| عنوان: | رئیس القلم علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد عارف رضا قادری امجدی |
| پیش کش: | جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی |
جب بھی برصغیر کی علمی، دینی اور دعوتی تاریخ کے درخشاں ابواب کھولے جاتے ہیں تو بعض ایسی عظیم شخصیات سامنے آتی ہیں جنہوں نے اپنے علم، قلم، بیان اور اخلاص سے امتِ مسلمہ کی فکری و روحانی رہنمائی کی۔ انہی جلیل القدر ہستیوں میں حضرت علامہ محمد ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کا نام نہایت عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔ آپ مسلکِ اہلِ سنت و الجماعت کے ایک عظیم ترجمان، باوقار مفکر، بلند پایہ مصنف، سحر انگیز خطیب اور بے باک داعیِ اسلام تھے۔ آپ کی تحریروں میں علم کی گہرائی، عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو اور حق گوئی کی جرأت نمایاں تھی جبکہ آپ کے خطابات دلوں میں ایمان کی حرارت اور سنتِ مصطفیٰ ﷺ سے محبت پیدا کرتے تھے۔
آپ نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ دینِ اسلام کی سربلندی، عقائدِ اہلِ سنت کے تحفظ اور امت کی اصلاح و رہنمائی میں صرف کی جس کے اثرات آج بھی دنیا بھر میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ آپ نے اپنی پوری زندگی عقائدِ اہلِ سنت کی پاسبانی، باطل افکار کے رد، مسلکِ اعلیٰ حضرت کی ترویج اور اسلامی شعور کے احیاء میں صرف کر دی۔
نام و نسب:
آپ کا اصل نام غلام رشید تھا، مگر علمی و ادبی دنیا میں ارشد القادری کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ کے والد کا نام عبد اللطیف رشیدی تھا۔ یہ خاندان علم، تقویٰ اور سلوک میں معروف و ممتاز تھا۔
پیدائش اور ابتدائی تعلیم:
آپ کی ولادت ۵ مارچ ۱۹۲۵ء کو سید پورہ، ضلع بلیا (یوپی) میں ہوئی۔ دینی ماحول میں پرورش پائی اور بچپن ہی سے علم کی طرف رغبت تھی۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ پھر مسلسل ۸ سال تک عظیم محدث و مربی حافظِ ملت علامہ عبد العزیز مبارکپوری علیہ الرحمہ (بانی الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور) کی سرپرستی میں رہ کر اکتسابِ علم و فیض کیا۔ بعد ازاں آپ نے الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور سے ۱۹۴۴ء میں سندِ فراغت حاصل کی اور ممتاز طلبہ میں شمار کیے گئے۔
بیعت و خلافت:
خلیفہ اعلیٰ حضرت حضور صدر الشریعہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے آپ نے بیعت کی۔ اجازت و خلافت، خلیفہ اعلیٰ حضرت قطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین احمد مہاجر مدنی رحمۃ اللہ علیہ اور سرکارِ پٹنہ حضرت فدا حسین سے ملی۔
آپ نے ہندوستان کی عظیم درسگاہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور عربی یونیورسٹی میں جلالۃ العلم حضرت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مراد آبادی علیہ الرحمہ (حافظ ملت) کی بارگاہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی پوری زندگی قوم و ملت کی فلاح و بہبودی کے لیے وقف کردی تھی۔ آپ قوم و ملت کے سچے رہبر اور ہمدرد تھے، ہر لمحہ قوم و ملت کی فلاح و بہبودی کے لیے کوشاں رہتے تھے، ان کی ترقی کے لیے ہمیشہ جد و جہد کرتے رہتے تھے۔ اگر قوم و ملت پر کوئی دقت یا پریشانی آتی تو آپ خود پریشان ہوجایا کرتے تھے۔ آپ کا ہر ہر قدم ملت کی اصلاح اور دین اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے اٹھتا اور ہر لمحہ ملت کی ہی فکر لگی رہتی۔ آپ امت مسلمہ کو باہم متحد و متفق دیکھنا چاہتے تھے کیونکہ انھیں اپنے استاذ حضور حافظِ ملت کی بارگاہ سے علم و حکمت کے ساتھ یہ انمول موتی بھی ملا تھا کہ ’’اتحاد زندگی ہے اور اختلاف موت ہے‘‘۔ یہی وجہ تھی کہ امت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کی دیوار میں نقب زنی کرنے والوں سے ہمیشہ برسرِ پیکار رہے اور جماعت اہل سنت کو باہم متحد رکھنے کے لیے ہمیشہ جدوجہد کرتے رہے اور اس سلسلے میں جو بھی سامنے آیا علامہ موصوف نے بھرپور مقابلہ کیا۔
تدریسی و دعوتی خدمات:
فراغت کے بعد کچھ عرصہ ناگپور میں تدریسی خدمات انجام دیں، پھر ۱۹۵۲ء میں جمشیدپور کو اپنی علمی، دینی اور فکری سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ یہاں سے آپ نے ایک ایسے تعلیمی و دعوتی دور کا آغاز کیا جو نصف صدی سے زائد پر محیط رہا۔ ہزاروں تشنگانِ علم کو سیراب کیا، انہیں صرف علومِ دینیہ نہیں سکھائے، بلکہ دعوت کی جرأت، مسلکی غیرت اور فکری استقامت بھی عطا کی۔
تصنیفی خدمات:
علامہ ارشد القادری کا قلم صرف لکھتا نہیں تھا، بلکہ بولتا تھا اور دلوں پر اثر چھوڑ جاتا تھا۔ آپ کی تحریریں جہاں فکری بالیدگی عطا کرتی ہیں وہیں عقیدے کی پختگی اور جذبے کی حرارت سے لبریز ہوتی ہیں۔ آپ کی تصانیف کی تعداد ۳۰ سے متجاوز ہے۔ کچھ شہ پارے یہ ہیں: زلزلہ، زیرو زبر، تعزیرات قلم، نقش کربلا، لالہ زار، دعوتِ انصاف، شخصیات، زلف و زنجیر، افکار و خیالات، صدائے درویش، شعور و آگہی، انوار احمدی، تجلیاتِ رضا، کمالاتِ مصطفیٰ ﷺ، تبلیغی جماعت، اور جماعت اسلامی۔
مناظرانہ خدمات:
علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ نے قلم و تدریس کے ساتھ ساتھ منبرِ مناظرہ پر بھی اہلِ سنت کی حقانیت کا جھنڈا بلند کیا۔ آپ کے علمی مناظروں نے فتنہ پرور گروہوں کو بارہا لاجواب کیا اور حق کا غلبہ نمایاں کیا:
پہلا مناظرہ: کٹک (اڑیسہ) میں مولوی عبد اللطیف نعمانی کے ساتھ "حفظ الایمان" کی کفریہ عبارت پر، جس میں آپ نے دیوبندی موقف کو مکمل طور پر باطل ثابت کر دیا۔
دوسرا مناظرہ: چھپرا (بہار) میں مولوی عبد السلام لکھنوی کے ساتھ "سلام و قیام" کے مسئلہ پر جو ایک ہی دن میں اہلِ سنت کی شاندار فتح پر ختم ہوا۔
تیسرا مناظرہ: ضلع امراوتی (مہاراشٹر) میں مولوی ارشاد احمد مبلغ دارالعلوم دیوبند کے ساتھ تبلیغی جماعت کے موضوع پر۔
چوتھا مناظرہ: بولیا مندسور (راجستھان) میں مولوی ارشاد دیوبندی کے ساتھ "حفظ الایمان" کی کفریہ عبارت کے موضوع پر۔
پانچواں مناظرہ: ضلع دھنباد (جھارکھنڈ) میں مولوی طاہر گیاوی کے ساتھ، جس میں دونوں طرف سے اکابرین کے ایمان کو زیر بحث لایا گیا۔
چھٹا مناظرہ: کٹک (اڑیسہ) میں، جس میں دیوبندیوں نے تین مرتبہ اپنا مناظر تبدیل کیا لیکن آپ ہر مرحلہ میں اہلِ سنت کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈٹے رہے اور مناظرے کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔
یہ مناظرے نہ صرف علمی بصیرت اور فکری پختگی کی دلیل ہیں بلکہ آپ کی جراتِ ایمانی اور استقامت کی روشن مثال بھی ہیں۔
علمی، دینی اور تنظیمی خدمات:
آپ صرف فرد نہیں ایک ادارہ ساز شخصیت تھے۔ صرف اندرون ملک ہی نہیں بلکہ بیرونِ ملک بھی آپ نے دعوت و تنظیم کی بنیادیں رکھیں۔ ان میں سرِ فہرست ہیں:
• مدرسہ فیض العلوم – جمشیدپور
• جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء – دہلی
• ادارہ شرعیہ – پٹنہ
• جامعہ مدینۃ الاسلام – ہالینڈ
• دار العلوم علیمیہ – سورینام (جنوبی امریکا)
• دعوتِ اسلامی – عالمی دعوتی تحریک
• ورلڈ اسلامک مشن – لندن
وصال مبارک:
علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ۱۶ صفر المظفر ۱۴۲۳ھ مطابق ۲۹ اپریل ۲۰۰۲ء کو ہوا۔ آپ کی آخری آرامگاہ جامعہ فیض العلوم (جمشیدپور) کے احاطے میں ہے۔
اللہ رب العزت آپ کے مرقد پر رحمت و نور کی بارش فرمائے۔ اللّٰه تبارک و تعالیٰ حضور علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کے مرقد کو نور سے بھر دے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے اور امت کو ان کے افکار و نظریات سے مسلسل فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
وہ چلے گئے مگر اُن کی صدائیں اب بھی گونج رہی ہیں،
وہ قلم رکھ گئے مگر اُن کے الفاظ آج بھی دلوں کو گرما رہے ہیں۔
وہ پردۂ خاک میں سو گئے مگر اُن کا نور باقی ہے،
عارفؔ اُن کے علم و عمل کا فیض آج بھی جاری ہے۔
