عورت شعورِ انسانیت کی تعمیرِ نو کی معمار اسلام میں عورت کا مقام

عورت شعورِ انسانیت کی تعمیرِ نو کی معمار
عنوان: عورت شعورِ انسانیت کی تعمیرِ نو کی معمار
تحریر: محمد ثاقب نظامی

زمانۂ جاہلیت میں عورت کی زبوں حالی

"دنیا کی چیزیں صرف مال و متاع ہیں اور دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے۔"

انسانیت کی قدیم تاریخ بڑی ہی دردناک اور کرب ناک ہے۔ یہ انسانیت کی پیشانی پر ایک بدنما داغ ہے کہ جس کے آغوشِ عاطفت میں انسان نے پرورش پائی، اسی آغوش کو زخمی کیا۔ جس ہستی نے انسان کو بلندیوں پر پہنچایا، انسان نے اسی کو پستیوں میں دھکیل دیا۔ ظہورِ اسلام سے قبل صنفِ نازک معاشرے میں زبوں حالی کا شکار تھی۔ انسانوں کے خود ساختہ اصولوں نے ہمیشہ اس کے ساتھ ناانصافیاں برتیں۔ عرب کے جاہلی معاشرے میں خواتین کے ساتھ عمومی بدسلوکی عام تھی۔ وہ بھی جانوروں اور سامان کی طرح وراثت میں منتقل ہوتی رہتی تھیں۔ مرد تو اپنے تمام حقوق وصول کرتے تھے، لیکن عورت اپنے حقوق سے مستفید نہیں ہو سکتی تھی۔ کھانے میں بھی بہت سی ایسی چیزیں تھیں جو مردوں کے لیے خاص تھیں اور عورتیں ان سے محروم تھیں۔

لڑکیوں سے نفرت اس درجہ بڑھ گئی تھی کہ انہیں زندہ درگور کرنے کا بھی رواج تھا۔ احادیث کی کتابوں میں ملتا ہے کہ ایک صحابیِ رسول رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: "میں نے اپنی گیارہ سالہ بیٹی کے لیے ایک گڑھا کھودا اور اسے زبردستی اس میں دھکیل کر اوپر سے مٹی ڈالنی شروع کر دی۔ وہ بچی بہت چیخی چلّائی، لیکن میں برابر اپنا کام کرتا گیا۔ یا رسول اللہ! آج بھی اس بچی کی دردناک چیخیں میرے کانوں میں گونج رہی ہیں اور میرا دل پاش پاش ہو رہا ہے۔" آنحضرت ﷺ یہ واقعہ سن رہے تھے اور آپ ﷺ کی آنکھیں اشک بار تھیں۔ صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اسلام کے ظہور تک میں تین سو زندہ درگور ہونے والی لڑکیوں کو فدیہ دے کر بچا چکا تھا۔

ہمارے ہندوستان کے احوال بھی صنفِ نازک کے حوالے سے کچھ مختلف نہ تھے۔ یہاں بھی بیوہ عورتیں مستحقِ طعن و تشنیع سمجھی جاتی تھیں۔ عموماً انہیں شوہر کے ساتھ ستی ہونے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ ان کی قسمت میں طعن و تشنیع اور ذلت کے سوا کچھ نہ ہوتا۔ بیوہ ہونے کے بعد انہیں اپنے متوفی شوہر کے گھر کی لونڈی یا دیوروں کی خادمہ بن کر رہنا پڑتا۔ مشرقِ بعید، یعنی چین میں، چھوٹی لڑکیوں کے پیروں کو باندھنے کی رسم کا مقصد یہ تھا کہ انہیں بے بس اور نازک رکھا جائے۔ یونان میں بھی صنفِ نازک قانونی، اخلاقی، معاشرتی اور سماجی حقوق سے محروم تھی۔ رومی تہذیب میں عورت کو زمرۂ انسانیت سے خارج تصور کیا جاتا تھا اور اس کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا تھا۔ ایران میں عورتوں کو باعثِ شرم و ندامت سمجھا جاتا تھا۔ الغرض، ایک ظالمانہ ماحول تھا۔ صنفِ نازک ظلم و ستم کے پہاڑ تلے کراہ رہی تھی۔ ہر جگہ اس کے اخلاقی اور معاشرتی حقوق پامال کیے جا رہے تھے۔

ظہورِ اسلام اور عورت کی عظمت کی بحالی

ایسے نازک وقت میں اسلام نے انسانیت کو جھنجھوڑا اور عورت کو اس کا فطری اور قدرتی حق دلایا۔ اسلام کی آمد عورت کے لیے غلامی، ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کا پیغام تھی۔ اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا قلع قمع کر دیا جو عورت کے انسانی وقار کے منافی تھیں، اور عورت کو وہ حقوق عطا کیے جن کی بدولت وہ معاشرے میں اسی عزت و تکریم کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق مرد ہیں۔ قرآنِ کریم کا اعلان ہوا:"اور عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے کے مطابق ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے ان پر ہیں۔" اسلام کی یہی انقلابی پکار تھی جس نے اقوامِ عالم کو یہ احساس دلایا کہ کسی بھی مخلوق پر ظلم سراسر ناجائز ہے۔

اسلام نے عورت کی عزت افزائی کی، ماں، بیوی، بہن اور بیٹی کے حقوق مقرر کیے۔ ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید باپ کے مقابلے میں زیادہ کی گئی۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:
"یا رسول اللہ! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟"
آپ ﷺ نے فرمایا:"تمہاری ماں۔"
انہوں نے پوچھا:"اس کے بعد کون؟"
آپ ﷺ نے فرمایا:"تمہاری ماں۔"
انہوں نے تیسری مرتبہ پوچھا:"اس کے بعد کون؟"
آپ ﷺ نے پھر فرمایا:"تمہاری ماں۔"
پھر پوچھا:"اس کے بعد کون؟"
آپ ﷺ نے فرمایا:"پھر تمہارا باپ۔"

نیک بیوی کو دنیا کی بہترین متاع قرار دیا گیا، بیٹیوں اور بہنوں کی تعلیم و تربیت پر جنت کی بشارت دی گئی، اور نبی کریم ﷺ نے اعلان فرمایا کہ: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کرے۔"

جدید دور کی نام نہاد آزادی اور اس کے نقصانات

الغرض، اسلام نے خواتین پر بے شمار احسانات کیے، لیکن ہائے افسوس! آج بعض خواتین کو اسلامی احکامات اچھے معلوم نہیں ہوتے۔ دشمنانِ اسلام نے اسلامی تعلیمات کی خوبیوں کو چھپایا اور نام نہاد برائیوں کو اچھال کر خواتین کے ذہنوں کو پراگندہ کر دیا، یہاں تک کہ وہ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے دور ہوتی چلی گئیں۔ ایک مشہور مورخ نے لکھا ہے کہ انسانی معاشروں کی تباہی میں عورت کی آزاد روی اور بے پردگی کا بڑا دخل ہے۔

ذرا غور تو کیجیے! خواتین کی بے پردگی نے جسمانی آرائش و زیبائش کا راستہ کھولا، پھر اس نے بے حیائی کی صورت اختیار کی، اور بے حیائی نے عریانی اور بدکرداری کے دروازے کھول دیے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ آج یورپ و امریکہ انسانوں کی سرزمین کم اور حیوانوں و درندوں کے جنگل زیادہ معلوم ہوتے ہیں۔ آج عورت کو عشق و محبت کے حوالوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہاں میں سعادت حسن منٹو کی ایک تحریر کا اقتباس پیش کرتا ہوں۔ منٹو لکھتے ہیں: "عورت سے محبت میں جسم ایک لازمی حصہ ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ان کی محبت پاک ہے اور انہیں جسم سے کوئی غرض نہیں، وہ سراسر جھوٹ بولتے ہیں۔ پاک محبت صرف خدا، اس کے رسول یا والدین کے لیے ہے۔ عورت سے محبت کا تصور جسم کے بغیر ناممکن ہے۔ اگر آپ کو کسی لڑکی سے محبت ہے اور آپ اس کے بارے میں جسمانی خیالات نہیں رکھتے تو یا تو آپ فرشتے ہیں یا پھر جھوٹ بولتے ہیں، یا وقتی طور پر خود کو دھوکا دے رہے ہیں۔ جسم کی کشش ایک فطری عمل ہے، البتہ اسے نکاح کے ذریعے حاصل کرنا چاہیے۔"

الغرض، آج ہمارے معاشرے میں عورتوں کے ساتھ وہی سب کچھ ہو رہا ہے جو ظہورِ اسلام سے قبل ہو رہا تھا۔ آئیے، ذرا موازنہ کریں۔ اس زمانے میں عورتوں کی عزت و عصمت کا نیلام سرِ بازار ہوتا تھا، تو آج بھی عورتیں مردوں کی ہوس رانی کا شکار ہیں۔ اگر زمانۂ جاہلیت میں عصمت فروشی اور قبیحہ گری کا کھلے عام بازار گرم تھا، تو آج بھی کسی نہ کسی نام اور کسی نہ کسی ثقافت کے پردے میں یہی کاروبار جاری ہے۔ ایامِ جاہلیت میں اگر عورتوں کا بے حجاب اور بے نقاب غیر مردوں اور اجنبیوں کے ساتھ خلط ملط رہنا ان کی تہذیب کا ایک نمایاں حصہ تھا، تو آج رقص و سرور کی محفلوں میں دست در دست حیا سوز حرکات آخر کس تہذیب کا آئینہ ہیں؟ زمانۂ جاہلیت میں اگر جذبات کو مشتعل کرنے والے مناظر عام تھے، تو آج بھی نیم عریاں لباسوں اور تنگ و چست ملبوسات میں ملبوس، اپنے حسن و آرائش کی کھلے عام نمائش کرنے والی لڑکیاں، جنہیں مغربی یلغار سے متاثر مرد اپنے اشاروں پر نچا رہے ہیں، آخر کس تہذیب و شائستگی کی یادگار ہیں؟

نئی تہذیب کا بھی عجب فلسفہ ہے۔ اگر عورت اپنے گھر میں رہ کر اپنے شوہر اور بچوں کے لیے کھانا پکائے تو اسے رجعت پسندی اور دقیانوسیت کہا جاتا ہے، لیکن اگر وہی عورت جہاز میں ایئر ہوسٹس بن کر سینکڑوں مسافروں کی خدمت کرے تو اسے آزادی اور جدت پسندی کا نام دیا جاتا ہے۔ اگر عورت اپنے گھر میں رہ کر ماں باپ، بھائی بہن اور خاندان کی خدمت کرے تو اسے قید اور ذلت سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر وہ دکانوں میں سیلز گرل بن کر اپنی مسکراہٹ سے گاہکوں کو متوجہ کرے یا دفاتر میں افسروں کی خدمت انجام دے تو اسے آزادی، ترقی اور کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔ افسوس، صد افسوس! ان خواتین کو معلوم نہیں کہ وہ دفاتر، دکانوں اور بازاروں کی زینت بن کر اپنی فطری حیا، وقار اور کشش کو رفتہ رفتہ کھو رہی ہیں۔ یہ دنیا اس وقت تک عورت کی قدر کرتی ہے جب تک اس میں جوانی کی بہار، حسن کی دلکشی اور ظاہری کشش باقی رہتی ہے۔ لیکن جب شباب ڈھل جاتا ہے، حسن ماند پڑ جاتا ہے، تو یہی معاشرہ اور ادارے اسے بوجھ سمجھ کر الگ کر دیتے ہیں۔

تجدیدِ عہد اور اسلام کی طرف واپسی کی دعوت

میری بہنو! اب ہوش کے ناخن لو، عقل و دانش سے کام لو۔ چند مکار لوگوں نے آزادی اور مساوات کے خوش نما نعروں کے ذریعے تمہیں تمہارے حقیقی مقام سے دور کر دیا ہے، اور تم دین و دنیا دونوں میں خسارے کا شکار ہوتی جا رہی ہو۔ جب تک تم پردے میں تھیں، ہر دل میں تمہاری عزت، قدر اور احترام تھا، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "عورت پردے کی چیز ہے، جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اسے بہکانے کی کوشش کرتا ہے۔" مگر آج تم اپنی سب سے قیمتی متاع، یعنی اپنی حیا اور وقار، کو کھوتی جا رہی ہو۔

آؤ! اسلام کی حدود کی طرف واپس لوٹ آؤ۔ آج بھی اسلام تمہیں دنیا کی بہترین متاع کہنے کے لیے تیار ہے:
«الدنيا متاع، وخير متاعها المرأة الصالحة»
ترجمہ: "دنیا ایک متاع ہے، اور دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے۔"
شرط صرف یہ ہے کہ تم اپنے اندر صالحیت پیدا کرو۔ اے حوا کی لاڈلیو! اپنے مقام و مرتبے کو پہچانو۔ اگر تم بیٹی ہو تو تمہارے لیے جنت کی بشارت ہے، اگر تم ماں ہو تو تمہارے قدموں کے نیچے جنت رکھی گئی ہے، اور اگر تم بیوی ہو تو قرآن نے تمہارے حقوق کو بھی مردوں کے حقوق کے برابر قرار دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے عورت کو فطری طور پر نازک مزاج بنایا ہے۔ اسی لیے شریعت نے اس کی فطرت، اس کی جسمانی ساخت اور اس کی نفسیاتی ضروریات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کے لیے ایسے احکام مقرر کیے جو اس کی عزت، عفت اور وقار کے محافظ ہیں۔ اسی بنا پر اسلام نے عورت کو گھر کی ملکہ قرار دیا اور اس کے احترام و تحفظ کو معاشرے کی ذمہ داری بنایا، اور یہ اعلان فرمایا کہ دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!