| عنوان: | زندہ لاشیں: ایک معاشرتی المیہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد ثاقب نظامی |
دل خراش منظر اور قبرستان کا واقعہ
آج ایک ایسا دل خراش منظر میری آنکھوں نے دیکھا جس نے وجود کے در و دیوار ہلا دیے۔ میرے گاؤں کے قدیم قبرستان میں ایک نوجوان، شراب کے نشے میں چُور، دیوار پھلانگ کر داخل ہو گیا۔ اس نے صدر دروازے کو اندر سے مقفل کر لیا، گویا اس نے دنیا اور معاشرے دونوں سے اپنے تعلق کی آخری گرہ بھی توڑ دی ہو۔
لوگوں نے بڑی جد و جہد کے بعد جب دروازہ کھولا تو وہ نوجوان ایک گمنام قبر کے پہلو میں بیٹھا تھا، نیم پاگلوں کی طرح بڑبڑا رہا تھا: "یہ میرے باپ کی قبر ہے!"
ہنسی کے پیچھے چھپا معاشرتی زوال
لوگ اس کی اس بات پر قہقہے لگا رہے تھے، گویا کسی تماشے کا منظر ہو۔ لیکن میری آنکھیں اُس ہنسی میں چھپے معاشرتی زوال کے آنسو تلاش کر رہی تھیں۔ میں سوچنے لگا، کیا واقعی وہ غلط کہہ رہا تھا؟
نہیں! اُس کی بات سچ تھی، کیونکہ جس باپ کی موجودگی میں بیٹا اس حال کو پہنچ جائے، وہ باپ جسمانی طور پر چاہے زندہ ہو، مگر روحانی و اخلاقی اعتبار سے مدت ہوئی مر چکا ہوتا ہے!
زندہ لاش: روحانی اور اخلاقی موت
ہاں! اس کا باپ مر چکا ہے، کیونکہ جو باپ اپنی اولاد کو شراب کے نرغے میں دھنسنے سے نہ بچا سکے، جو اپنی اولاد کو اخلاق و کردار کے زیور سے نہ آراستہ کر سکے، جو اپنے بیٹے کی بے راہ روی پر خاموش تماشائی بنا بیٹھا رہے، وہ زندہ نہیں بلکہ زندہ لاش ہے!
آج کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ ہماری گلیوں، بازاروں، محلوں اور قبرستانوں میں ایسے ہی ہزاروں زندہ لاشے سانس لے رہے ہیں۔ جن کے دلوں سے محبت، غیرت، تربیت، اور احساس کی شمع کب کی بجھ چکی ہے۔
معاشرے کا ناسور اور باپ کا کردار
یقین مانیے! قبر میں لیٹنے والا مردہ خطرناک نہیں ہے، لیکن معاشرے میں چلتا پھرتا مردہ پورے سماج کے لیے ناسور بن جاتا ہے۔
اگر باپ واقعی زندہ ہو، تو اس کی اولاد کبھی قبرستان میں جا کر باپ کی متلاشی نہ ہو، بلکہ اس کی گود ہی اس کے لیے جنت کا باغ بن جاتی ہے۔
