علماء کی فضیلت (قسط: سوم) | مفتی جلال الدین احمد امجدی

علماء کی فضیلت (قسط: سوم)
عنوان: علماء کی فضیلت (قسط: سوم)
تحریر: حضرت فقیہِ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ عالم کی فضیلت عابد پر اس لیے بہت زیادہ ہے کہ علم کا فائدہ دوسرے کو بھی پہنچتا ہے اور عبادت کا فائدہ صرف عبادت گزار کو۔ نیز علم یا تو فرضِ عین ہے یا تو فرضِ کفایہ، اور زائد عبادت نفل ہے اور فرض کا ثواب بہر حال نفل سے زیادہ ہے۔ [مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج: 1، ص: 229]

اور حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ اس حدیث شریف میں اشارہ ہے کہ فضیلت اس عالم کو ہے جو لوگوں کو دین سکھاتا ہے تاکہ اس کے علم سے دوسروں کو فائدہ پہنچے اور وہ عبادت سے افضل ہو جائے جس سے لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچتا۔ [اشعۃ اللمعات، ج: 1، ص: 159]

7۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو مجلسوں کے پاس سے گزرے جو آپ کی مسجد میں تھیں، تو آپ نے فرمایا:

كِلَاهُمَا عَلَى خَيْرٍ، وَأَحَدُهُمَا أَفْضَلُ مِنْ صَاحِبِهِ، أَمَّا هَؤُلَاءِ فَيَدْعُونَ اللَّهَ وَيَرْغَبُونَ إِلَيْهِ، فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ، وَأَمَّا هَؤُلَاءِ فَيَتَعَلَّمُونَ الْفِقْهَ أَوِ الْعِلْمَ وَيُعَلِّمُونَ الْجَاهِلَ، فَهُمْ أَفْضَلُ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا، ثُمَّ جَلَسَ فِيهِمْ. [رواہ الدارمی / مشکوٰۃ شریف، ص: 34]

ترجمہ: یہ دونوں بھلائی پر ہیں مگر ان میں ایک مجلس دوسری سے افضل ہے۔ رہے یہ لوگ تو اللہ سے دعا کر رہے ہیں اور اس کی طرف رغبت ظاہر کرتے ہیں، اگر چاہے ان کو عطا فرمائے اور چاہے کچھ نہ دے۔ رہے یہ لوگ تو فقہ اور علم سیکھتے ہیں اور نہ جاننے والوں کو سکھاتے ہیں تو یہ افضل ہیں اور میں معلم ہی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم علم والی مجلس میں بیٹھ گئے۔

حدیث شریف کا خلاصہ یہ ہے کہ عبادت کی مقبولیت یقینی نہیں اور تعلیم کا فائدہ بہرحال ہے چاہے وہ تدریس کے طور پر ہو یا تصنیف کے طور پر۔ اس لیے کہ اس سے لوگ اپنے ایمان و عمل کو درست کرتے ہیں۔ اور دنیا میں حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا مقصد تعلیم ہے نہ کہ عبادت۔ اسی لیے علماء حضور کے وارث و جانشین ہیں۔

8۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے:

اَلْعُلَمَاءُ مَصَابِيحُ الْأَرْضِ، وَخُلَفَاءُ الْأَنْبِيَاءِ، وَوَرَثَتِي وَوَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ. [رواہ ابن عدی فی الکامل / کنز العمال، ج: 10، ص: 77]

ترجمہ: علماء دنیا کے چراغ ہیں اور انبیاء کے جانشین ہیں، اور میرے نیز دیگر انبیاء کے وارث ہیں۔

9۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

اَلْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، يُحِبُّهُمْ أَهْلُ السَّمَاءِ، وَيَسْتَغْفِرُ لَهُمُ الْحِيتَانُ فِي الْبَحْرِ إِذَا مَاتُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. [رواہ ابن النجار / کنز العمال، ج: 10، ص: 77]

ترجمہ: عالم نبیوں کے وارث ہیں۔ آسمان والے ان سے محبت کرتے ہیں، اور جب علماء انتقال کر جاتے ہیں تو مچھلیاں پانی میں قیامت تک ان کے لیے دعائے مغفرت کرتی ہیں۔

10۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

اتَّبِعُوا الْعُلَمَاءَ فَإِنَّهُمْ سُرُجُ الدُّنْيَا وَمَصَابِيحُ الْآخِرَةِ. [رواہ الدیلمی فی الفردوس / کنز العمال، ج: 10، ص: 77]

ترجمہ: عالموں کی پیروی کرو اس لیے کہ وہ دنیا اور آخرت کے چراغ ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!