| عنوان: | فریبِ پیری کا نیا چہرہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد ثاقب نظامی |
زمانہ بدل گیا، مگر افسوس! قوم کے زخم وہی پرانے ہیں، صرف ان کے مسیحا بدل گئے ہیں۔ میرے گاؤں کا ایک ایسا شخص، جو "یاسر پیر" کے نام سے معروف ہے، آج ایک نئے فتنۂ پیری کا چہرہ بن چکا ہے۔ نہ اسے علم کی رمق حاصل ہے، نہ سلوک و طریقت کی کوئی خو، نہ وہ علما کی صحبتوں میں پلا، نہ اولیاء کی مجالس میں بیٹھا۔ بس اچانک ایک روز لباس بدلا، داڑھی رکھی، اور تسبیح ہاتھ میں لے کر روحانیت کی دنیا میں داخل ہو گیا — گویا پیری ایک تماشہ ہو، ایک کردار ہو جو جیسے چاہو ادا کر لو۔
القابات کا ناجائز استعمال اور روحانی ورثے پر ڈاکہ
یہ شخص اپنے نانا کے موروثی نام پر پیری مریدی کا کاروبار چلا رہا ہے۔ وہ نانا، جو نہ علمِ دین کے شناور تھے، نہ تقویٰ و طہارت کے کسی خاص مقام پر فائز، آج ان کے لیے وہ القابات لکھوائے جا رہے ہیں جو صرف غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ جیسے مجددینِ ملت کے لیے مخصوص ہیں: "پیرانِ پیر، میرِ میراں، سلطان الاولیاء"!
یہ صرف ایک اشتہاری فریب نہیں، بلکہ دینِ اسلام کے روحانی ورثے پر ڈاکہ ہے! یہ القابات تاریخِ تصوف کے آفتاب و ماہتاب بزرگوں کا زیور تھے، نہ کہ ایسے افراد کا جن کی ساری زندگی بازاروں اور کوچہ و بازار کی گلیوں میں گزری ہو، اور جنہوں نے دین کے کسی میدان میں ذرّہ برابر قربانی نہ دی ہو۔
اقبال ایسے فتنوں کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتے ہیں:
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن
گفتار میں، کردار میں، اللہ کی برہان
جب مومن کے کردار میں اللہ کی دلیل ہو، تو ایک فریب کار مقلد، جھوٹی پیری کا تاج سر پر رکھ کر کیسے عوام کے ایمان کو خرید سکتا ہے؟
یہ وہ یاسر پیر ہے جسے میری آنکھوں نے اسکول و کالج کی راہوں میں دیکھا۔ عام نوجوانوں کی طرح، کھیلتا، ہنستا، وقت ضائع کرتا۔ نہ اس نے کسی شیخِ کامل کے قدموں میں زانوئے تلمذ تہہ کیا، نہ کسی مکتبِ فقہ و حدیث سے علم حاصل کیا۔ آج وہ تختِ پیری پر براجمان ہے، اور معصوم عوام اس کے ہاتھوں بیعت کر رہے ہیں — کتنا المیہ ہے یہ!
حقیقی فقر اور فکرِ اقبال
علامہ اقبال فرماتے ہیں:
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری
کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری
خانقاہیں اگر فقرِ ریا کا گڑھ بن جائیں، تو اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ حقیقی پیری وہی ہے جو شبیریؓ مشن کو لے کر میدان میں اترے، ظالم کے خلاف کلمۂ حق بلند کرے، اور عوام کو خوابِ غفلت سے جگائے۔
علماء اور اہلِ بصیرت کے لیے دعوتِ بیداری
اے علما، مشائخ، اور اہلِ بصیرت! کیا یہ وقت خاموشی کا ہے؟ کیا روحانیت کا یہ تماشہ دیکھتے رہنے دیا جائے؟ اگر آج ہم نے اس فتنہ کی بیخ کنی نہ کی تو کل یہ دائرہ وسیع ہو جائے گا، اور پیری محض ایک خاندانی وراثت بن کر رہ جائے گی — جیسا کہ یہ نام نہاد پیر چاہتا ہے۔
جہان تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا
(اقبال)
قوموں کے مستقبل نعرے بازی سے نہیں، افکارِ تازہ سے بنتے ہیں۔ اور افکارِ تازہ انہی کے ہوتے ہیں جو علم، تقویٰ اور اخلاص کے پیکر ہوں — نہ کہ جھوٹے پیر، جو روحانیت کا لباس اوڑھ کر زہر پھیلائیں۔
لہٰذا یہ محض ایک تنبیہ نہیں، ایک دعوتِ بغاوت ہے اس جھوٹی پیری کے خلاف، اس موروثی دجل کے خلاف، جو دین کے نام پر عوام کی بصیرت کو زنگ آلود کر رہا ہے۔ آئیں! اقبال کی زبان میں صدائے حق بلند کریں:
اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق
