علم چھپانے والے علماء | مفتی جلال الدین احمد امجدی

  1. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:

    مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ عَلِمَهُ ثُمَّ كَتَمَهُ أَلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ. [رواہ احمد وابوداود والترمذی وابن ماجۃ عن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ / مشکوٰۃ شریف، ص: 32]

    ترجمہ: جس شخص سے علم کی وہ بات پوچھی گئی کہ جسے وہ جانتا ہے، پھر وہ اسے چھپائے یعنی نہ بتائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام لگا دی جائے گی۔

  2. حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

    كَاتِمُ الْعِلْمِ يَلْعَنُهُ كُلُّ شَيْءٍ حَتَّى الْحُوتُ فِي الْبَحْرِ وَالطَّيْرُ فِي السَّمَاءِ. [رواہ ابن الجوزی فی العلل / کنز العمال، ج: 10، ص: 109]

    ترجمہ: علم چھپانے والے پر ہر چیز لعنت کرتی ہے یہاں تک کہ مچھلی پانی میں اور چڑیا ہوا میں۔

  3. حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

    أَيُّمَا رَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا فَكَتَمَهُ أَلْجَمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ. [رواہ الطبرانی / کنز العمال، ج: 10، ص: 109]

    ترجمہ: جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا اور وہ اس کو چھپائے تو خدائے تعالیٰ قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام لگائے گا۔

  4. حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

    مَنْ كَانَ عِنْدَهُ عِلْمٌ فَلْيُظْهِرْهُ فَإِنَّ كَاتِمَ الْعِلْمِ يَوْمَئِذٍ كَكَاتِمِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ. [رواہ ابن عدی فی الكامل / کنز العمال، ج: 10، ص: 125]

    ترجمہ: جس شخص کے پاس علم ہو تو وہ اس کو ظاہر کرے، اس لیے کہ علم چھپانے والا قیامت کے روز محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر نازل شدہ چیز کو چھپانے والے کی طرح ہوگا۔

  5. حضور سیدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:

    إِذَا ظَهَرَتِ الْفِتَنُ أَوْ قَالَ الْبِدَعُ وَلَمْ يُظْهِرِ الْعَالِمُ عِلْمَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا. [الصواعق المحرقہ، ص: 2 / الملفوظات، ص: 4]

    ترجمہ: جب فتنے ظاہر ہوں اور ہر طرف بددینی پھیلنے لگے اور ایسے موقع پر عالمِ دین اپنا علم ظاہر نہ کرے اور اپنی کسی مصلحت یا مفاد کی لالچ میں خاموش رہے تو اس پر اللہ کی، تمام فرشتوں کی اور سارے انسانوں کی لعنت ہے۔ اللہ نہ اس کا فرض قبول کرے گا اور نہ اس کی نفل۔

    جو عالم کہ حکمِ شرع جانتے ہوئے پوچھنے والے کو کسی مصلحت سے مسئلہ نہیں بتاتے حالانکہ سائل کو اس کی حاجت ہوتی ہے۔ یا موجودہ زمانہ میں جبکہ بددینی بہت تیزی سے پھیل رہی ہے مگر وہ کسی مفاد کے پیشِ نظر بددینوں کے خلاف اپنا علم ظاہر نہیں کرتے اور خاموش رہتے ہیں، وہ عالم ان حدیثوں سے نصیحت حاصل کریں۔

  6. حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے اپنے حجرۂ مبارکہ سے باہر تشریف لائے، اس وقت ایک اعرابی نے آپ سے کچھ دریافت کیا تو فرمایا:

    لَيْسَ هَذِهِ السَّاعَةُ سَاعَةَ فَتْوَى. [رواہ ابن السنی / کنز العمال، ج: 10، ص: 144]

    ترجمہ: فتویٰ کا وقت یہ نہیں ہے۔

(علم اور علما | صفحات: 109 تا 111)

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!