| عنوان: | عاشقانِ رسول ﷺ ربیع الاول کیسے منائیں؟ |
|---|---|
| تحریر: | محمد ارمان علی علیمی |
مقدمہ اور آمدِ مصطفیٰ ﷺ کے ثمرات
طَلَعَ البَدْرُ عَلَيْنَا
مِنْ ثَنِيَّاتِ الوَدَاعِ
وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا
مَا دَعَا لِلّٰهِ دَاعٍ
عالمِ اسلام کو آمدِ ربیع الاول دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک باد!
ربیع الاول میں پہلا لفظ "ربیع" ہے، جس کے معنیٰ فصلِ بہار کے ہیں، جبکہ دوسرا لفظ "اول" ہے، جس کے معنیٰ پہلے کے ہیں۔ اس اعتبار سے ربیع الاول کا مکمل معنیٰ "پہلی بہار" بنتا ہے۔ ربیع الاول اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ہے۔ اسی مبارک مہینے کی ۱۲ تاریخ کو نبیِ معظم، حضورِ رحمۃ للعالمین، جنابِ احمدِ مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔
آپ ﷺ کی آمدِ مبارک سے دنیا میں ایک عظیم انقلاب برپا ہوا۔ مظلوموں کو ظلم سے آزادی حاصل ہوئی، بے سہاروں کو سہارا ملا، بے چاروں کی چارہ جوئی ہوئی، غلاموں کو پروانۂ حریت نصیب ہوا، زندہ درگور کی جانے والی بچیوں کو بچا لیا گیا، بیواؤں کو دہکتی آگ کے شعلوں سے نجات ملی اور دوبارہ ان کی شادیاں ہونے لگیں۔ ہزاروں سال سے دہکتی ہوئی آگ بجھ گئی، کعبۂ معظمہ سجدہ ریز ہو گیا، شام کے محلات رات کے اندھیرے میں نظر آنے لگے، بکریوں کے سوکھے تھن دودھ سے بھر گئے اور نعلینِ پاک کے دھون سے لوگ شفایابی حاصل کرنے لگے۔
اسی حقیقت کی ترجمانی کرتے ہوئے بریلی کے امام، امامِ عاشقاں فرماتے ہیں:
جن کے تلوؤں کا دھون ہے آبِ حیات
ہے وہ جانِ مسیحا، ہمارا نبی ﷺ
اسی نسبت سے ربیع الاول کا مہینہ عاشقانِ رسول ﷺ کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔
ربیع الاول کیسے منائیں؟
اب سطحِ ذہن پر ایک سوال ابھرتا ہے کہ آخر ایک عاشقِ رسول ﷺ اس مبارک و متبرک مہینے کو کس طرح منائے کہ اس کی طرف سے نبیِ رحمت ﷺ کی بارگاہِ کرم میں نذرانۂ عقیدت پیش ہو جائے؟
اس کا ایک سیدھا سا اور نہایت آسان جواب یہ ہے کہ میرے آقا و مولا ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"مَنْ تَمَسَّكَ بِسُنَّتِي عِنْدَ فَسَادِ أُمَّتِي فَلَهُ أَجْرُ مِائَةِ شَهِيدٍ." (مشکوٰۃ المصابیح)
ترجمہ: جو شخص میری امت کے فساد کے وقت میری سنت کو مضبوطی سے تھامے گا، اسے سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔
اس حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ فسادِ امت کے زمانے میں، یعنی بدعت، جہالت اور فسق و فجور کے غلبے کے وقت جو شخص سنت پر عمل کرے گا، اسے سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔ (مرقاۃ المفاتیح، ج 1، ص 422، تحت الحدیث: 176)
آج کا دور ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ کے لیے یقیناً امتحان کی گھڑی ہے۔ یہ نہایت سخت وقت ہے؛ صحیح معنوں میں شریعتِ اسلامیہ پر عمل پیرا ہونا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور فتنہ و فساد کا دور دورہ ہے۔ ایسے حالات میں اگر ایک عاشقِ رسول ﷺ اپنے نبیِ کریم، رؤف و رحیم ﷺ کی کسی مبارک سنت کو اپناتا ہے تو یہ اس کے لیے بہت بڑی کامیابی ہوگی۔
ہمارا عہد اور عملی اقدامات
لہٰذا ہم میں سے ہر شخص یہ عہد کرے کہ:
• آج ہی سے تمام نمازوں کی پابندی کرے گا۔
• روزانہ کم از کم ایک مسئلۂ شرعیہ سیکھے گا۔
• حضور نبیِ اکرم ﷺ کی ایک مبارک سنت کو اپنی زندگی میں اپنائے گا۔
• کسی غریب بچے کی کفالت کرے گا۔
• دینِ اسلام کی خدمت کے لیے اپنی حلال کمائی میں سے کچھ رقم نکالے گا۔
اگر ہم ان میں سے کسی ایک عمل کو بھی اپنی زندگی میں اختیار کر لیتے ہیں تو یہ ہماری طرف سے ہمارے نبی ﷺ کی بارگاہ میں ایک نذرانۂ عقیدت ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح معنوں میں سچا عاشقِ رسول بنائے اور شریعت کے مطابق ولادتِ رسول ﷺ منانے کی توفیقِ خیر عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!
