| عنوان: | علم اور علماء - طالب علم اور اس کی نیت |
|---|---|
| تحریر: | حضرت فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی |
طالب علم اور اس کی نیت
طلبِ علم سے دینِ اسلام کی تقویت اور اس کی نشر و اشاعت مقصود ہوتا کہ اللہ و رسول جل جلالہ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رضا و خوشنودی حاصل ہو۔ مال و دولت اور جاہ و حشمت ہرگز مقصود نہ ہو کہ اس نیت سے علمِ دین حاصل کرنے پر بے شمار وعیدیں وارد ہیں۔
پہلی حدیث شریف اور اس کی شرح
١. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللهِ لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَعْنِي رِيحَهَا."
(رواہ احمد و ابو داود و ابن ماجہ - مشکوٰۃ ص ۳۵)
ترجمہ: جس نے اس علم کو سیکھا جس سے خدا کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے، صرف اس نیت سے کہ اس کے ذریعہ دنیاوی سامان حاصل کرے، وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو نہیں پائے گا۔
اس حدیث شریف کی شرح کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص علمِ دین سے صرف دنیا کا قصد کرے وہ اس وعید کا مستحق ہے۔ اور اگر مقصود صرف اللہ کی رضا ہو مگر ساتھ میں دنیا اس لیے حاصل کی جائے تاکہ فراغت سے خدمتِ دین ہو تو حرج نہیں۔ اور اگر دین و دنیا دونوں مقصود ہوں تو نیت کے تناسب سے علم حاصل کرنے کا ثواب ہو جائے گا۔
دوسری حدیث شریف (اخلاصِ نیت اور ریاکاری کا انجام)
٢. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
لوگوں میں سب سے پہلے قیامت کے دن جس کا فیصلہ کیا جائے گا وہ شہید ہے، تو اسے حاضر کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کرائے گا تو وہ اقرار کرے گا۔ تو اللہ فرمائے گا تو نے اس کے شکریہ میں کیا کام کیا؟ عرض کرے گا تیری راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ قتل کر دیا گیا۔ اللہ فرمائے گا تو جھوٹا ہے، تو نے اس لیے لڑائی کی تھی کہ تجھے بہادر کہا جائے تو تجھ کو بہادر کہا گیا۔ پھر حکم ہوگا تو اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ آگ میں پھینک دیا جائے گا۔
اور (دوسرا) وہ شخص جس نے علم حاصل کیا، سکھایا اور قرآن پڑھا، اسے حاضر کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا اقرار کرائے گا تو وہ اقرار کرے گا۔ اللہ فرمائے گا تو نے اس کے بدلے میں کیا عمل کیا؟ عرض کرے گا میں نے علم حاصل کیا، سکھایا اور تیرے لیے قرآن پڑھا۔ اللہ فرمائے گا تو جھوٹا ہے، تو نے علم اس لیے حاصل کیا تھا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لیے پڑھا تاکہ تجھے قاری کہا جائے، تو وہ کہہ دیا گیا۔ پھر حکم ہوگا تو اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ آگ میں پھینک دیا جائے گا۔
"أَوَّلُ النَّاسِ يُقْضَى عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا فَقَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ قَالَ كَذِبْتَ وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ جَرِيٌّ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ قَالَ كَذِبْتَ وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ عَالِمٌ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوَ قَارِئٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ."
