| عنوان: | واعظ بھی تو منبر پہ دعا بیچ رہا ہے |
|---|---|
| تحریر: | محمد ثاقب نظامی |
مفلس جو اگر تَن کی قَبا بیچ رہا ہے
واعظ بھی تو منبر پہ دعا بیچ رہا ہے
دونوں کو ہے درپیش سوال اپنے شِکَم کا
ایک اپنی خودی، ایک خدا بیچ رہا ہے
منبر کا تقدس اور تجارتی آلائش
یہ ایک المیہ ہے کہ آج کے بعض واعظین نے منبر کے مقدس مقام کو تجارت کی آلائش میں آلودہ کر دیا ہے۔ وہ منبر، جو کبھی تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب، اور اخلاص کی تعلیم کا محور ہوا کرتا تھا، آج ریاکاری، خودنمائی، اور دنیاوی حرص و ہوس کا میدان بن چکا ہے۔ یہ خطباء، جو خود کو دین کے امین اور امت کے رہبر گردانتے ہیں، دراصل دین کے سب سے بڑے مخرب اور اس کی پاکیزہ روح کے دشمن ہیں۔ ان کی زبانوں پر اگرچہ دین کے مقدس الفاظ کا ورد ہوتا ہے، لیکن ان کے دل دنیا کی محبت میں غرق اور نیتیں شہرت و زر کے طوفان میں ڈوبی ہوئی ہیں۔
دین کی دعوت یا منافع بخش کاروبار؟
یہ واعظین، جو قرآن و حدیث کی آیات کو اپنی خطابت کا حصہ بناتے ہیں، ان کا مقصد اصلاحِ امت نہیں بلکہ سامعین کے جذبات کو لبھانا اور اپنی جیبیں بھرنا ہوتا ہے۔ ان کی خطبات، جو بظاہر دین کی خدمت کے عنوان سے پیش کیے جاتے ہیں، درحقیقت دنیاوی مفادات کی تکمیل کا ذریعہ ہیں۔ وہ توکل علی اللہ کے موضوع پر وعظ دیتے ہیں، مگر ان کا اپنا توکل معاوضے اور سامعین کی تعداد پر منحصر ہوتا ہے۔ دین کی دعوت، جو کبھی انبیاء کا مشن تھا، ان کے ہاتھوں ایک منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔
ریاکاری، دکھاوا اور یومِ حساب
ایسے ریاکار واعظین نہ صرف دین کی اصل روح کو مسخ کر رہے ہیں بلکہ اپنی حرص اور دنیاوی خواہشات کے ذریعے دین کو ایک تمسخر کا سامان بنا رہے ہیں۔ وہ منبر پر کھڑے ہو کر آنسوؤں کے مظاہر اور جذبات کے کھیل کے ذریعے اپنی شہرت اور جاہ کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کی تقاریر میں اخلاص کی کمی اور دکھاوے کی فراوانی نمایاں ہوتی ہے۔ ان کا مقصد دلوں کو بدلنا نہیں بلکہ سامعین کی داد وصول کرنا اور اپنی شہرت کے چرچے سننا ہوتا ہے۔
قیامت کے دن ان کی حقیقت آشکار ہو جائے گی۔ جب وہ اللہ کے حضور اپنے اعمال کا حساب دیں گے اور دعویٰ کریں گے کہ انہوں نے دین کی خدمت کی، تو انہیں جواب ملے گا: "تم نے دین کی خدمت نہیں کی، بلکہ اپنے دنیاوی مفادات کی تکمیل کی۔ تمہارے اعمال میں اخلاص کی رمق تک نہ تھی؛ تمہارا مقصود محض دنیاوی شہرت اور مال و زر کا حصول تھا۔ آج تمہارے لیے صرف جہنم کی وعید ہے۔"
حقیقی خادمِ دین اور بیداری کا تقاضا
ایسے واعظین درحقیقت دین کے سب سے بڑے بدخواہ ہیں، کیونکہ ان کی ریاکاری اور دنیاوی خواہشات نے دین کی اصل روح کو پامال کر دیا ہے۔ وہ جذبات کے ذریعے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں، مگر ان کے دل اللہ کے خوف اور خلوصِ نیت سے خالی ہیں۔ ان کی حقیقت کو بے نقاب کرنا اور ان کے خلاف آواز بلند کرنا ہر مخلص مسلمان کا فرض ہے۔ اس حوالے سے یہ اشعار ان پر صادق آتے ہیں:
لبوں پہ صداقت، دلوں میں کدورت ___یہی ہے امتوں کے زوال کی صورت
ہمیں چاہیے کہ صرف انہی علماء و خطباء کو اہمیت دیں، جو بے لوث اور خالص نیت کے ساتھ دین کی خدمت کے لیے کوشاں ہیں۔ دین ایک مقدس امانت ہے، اور اس امانت کے ساتھ خیانت کرنے والے واعظین اصلاح کے نہیں بلکہ احتساب کے مستحق ہیں۔ ان کے خلاف بیداری پیدا کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے تاکہ دین کی اصل روح کو پھر سے زندہ کیا جا سکے۔
