| عنوان: | حضرت مجددِ الفِ ثانی رضی اللّٰہ عنہ کی دینی و اصلاحی خدمات |
|---|---|
| تحریر: | محمد مشرف علی حنفی القادری |
تیغی جامع مسجد میں جمعہ کا خطاب
الحمد للّٰہ رب العالمین۔ آج بروز جمعہ، تیغی جامع مسجد، چہرہ، ضلع ویشالی (بہار) میں جمعہ کے مختصر خطاب میں عظیم مجددِ اسلام، امامِ ربانی، عالم علومِ مقطعات قرآنی، مجددِ الفِ ثانی، حضرت شیخ احمد سرہندی فاروقی رضی اللّٰہ عنہ کی بے مثال دینی، علمی اور اصلاحی خدمات پر روشنی ڈالنے کی سعادت حاصل ہوئی۔
فتنۂ اکبری کا ظہور اور امام ربانی کی استقامت
خطاب میں اس دور کے نہایت خطرناک فتنہ، یعنی فتنۂ اکبری کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کیا گیا، اور بتایا گیا کہ کس طرح اس باطل نظام کے ذریعے اسلامی شعائر کو مٹانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ اس کے تحت آتش پرستی کی ترویج، بادشاہ کو سجدہ کرنے کا تصور، نماز، روزہ اور حج جیسے بنیادی اسلامی فرائض سے بے رغبتی پیدا کرنا، گائے کے ذبیحہ پر پابندی اور دیگر متعدد غیر اسلامی نظریات کو رواج دینے کی سعی کی گئی۔
اس نازک دور میں حضرت امامِ ربانی مجددِ الفِ ثانی رضی اللّٰہ عنہ نے نہایت جرأت، حکمت اور استقامت کے ساتھ ان فتنوں کا مقابلہ کیا اور اسلام کی صحیح تعلیمات، عقائدِ اہلِ سنت اور شعائرِ اسلام کے تحفظ کے لیے ایسی تاریخی جد و جہد فرمائی جس کے اثرات آج تک امتِ مسلمہ محسوس کر رہی ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کا خراجِ تحسین
اسی مناسبت سے بارہویں صدی کے عظیم محدث، مجدد، مفسر اور مصلح حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مشہور قول بیان کیا گیا کہ اگر حضرت مجددِ الفِ ثانی رضی اللّٰہ عنہ دینِ الٰہی کے خلاف علمِ حق بلند نہ کرتے تو نہ مدارس میں "قال اللہ، قال الرسول ﷺ" کی صدائیں بلند ہوتیں، نہ مساجد میں اذانوں کی آوازیں گونجتیں، نہ خانقاہوں میں ذکر و فکر کی محفلیں آباد ہوتیں۔ بلاشبہ آج دین کی جو رونق اور اسلامی شعائر کی جو بقا ہمیں نظر آتی ہے، اس میں حضرت مجددِ الفِ ثانی رضی اللّٰہ عنہ کی عظیم خدمات کا نمایاں حصہ ہے، اور امت ان کے احسانات کی مقروض ہے۔
سلسلۂ تیغیہ کی روحانی نسبت اور دعائیہ کلمات
خطاب کے اختتام پر حضرت سرکار سرکانہی شاہ محمد تیغ علی قادری مجددی آبادانی فریدی رحمۃ اللہ علیہ کا مختصر تذکرہ بھی کیا گیا اور حاضرین کو بتایا گیا کہ سلسلۂ تیغیہ اپنی روحانی نسبت میں حضرت مجددِ الفِ ثانی رضی اللّٰہ عنہ سے منسلک ہے۔ اس نسبت کی حفاظت، اس کے تقاضوں پر عمل اور حضرت مجددِ الفِ ثانی رضی اللّٰہ عنہ کی خدمات کو زندہ رکھنا ہم سب کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اکابر و اسلاف کی صحیح تعلیمات کو سمجھنے، ان سے محبت رکھنے، ان کی خدمات کو عام کرنے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔
