| عنوان: | ہمارا مرشد، ہمارا پیر کون؟ |
|---|---|
| تحریر: | محمدثاقب نظامی |
مرشد کا سطحی تصور اور حقیقی معیار
مرشد کا تصور کیا ہے؟ کیا وہ جس کا چہرہ نورانی ہو، یا جس کے نسب کا شجرہ درخشاں ہو؟ کیا وہ جس کی زبان فصاحت و بلاغت کے مرقعے پیش کرے، یا جس کے گرد مریدین کا ہجوم ہو؟ اگر یہی پیمانے ہیں، تو ہم میں سے ہر دوسرا فرد مرشد ہونے کا اہل ہو سکتا ہے۔
چہرے کی نورانیتِ عالی نسبی، اور زبان کی فصاحت و بلاغت اگر رہبری کا معیار ہوتے، تو بلاشبہ دنیا بھر کی جامعات اور علمی حلقے ان اوصاف کے امین ہیں۔ نسب کی بلندی پر اگر پیر ہونا منحصر ہوتا، تو ہر سید زادہ اس مسند کا وارث ہوتا۔ لیکن رہبری اور مرشدیت کا مقام ان سطحی اوصاف سے کہیں بلند ہے۔
حقیقی پیر اور نام نہاد پیرانِ عظام
حقیقی مرشد وہی ہے جو علم و عمل کی جیتی جاگتی تصویر ہو، جس کا دل عشقِ رسول ﷺ کے جذبات سے منور ہو۔ وہ جو ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے نہ صرف زبان کھولنے کا حوصلہ رکھتا ہو بلکہ اپنی جان کی قربانی دینے کا جذبہ بھی رکھتا ہو۔ مگر آج، ہمارے نام نہاد پیرانِ عظام کے پاس سب کچھ ہے—دولت، اقتدار، اثر و رسوخ، مریدوں کی بے پایاں عقیدت—مگر افسوس، ان کے پاس وہ جرأت اور غیرت نہیں جو عشقِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا ہے۔
ناموسِ رسالت اور مصلحت پسندی
ناموسِ رسالت پر جب ایک کے بعد ایک وار ہو رہا ہے، تو ان کی خاموشی کیسی؟ ان کے مناصب کی زینت بنے مصلے اور تخت کیوں لرز نہیں رہے؟ وہ جو اپنی خانقاہوں کی آرائش و تزئین کے لیے عوام کے جذبات اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہیں، وہ جو اپنے مدارس کو عالی شان بنانے کے لیے عوامی عقیدت کا استحصال کرتے ہیں، وہ جو اپنی معاشی آسودگی کے لیے مریدوں کی خدمت کو اپنے مفاد کا ذریعہ بناتے ہیں، وہ تحفظِ ناموسِ رسالت کے وقت خاموش کیوں ہیں؟
خاموشی کا المیہ اور جعلی رہبر
کیوں نہیں یہ پیر صاحبان انقلاب کی چنگاری بنے؟ کیوں نہیں انہوں نے اپنی عوام کو بیدار کیا؟ کیا انہیں اس خوف نے خاموش کر دیا کہ ان کی سیاسی حیثیت ختم ہو جائے گی؟ کیا انہیں یہ اندیشہ تھا کہ گرد و غبار ان کی مصنوعی نورانیت کو دھندلا دے گا؟ یا یہ کہ عشقِ رسالت کے خار زار راستوں پر چلنے سے انہیں جیل کی سختیاں سہنی پڑیں گی؟
اگر ان کی خاموشی کی وجوہات یہی ہیں، تو انہیں جان لینا چاہیے کہ وہ قوم کے رہنما نہیں، بلکہ رہزن ہیں۔ وہ امت کے نگہبان نہیں، بلکہ اس کے اصل سرمایے کے لٹیرے ہیں۔ ان کے دلوں سے عشقِ رسول ﷺ کی حرارت رخصت ہو چکی ہے، اور وہ رہبری کے تقدس سے محروم ہیں۔
نوجوانوں کے نام پیغام اور بیداری کی ضرورت
اللّٰہ تعالیٰ ہماری نئی نسل کو ان رہزنوں سے محفوظ رکھے اور ایسے رہبر عطا فرمائے جو عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے عملی مظہر ہوں، جو حق کی پاسداری کے لیے اپنی جانوں کی بازی لگانے سے نہ ہچکچائیں، اور جو امت کو بیداری کی نئی راہ دکھا سکیں۔
یہ وقت ہے کہ نوجوان اپنی بصیرت کو تیز کریں اور ان دعویداروں سے سوال کریں:
کیا آپ کی خانقاہیں ہی دین کا مرکز ہیں؟
کیا آپ کی خاموشی، دین کی عزت پر حرف آنے کا جواز بن سکتی ہے؟
کیا آپ کے اقتدار کا تحفظ، ناموسِ رسالت ﷺ سے زیادہ اہم ہے؟
آج ہم سب کو اس سوچ کو بدلنا ہوگا۔ مرشد وہ نہیں جو صرف الفاظ کے جادوگر ہوں، بلکہ وہ ہے جو امت کی قیادت میں قول و عمل کا نمونہ بنے۔ اگر تم نے ان جعلی رہبروں کا احتساب نہ کیا، تو یاد رکھو، یہ خاموشی تمہارے ایمان کی کمزوری کا سبب بنے گی۔
یہ وقت انقلاب کا ہے، اور اس انقلاب کا محور صرف اور صرف عشقِ مصطفیٰ ﷺ ہونا چاہیے!
