| عنوان: | دجالی فریب کا عہد اور اہلِ ایمان کی ذمہ داری |
|---|---|
| تحریر: | محمد ثاقب نظامی |
فتنۂ دجال: محض ایک روایتی موضوع نہیں
فتنۂ دجال کا تذکرہ محض ایک روایتی مذہبی موضوع نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کے اس آخری اور ہولناک مرحلے کی نشاندہی ہے جہاں عقل و فہم، علم و ترقی، اور ظاہری چمک دمک سب مل کر ایک ایسے امتحان میں ڈھل جائیں گے جس میں کامیابی صرف اسی کو نصیب ہوگی جس کا دل نورِ ایمان سے منور اور بصیرت قلبی سے روشن ہوگا۔ دجال، جس کے لفظی معنی ہی فریب، دھوکہ اور حقیقت پر پردہ ڈالنے کے ہیں، دراصل اسی تہذیبی اور فکری بحران کی علامت ہے جو انسان کو اس کے خالق سے دور اور مادّیت کے اندھیروں میں گم کر دیتا ہے۔
احادیثِ نبویہ میں دجال کا ذکر نہایت وضاحت اور تفصیل کے ساتھ ملتا ہے، جہاں اسے قیامت سے قبل ظاہر ہونے والے عظیم ترین فتنوں میں شمار کیا گیا ہے۔ یہ وہ دور ہوگا جب انسان اپنے علم و ہنر پر نازاں ہوگا، ٹیکنالوجی کی بلندیوں کو چھو رہا ہوگا، اور کائنات کے اسرار کو مسخر کرنے کا دعویٰ کر رہا ہوگا، مگر اسی غرورِ علم کے پردے میں وہ ایک ایسے فریب کا شکار ہو جائے گا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ دجال کا ظہور دراصل اس حقیقت کا اعلان ہوگا کہ محض مادی ترقی انسان کو نجات نہیں دے سکتی، بلکہ اگر اس کے ساتھ روحانی بصیرت نہ ہو تو یہی ترقی اس کے لیے ہلاکت کا سامان بن جاتی ہے۔
مادی طاقت، سائنسی ترقی اور دجالی آزمائش
یہ کہنا کہ دجال محض ایک انسانی یا غیر انسانی مخلوق ہوگا، اس مسئلے کی گہرائی کو محدود کر دینا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دجال ایک ایسی آزمائش کا نام ہے جس میں مادی قوتیں، سائنسی ترقی، اور شیطانی وساوس سب یکجا ہو کر انسان کے ایمان کو متزلزل کرنے کی کوشش کریں گے۔ احادیث میں اس کے جو اوصاف بیان ہوئے ہیں جیسے مردوں کو زندہ کرنا، بیماریوں کو دور کرنا، زمین کو سرسبز کرنا، بارش برسانا یہ سب دراصل اس کے فریب کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں، نہ کہ اس کے حقیقی خدائی اختیار کو۔ کیونکہ خالقِ حقیقی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اور جو کچھ دجال کے ہاتھوں ظاہر ہوگا وہ محض ایک آزمائشی پردہ ہوگا، ایک دھوکہ، ایک سراب۔
عصر حاضر میں جب ہم سائنسی ترقی کی رفتار پر نظر ڈالتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ وہ بہت سی چیزیں جنہیں کبھی معجزہ سمجھا جاتا تھا، آج انسانی ہاتھوں میں کھیلتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ کلوننگ، اعضا کی پیوندکاری، مصنوعی ذہانت، موسمی تبدیلیوں پر کنٹرول، اور بصری دھوکے پیدا کرنے والی جدید ٹیکنالوجیز یہ سب اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انسان ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں حقیقت اور فریب کے درمیان امتیاز کرنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم یہ کہنا کہ یہی چیزیں بعینہٖ دجال کا فتنہ ہیں، ایک سادہ لوحی ہوگی؛ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ یہ سب اس عظیم فتنے کی تمہید ہیں، اس کے لیے ذہنوں کو تیار کرنے والی کیفیات ہیں۔
نفسیاتی فریب اور وسائل پر اجارہ داری
دجال کا سب سے خطرناک پہلو اس کی ظاہری طاقت نہیں، بلکہ اس کا نفسیاتی اور فکری اثر ہے۔ وہ انسان کو اس کی بنیادی کمزوریوں لالچ، خوف، خواہش، اور دنیا پرستی کے ذریعے اپنی گرفت میں لے گا۔ وہ رزق پر کنٹرول حاصل کر کے لوگوں کو مجبور کرے گا، پانی اور غذا کو ہتھیار بنا کر انسانیت کو اپنے سامنے جھکنے پر آمادہ کرے گا، اور اپنی جھوٹی جنت و جہنم کے ذریعے حقیقت کو مسخ کر دے گا۔ یہ وہ مقام ہوگا جہاں ایمان صرف زبان کا اقرار نہیں رہے گا، بلکہ ایک عملی جدوجہد بن جائے گا، ایک ایسا امتحان جس میں دل کی سچائی ہی انسان کو ثابت قدم رکھ سکے گی۔
اگر ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کہ دنیا بتدریج اسی سمت میں بڑھ رہی ہے جہاں وسائل پر چند طاقتوں کا قبضہ ہے، جہاں معیشت، خوراک اور پانی جیسے بنیادی عناصر عالمی نظام کے تابع ہوتے جا رہے ہیں۔ انسان اپنی سہولتوں کے عوض اپنی آزادی کھو رہا ہے، اور ترقی کے نام پر ایک ایسے جال میں پھنستا جا رہا ہے جس سے نکلنا دن بدن دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ یہ سب مظاہر ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ دجال کا فتنہ محض ایک مستقبل کا واقعہ نہیں، بلکہ اس کی فکری اور تہذیبی بنیادیں آج ہی ہمارے درمیان موجود ہیں۔
مایوسی سے نجات: قرآنی رہنمائی اور روحانی تیاری
تاہم اس تمام منظرنامے میں مایوسی کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ اسلام نے نہ صرف فتنے کی نشاندہی کی ہے بلکہ اس سے بچنے کا راستہ بھی واضح کیا ہے۔ ایمان کی مضبوطی، قرآن سے تعلق، خصوصاً سورۂ کہف کی تلاوت، اور اللہ سے مسلسل پناہ طلب کرنا وہ ذرائع ہیں جو انسان کو اس فتنہ کی تاریکیوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ یہ وہ روحانی اسلحہ ہے جو کسی بھی مادی طاقت سے زیادہ مؤثر اور دائمی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دجال کا فتنہ انسان کو اس کے رب سے دور کرنے کی آخری کوشش ہوگا، مگر جو دل اللہ کی معرفت سے روشن ہوگا، وہ کسی فریب کا شکار نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ ایمان کے لیے اصل تیاری سائنسی یا مادی نہیں، بلکہ روحانی اور اخلاقی ہے۔ جب دل میں یقین کی شمع روشن ہو، تو بڑے سے بڑا اندھیرا بھی اسے بجھا نہیں سکتا۔
علامہ اقبال کا پیغام اور حتمی کامیابی
علامہ اقبالؒ نے اسی حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا ہے:
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
پس، فتنۂ دجال کا تذکرہ ہمیں خوفزدہ کرنے کے لیے نہیں، بلکہ بیدار کرنے کے لیے ہے یہ یاد دلانے کے لیے کہ دنیا کی چمک دمک عارضی ہے، اور اصل کامیابی اس ایمان میں ہے جو ہر آزمائش کے مقابل ڈٹ جائے۔
