضی صاحب نے اہل ندوہ کے اس غلط تاثر اور پروپیگنڈے کی حقیقت یوں آشکار کی کہ ندوہ کے رد میں ڈھائی سو سے زائد علماء و مشائخ اہل سنت کے خطوط کی اشاعت کی اور واضح کر دیا کہ اکثر علمائے اہل سنت تحریکِ ندوہ کے مخالف ہیں۔

رسالہ مخزنِ تحقیق ملقب بہ “تحفہ حنفیہ” کا اجرا

آپ علیہ الرحمہ نے مذہبِ حق اہل سنت و جماعت کی تائید و حمایت اور فِرْقَة ضَالَّة مُضِلَّة و عقائدِ باطلہ کی تردید و تغلیط میں ۱۳۱۵ھ کو ایک رسالہ بنام “مخزنِ تحقیق” معروف بہ “تحفہ حنفیہ” پٹنہ کا اجرا فرمایا۔ جس کے سرورق پر مرقوم عبارت سے ہی اجراے رسالہ کے مقاصد واضح تھے کیوں کہ سرورق پر لکھا ہوتا:

حِمَايَتِ إِسْلَام وَتَأْيِيدِ شَرْع وَأَصْحَابِ سُنَّت وَشِكَايَتِ بِدْعَت وَتَهْدِيدِ أَرْبَابِ ضَلَالَت وَبَطَالَت

اس رسالے میں قاضی صاحب کے مضامین بھی شائع ہوتے تھے نیز یہ رسالہ ۱۳۱۵ھ سے آپ کے انتقال ۱۳۲۶ھ کے بعد بھی چند برس جاری رہا جیسا کہ محسن رضا رضوی نے “قاضی عبدالودود ایک مختصر خاکہ” میں لکھا ہے:

“انہوں (یعنی قاضی عبدالوحید فردوسی) نے ایک دینی رسالہ ‘مخزنِ تحقیق’ جو ‘تحفہ حنفیہ’ کے نام سے مشہور تھا، ہر ماہ شائع کرنا شروع کیا۔ اس میں دوسروں کے علاوہ قاضی عبدالوحید صاحب کے مضامین بھی شائع ہوتے تھے۔ اس رسالے کے مہتمم (خلیفہ اعلیٰ حضرت) مولوی شاہ محمد ضیاء الدین پیلی بھیتی تھے۔ یہ رسالہ قاضی عبدالوحید کے انتقال (۱۳۲۶ھ/۱۹۰۸ء) کے بعد بھی چند برسوں تک جاری رہا”۔

مطبع حنفیہ کا قیام

آپ علیہ الرحمہ نے علمائے اہل سنت کی کتب، رسائل اور مضامین کی اشاعت کے لیے “مطبع حنفیہ” کے نام سے ایک پریس کا قیام بھی عمل میں لایا جس سے آپ کا اپنا رسالہ “تحفہ حنفیہ” پٹنہ کی بھی اشاعت ہوتی۔ نیز اسی مطبع سے اس زمانے میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے تقریباً ستر رسائل اور حَدَائِقِ بَخْشِش کی اشاعت ہوئی۔ چناں چہ پروفیسر فاروق احمد صدیقی تحریر فرماتے ہیں:

“مطبع حنفیہ سے اعلیٰ حضرت کی ستر کتابیں شائع ہوئیں۔ آپ کا نعتیہ دیوان ‘حَدَائِقِ بَخْشِش’ بھی پہلے تحفہ حنفیہ میں ہی شائع ہوا جو محرم الحرام ۱۳۲۵ھ کو شروع ہو کر ماہِ ربیع الاول ۱۳۲۶ھ میں اختتام کو پہنچا”۔

مدرسہ حنفیہ کا قیام

جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ آپ علیہ الرحمہ انگریزی تعلیم کو مذہب کے لیے سُمِّ قَاتِل سمجھتے تھے اس لیے آپ علیہ الرحمہ نے اجراے رسالہ اور قیامِ مطبع کی کامیابی کے بعد دینی تعلیم کی نشر و اشاعت کے لیے ایک مدرسہ بنام “مدرسہ حنفیہ” قائم فرمایا۔ اس مدرسہ کے افتتاح اور افتتاحی جلسہ میں کن حضرات کی شرکت ہوئی؟ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے پروفیسر صدیقی صاحب لکھتے ہیں:

“اسی طرح تحفہ حنفیہ کا فاتحانہ سفر جاری رہا اور بدمذہبیت اور ضلالت کے زور کو توڑتا رہا، پرچہ اور پریس کے قیام کے بعد قاضی صاحب کی ہمتِ عالی نے ایک مدرسہ کی بنیاد ڈال دی جس کا نام ‘مدرسہ حنفیہ’ رکھا گیا۔ ماہِ ربیع الاول ۱۳۱۸ھ کو اس کا افتتاح ہوا۔ افتتاحی جلسہ کی صدارت شاہ محمد کمال صاحب رئیسِ اعظم پٹنہ نے کی اور حضرت مولانا سید سلیمان اشرف نے علمِ دین کے موضوع پر شاندار تقریر فرمائی۔ بدایوں سے مولانا فضلِ حق (شاگرد مولانا عبدالکافی الہٰ آبادی) بلا کر صدر مدرس رکھے گئے۔ کچھ دنوں کے لیے مولانا سید دیدار علی الوری نے بھی مسندِ صدارت کو عزت بخشی رحمہ اللہ”۔

وفات

آپ رحمہ اللہ بڑی محنت و لگن اور جگر سوزی و عرق ریزی سے دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت، مذہب و مسلک کی حفاظت و صیانت اور علمِ دین کی نشر و اشاعت میں مصروفِ عمل تھے لیکن بارگاہِ ایزدی سے آپ صرف ۴۷ سال کی مختصر سی زندگی لے کر آئے تھے پھر ہونا کیا تھا۔ ۱۳۲۶ھ کو آپ شدید علیل ہوئے جس کی اطلاع اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ کو ملی پھر کیا ہوا؟ اس کی تفصیل پروفیسر صدیقی صاحب کی زبانی پیش ہے:

“اعلیٰ حضرت عظیم البرکت کو جب قاضی صاحب کی شدید علالت کی اطلاع ملی تو آپ عازمِ پٹنہ ہوئے۔ ۱۸/ ربیع الاول ۱۳۲۶ھ کو آپ کا ورودِ مسعود ہوا۔ فوراً قاضی صاحب کے پاس پہنچ کر ان کی مزاج پرسی کی، دیر تک ان کے پاس رہے۔ یہاں تک کہ وقتِ موعود آ پہنچا۔ ۱۹/ ربیع الاول شبِ چہار شنبہ کو دو بجے قاضی صاحب کی روح نے کمالِ فرج و سرور کی حالت میں قفسِ عنصری کو چھوڑا۔ حضرت مولانا ضیاء الدین صاحب پیلی بھیتی نے جنازہ کا آنکھوں دیکھا حال بڑی تفصیل کے ساتھ تحریر فرمایا ہے۔ ان کے مطابق حضرت محدثِ سورتی نے قاضی صاحب کو غسل دیا اور اعلیٰ حضرت نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔

اور قبرِ خاص میں یہ دونوں حضرات اترے۔ اس حقیر (مولانا ضیاء الدین) اور شاہ بغدادی نے جنازہ چارپائی پر سے اٹھا کر ان دونوں صاحبان کو دیا۔ قبر میں رکھنے کے بعد امام احمد رضا نے مرحوم کے چہرے سے پردہ ہٹا کر فرمایا کہ ‘حضرات دیکھیے! دین کی سچی مدد کرنے والوں کی بعدِ وفات حالت حیات سے بھی بڑھ کر پاکیزہ ہوتی ہے’۔”

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!